لکھنؤ (انگریزی: Lucknow, ہندی: लखनऊ) (تلفظ: سنیےi/ˈlʌkn/ Lakhna'ū) بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کا دار الحکومت اور اردو کا قدیم گہوارہ ہے نیز اسے مشرقی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں لکھنؤ ضلع اور لکھنؤ منڈل کا انتظامی صدر دفتر موجود ہے۔ لکھنؤ شہر اپنی نزاکت، تہذیب و تمدن، کثیر الثقافتی خوبیوں، دسہری آم کے باغوں اور چکن کی کڑھائی کے کام کے لیے معروف ہے۔ سنہ 2006ء میں اس کی آبادی 2،541،101 اور شرح خواندگی 68.63 فیصد تھی۔ حکومت ہند کی 2001ء کی مردم شماری، سماجی اقتصادی اشاریہ اور بنیادی سہولت اشاریہ کے مطابق لکھنؤ ضلع اقلیتوں کی گنجان آبادی والا ضلع ہے۔ کانپور کے بعد یہ شہر اتر پردیش کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ شہر کے درمیان دریائے گومتی بہتا ہے جو لکھنؤ کی ثقافت کا بھی ایک حصہ ہے۔

لکھنؤ
लखनऊ
Lucknow
اوپر سے گھڑی وار: بڑا امام باڑہ، چارباغ ریلوے اسٹیشن، رومی دروازہ، حضرت گنج، لا مارٹنیری اسکول، امبیڈکر میموریل پارک
عرفیت: نوابوں کا شہر ، بھارت کا سنہرا شہر قسطنطینیۂ مشرق، شیرازِہند
ملک  بھارت
ریاست اتر پردیش
ضلع لکھنؤ
حکومت
 • قسم میئر کونسل
 • جسم لکھنؤ شرکہ بلدیہ
 • میئر دنیش شرما (بی جے پی)
 • میونسپل کمیشنر آر کے سنگھ
 • رکنِ پارلیمان راجناتھ سنگھ (بی جے پی)
رقبہ[1]
 • میٹرو 2,528 کلو میٹر2 (976 مربع میل)
بلندی 123 میل (404 فٹ)
آبادی (2015)[2] 2,901,475
 • درجہ 11th
 • میٹرو[3] 4,588,455
نام آبادی لکھنوی، لکھنویٹ
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (UTC+5:30)
ڈاک اشاریہ رمز 2260xx / 2270xx
ٹیلیفون کوڈ +91-522
گاڑی رجسٹریشن UP 32
خام ملکی پیداوار $22 بلین[4]
جنسی تناسب 915 /
ویب سائٹ lucknow.nic.in

لکھنؤ اس خطے میں واقع ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔ لکھنؤ ہمیشہ سے ایک کثیر الثقافتی شہر رہا ہے۔ یہاں کے حکمرانوں اور نوابوں نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی خوب پذیرائی کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے نیز اسے مشرق کا سنہری شہر اور شیراز ہند بھی کہتے ہیں۔ آج کا لکھنؤ ایک ترقی پزیر شہر ہے جس میں اقتصادی ترقی دکھائی دیتی ہے اور یہ بھارت کے تیزی سے بڑھ رہےبالائی غیر میٹرو پندرہ شہروں میں سے ایک ہے۔ [5] لکھنؤ ہندی اور اردو ادب کے مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ اردو بولتے ہیں۔ یہاں کا لکھنوی انداز گفتگو مشہور زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہندی اور انگریزی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔

