محمد صالح المعروف میر تنہا یوسفی (پیدائش: 1 جنوری 1955ء– وفات: 26 اگست 2019ء) اردو اور پنجابی کے ناول نگار ادیب اور شاعر تھے۔ میر تنہا یوسفی کو 2005ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے کتاب ”کالا چانن“ پر سید وارث شاہ ایوارڈ سے نوازا گیا اس کے علاوہ مسعود کھدر پوش ایوارڈ سے تین دفعہ نوازا گیا اور رائٹرز گلڈ ایوارڈ بھی دیا گیا۔[1]

میر تنہا یوسفی
Mir tanha yousafi.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1955  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 26 اگست 2019 (64 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  ارضیات دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
سید وارث شاہ اعزاز
مسعود کھدر پوش اعزاز  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

میر تنہا یوسفی یکم جنوری 1955میں سیالکوٹ میں پیدا ہوائے۔ ان کی کتابیں ’’سورج اگن تائیں‘‘، ’لکنت‘‘، ’’تریہہ‘‘، ’’اک سمندر پار‘‘، ’’کھدو‘‘، ’’کالا چانن‘‘،’’تے فیر‘‘ اور ’’کیکر نوں پچھ‘‘ پنجابی اور اردو ادب کاسرمایہ ہیں 26 اگست 2019ء کو وفات پاگئے۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.nawaiwaqt.com.pk/28-Aug-2019/1055362
  2. "میر تنہا یوسفی کی ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سعد جنید۔". UrduPoint.