قاضی نور اللہ شوشتری اکبر دور کے بہت معروف شیعی عالم  تھے۔

ولادت اور تعلیمترميم

 
نور اللہ شوشتری کا مزار

قاضی نوراﷲ شوشتری کی ولادت 956ھ/1549ء میں ہوئی۔ ان کے والد سید شریف حسینی مرعشی اور چچا سید صدر حسینی فقہ، اصول، تفسیر، حدیث کے استاد تھے۔ نوراﷲ 976ھ میں مشہد گئے اور ملا عبد الواحد مشہدی کے درس میں شرکت کی۔ درجہ فضل و کمال پر فائز ہوکر اساتذہ سے اجازے حاصل کیے۔

مغلیہ دربار میںترميم

991ھ میں شاہ فتح اﷲ شیرازی دربار اکبری میں شامل ہوئے تو انہوں نے مختلف باکمال شخصیات کو جمع کیا جن میں قاضی نوراﷲ شوستری بھی شامل تھے۔ شاہ فتح اﷲ شیرازی نے موصوف کو آگرے بلایا اور دربار اکبری میں پہنچایا۔ قاضی صاحب نے اپنے علم و فضل کے ذریعے دربار میں ایک مقام بنایا۔جب اکبر نے اپنا دار الحکومت 1585ء میں لاہور منتقل کیا تو سید نور اللہ شوشتری کو قاضی مقرر کیا اور انہوں نے اس منصب پہ اپنی عظیم صلاحتیوں کا مظاہرہ کیا اور نظام انصاف میں بدعنوانیوں کا خاتمہ کیا۔

سزائے موتترميم

26؍ربیع الاول 1019ھ کو شوستری جلاد کے سامنے لائے گئے۔ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ اس کے بعد انہیں ماردیا گیا۔[1]

ملا عبد القادر بدایونی کی رائےترميم

شیعہ مذہب کے پیروکار تھے اور نہایت منصف مزاج، عادل، نیک نفس، حیادار متقی تھے۔ شرفاء کی تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں۔ علم و فن، جدت طبع، تیز فہم، اور ذہانت و ذکاوت جیسی تمام خوبیوں سے آراستہ تھے۔ ان کی بڑی اچھی اچھی تصانیف ہیں۔ شیخ فیضی کی مہمل بے نقط تفسیر پر انھوںنے سرنامہ لکھا جو حدتعریف سے ماورا ہے۔ شعر گوئی کا طبعی ملکہ ہے نہایت دلکش اشعارکہتے ہیں۔ شیخ ابوالفتح کے توسط سے بادشاہ کی بارگاہ میں رسائی ہوئی تھی۔

[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Rizvi, ""A Socio-Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India"", Vol. I, pp. 377–83.
  2. http://rizvia.net/index.php?option=com_content&view=article&id=5164:2013-04-18-05-50-28&catid=90:2011-04-03-10-50-47&Itemid=43[مردہ ربط]