نسائیت کی دوسری لہر

1960ء کی دہائی کے بعد کا نسائیت کا دور

نسائیت کی دوسری لہر نسائیتی تحریک اور فکر کے اس عہد کا نام ہے جو انیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں ریاستہائے متحدہ امریکا میں شروع ہو کر ساری دنیا میں پھیلی۔ ریاستہائے متحدہ امریکا میں یہ لہر انیسویں صدی کی آٹھویں دہائی تک چلی۔ بعد ازاں یہ ایک بین الاقوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی جو یورپ اور ایشیا میں مضبوط تھی جیسا کہ ترکی اور اسرائیل میں جہاں یہ اسی کی دہائی میں اور دوسرے ممالک میں یہ مختلف وقتوں میں شروع ہوئی۔ پہلی لہر کی توجہ زیادہ تر حقوق رائے دہی کی تحریک اور قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کی طرف تھی تاکہ صنفی تضاد ختم ہو سکے۔[1] جیسا کہ حق رائے دہی، جائداد کے حقوق وغیرہ، جب کہ دوسری لہر نے بحث کو وسیع کیا اور نئے معاملات جیسا کہ جنسیت، خاندان، کام کی جگہ، افزائش کے حقوق، ڈی فیکٹو امتیازات اور سرکاری قانونی امتیازات کو اس تحریک میں شامل کیا۔[2] نسائیت کی دوسری لہر نے گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کے مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اس کے علاوہ زبردستی کی خطرناک صورت حال اور طلاق کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے کام کیا۔ کئی تاریخ دان نسائیت کی دوسری لہر کے، ریاستہائے متحدہ امریکا میں اسی کی دہائی کے اوائل میں عورت کی صنف کے جنسیت اور فحش نگاری جیسے معاملات پر لڑائیوں اندرون نسائیت اختلافات کے ساتھ ختم ہونے کا اشارہ کرتے ہیں اور نوے کی دہائی کے اوائل میں نسائیت کی تیسری لہر کے دور کا آغاز بتاتے ہیں۔[3]

شمالی امریکا میں نسائیت کی دوسری لہر دوسری جنگ عظیم کے بعد عورتوں کی نئی خانگی زندگی کے خلاف تاخیری رد عمل کے طور پر سامنے آئی۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "women's movement (political and social movement)"۔ Britannica Online Encyclopedia۔ اخذ شدہ بتاریخ جولائی 20, 2012 
  2. Pierceson, Jason, 1972-۔ Sexual minorities and politics : an introduction۔ Lanham, Maryland۔ ISBN 978-1-4422-2768-2۔ OCLC 913610005 
  3. As noted in: