واجد علی شاہ

آخری تاجدار اودھ واجد علی شاہ نے جلاوطنی کے ایام شہر کولکتہ کے مٹیابرج میں گزارے انھیں علم و ادب سے بے پناہ لگاؤ تھا یہی وجہ ہے کہ ایک صدی گزرن

ریاست لکھنؤ کا نواب۔ 30 جولائی 1822 کو اودھ کے شاہی خاندان میں اس کی پیدائش ہوئی۔ اس کا پورا نام ابو المنصور سکندر شاہ پادشاہ عادل قیصر زماں سلطان عالم مرزا محمد واجد علی شاہ اختر تھا۔ اپنے باپ امجد علی شاہ کے بعد تخت نشین ہوا۔ نہایت ہی عیاش، رقص و موسیقی میں دلچسپی رکھنے والا رنگین مزاج نواب تھا۔

واجد علی شاہ
 

معلومات شخصیت
پیدائش 30 جولا‎ئی 1822ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 ستمبر 1887ء (65 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش لکھنؤ   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ریاست اودھ
برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ بیگم حضرت محل   ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد برجیس قدر   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد امجد علی شاہ   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
نواب اودھ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
13 فروری 1847  – 11 فروری 1856 
امجد علی شاہ  
بیگم حضرت محل  
عملی زندگی
پیشہ شاعر   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

دور حکومت

ترمیم

واجد علی شاہ کے دور حکومت میں دراصل واجد علی شاہ کے والد امجد علی شاہ کے دور تک آتے آتے ایسٹ انڈیا کمپنی فوجی اور سیاسی حیثیت سے اودھ کے معاملات میں اتنا حاوی ہو چکی تھی کہ اب وہ محض یہ موقع تلاش کر رہی تھی کہ اس حکومت کو کس طرح سے قبضے میں لے لیا جائے۔ لیکن واجد علی شاہ کی تخت نشینی 1847کے فوراً ہی بعد ان کے خلاف بدنظمی، ہیجان، انتشار اور ان کی نا اہلی اور عیاشی کے الزامات لگائے گئے جس کا علاج ان کی معزولی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ان کی تخت نشینی کے کچھ ہی عرصہ بعد لارڈ ہارڈنگ نے نومبر 1847 میں متنبہ کر دیا تھا کہ اگر سلطنت کے حالات میں سدھار نہ ہوا تو کمپنی اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔ لیکن 1849 میں جب کرنل سلیمن کو ریزیڈنٹ بناکر لکھنؤ بھیجا گیا تو اس کا اصل مقصد یہی تھا۔ بظاہر اس نے تین مہینے تک پوری ریاست کا دورہ کرنے کے بعد رعایا کی تباہ حالی اور کام کی سرکشی لاقانونیت اور قتل، لوٹ مار کی کیفیات رپورٹ کی شکل میں مرتب کی تھی اور یہی ان کی معزولی کا شاخسانہ بنی۔ جس کے باعث واجد علی شاہ کو اپنے لڑکے برجیس قدر کو 1857 میں تخت نشیں کر کے جلا وطن کر دیا گیا۔

فنون لطیفہ سے دلچسپی

ترمیم

واجد علی شاہ نہایت رنگین مزاج حکمران تھا۔ وہ صرف اردو کا شاعر ہی نہیں تھا بلکہ اسے رقص و سرور کے رمُوز پر بھی کمال حاصل تھا۔ گانے، بجانے، ڈرامے، شاعری، راگ راگنی کا ماہر تھا۔ کتھک رقص کو اس نے از سر نو زندہ کیا تھا۔ رہس، جو گیا، جشن اور اس قسم کی کئی چیزوں کو اس نے نہ صرف زندگی دی تھی بلکہ ان کے ماہرین کو بھی اس نے لکھنؤ


میں جمع کیا تھا۔ اسے یہ رموز استاد باسط خاں، پیارے خاں اور نصیر خاں نے سکھائے تھے۔ ان تمام چیزوں کی تربیت اور ارتقاءکے لیے اس نے لکھنؤ میں عالیشان قیصر باغ بارہ دری بنوائی جو آج بھی قائم ہے۔ اس نے خود کئی نئے راگ اور راگنیوں کی ایجاد کی۔ اتنا ہی نہیں اس نے تمام رموز پر الگ الگ کتابچے بھی لکھے تھے جن کی تعداد سو سے بھی زائد تھی۔

انتقال

ترمیم

اپنی جلا وطنی کے ہی دور میں 65 سال کی عمر میں یکم ستمبر 1887 کوکلکتہ کے مٹیا بر ج میں اس کا کا انتقال ہو گیا۔

نمونہ کلام

ترمیم

بابل مورا نیہر چھوٹو جائے

چار کہار میرا ڈولیا سجائے

مورا اپنا بیگانو چھوٹو جائے

آنگن تو پربت بھئیو اور ڈیری بھئی بدیش

جائے بابل گھر آپنو ں میں چلی پیا کے دیس

بابل مورا نیہر چھوٹو جائے