مہدی حسن خان آباد

مرزا مہدی حسن خان آباد خلف مرزا غلام جعفر خان اردو کے شاعر تھے۔ لکھنؤ میں ؁ 1809 عیسوی بمطابق 1228 ہجری کو پیدا ہوئے۔ ان کے بزرگ لکھنؤ کے عمائدین میں سے تھے۔ نواب تجمل حسین خان والیِ فرخ آباد سے بھی قرابت داری تھی۔ تمام عمر لکھنؤ میں فارغ البالی سے رہے۔ مجالسِ مشاعرہ کے دلدادہ تھے۔ شیخ امام بخش ناسخ سے تلمذ حاصل تھا اور پُر گوئی میں شہرت رکھتے تھے۔ دو سے زیادہ دیوان ، تین واسوخت اور ایک مثنوی ان سے یادگار ہے۔ ایک دیوان موسوم بہ “” نگارستان عشق ”” ؁ 1843 عیسوی میں مطبع مرتضوی لکھنؤ سے شائع ہوا۔ ایک واسوخت کا متن “”شعلہ جوّالہ”” میں شامل ہے۔ ان کی ایک کتاب “”بہار سخن”” بھی مشہور ہے۔ جس میں آتش و ناسخ کے بلمقابل ہم طرح غزلیں درج ہیں۔ بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ ہر بحر میں آباد کا ایک دیوان غزلیات تھا۔ اس بیان کو لالہ سری رام تسلیم نہیں کرتے لیکن نساخ کا بیان ہے کہ بعض دیوان اور واسوخت نظر راقم سے گزرے ہیں۔

نمونہ کلامترميم

رکھ لیا پردہ مرا قاتل تری تلوار نے

جسم عریاں پر احساں زخم دامن دار کا

طور کم کر نہ مرے بعد جفا کاری کا

حوصلہ تا کسی دشمن کو نہ ہو یاری کا

واللہ کیا ہے حسن بت پر غرور کا

بندوں کو شک ہوا ہے خدا کے ظہور کا

بگڑ گیا جو نکلتے ہی روح کا نقشا

طلسم تھا کوئی یا اپنا خانہ تن تھا

ماخذاتترميم

  • بزم سخن ، ص : 4 از سید علی حسن خان آگرہ 1881 ء
  • تذکرہ نادر ، ص: 17 از کلب حسین نادر لکھنؤ 1957
  • خمخانہ جاوید ، جلد اوّل ص : 1 از لالہ سری رام دہلی 1908
  • سخن شعراء ، ص: 3 از عبدالغفور نساخ لکھنؤ 1874
  • سراپا سخن ( تلخیص ) ص: 25 از سید محسن علی لکھنؤ 1967