فہرست

تاریخترميم

روشن الدولہ کوٹھی قیصر باغ سے لی گئی لکھنؤ کی تصویر، 1858ء

قدیم تاریخ اور اشتقاقیاتترميم

قدیم دور میں لکھنؤ مملکت کوسل کا حصہ تھا۔ قدیم ہندو روایتوں کے مطابق یہ یہ رام کی وراثت تھی جسے انہوں نے اپنے بھائی لکشمن کے لیے وقف کر دیا تھا۔ چنانچہ اس کو لكشماوتی، لكشم پور یا لکھن پور کے نام سے جانا گیا، جو بعد میں بدل کر لکھنؤ ہو گیا۔ [6] یہاں سے ایودھیا 80 میل کی دوری پر واقع ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس شہر کا نام "لكھن اهير" جو "لكھن قلعہ" کے اہم فنکار تھے، کے نام پر رکھا گیا۔ تاہم دلت لوگوں کا ماننا ہے کہ "لکھن پاسی" جو علاقے کا دلت حکمران تھا یہ اس کے نام سے منسوب ہے، جسے "لکھن پور" کہا جاتا تھا جو گیارہویں صدی میں بگڑ کر لکھنؤ ہو گیا۔ [7][8] ایک اور مفروضہ کے تحت شہر کا نام دولت کی ہندو دیوی لکشمی کے نام پر ہے جو اصل میں "لکشمناوتی" سے "لکشمناوت" اور آخر کار لکھنؤ ہو گیا۔ [9]

جدید تاریخترميم

1350ء کے بعد سے سلطنت دہلی، سلطنت جونپور، مغلیہ سلطنت اور نواب اودھ، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج کے تحت لکھنؤ اودھ کا حصہ رہا ہے۔ جنگ آزادی ہند 1857ء کے دوران لکھنؤ بڑے مراکز میں سے ایک تھا۔ تحریک آزادی ہند میں بھی یہ ایک اہم شمالی ہندوستانی شہر کے طور پر ابھرا۔ 1719ء تک اودھ مغلیہ سلطنت کا ایک صوبہ تھا جس کا گورنر سعادت خاں برہان الملک تھا جس نے لکھنؤ کے قریب فیض آباد کو اپنا مرکز بنایا۔ [10]

تقریباً چوراسی سال (1394ء سے 1478ء) اودھ سلطنت جونپور کا حصہ رہا۔ 1555ء کے لگ بگ مغل شہنشاہ ہمایوں نے اسے مغلیہ سلطنت میں شامل کیا۔ شہنشاہ جہانگیر نے اسے ایک پسندیدہ شاہی افسر شیخ عبدالرحیم کو بطور ریاست عطا کیا۔ اس کے بعد یہ اس کی اولاد "شیخ زادوں" کے زیر رہا۔ [11]

اودھ کے نوابوں نے لکھنؤ کو اپنا دار الحکومت بنایا۔ شہر شمالی ہندوستان کا ثقافتی دارالحکومت بنا۔ اس وقت کے نواب، عیاش اور شاہانہ طرز زندگی کے لئے مشہور ہوئے جو فن کے قدردان و سرپرست تھے۔ ان کے دور میں موسیقی اور رقص کو فروغ ملا، اس کے علاوہ انہوں نے متعدد یادگاریں بھی تعمیر کیں۔ [13] ان میں بڑا امام باڑا، چھوٹا امام باڑا اور رومی دروازہ قابلِ ذکر ہیں۔ نوابوں کی خاص میراث میں خطے کی ہندو مسلم ثقافت کے میل جول کو گنگا جمنی تہذیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ [14]

مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد علاقے میں کئی خود مختار ریاستیں قائم ہوئیں۔ اودھ کے تیسرے نواب شجاع الدولہ کی نواب بنگال کی میر قاسم کی مدد کرنے پر انگریزوں سے ٹھن گئی۔ بکسر کی لڑائی میں تقریباً شکست کھانے کے بعد بھاری تاوان کے علاوہ ریاست کچھ حصے بھی انگریزوں کے حوالے کرنا پڑے۔ [15]

لکھنؤ کے موجودہ شکل کی بنیاد اودھ کے چوتھے نواب نواب آصف الدولہ نے 1775ء میں رکھی۔ اس نے دار الحکومت فیض آباد سے لکھنؤ منتقل کیا اور اس کو ترقی دی۔ [16] لیکن بعد کے نواب نااہل ثابت ہوئے۔ ان نوابوں کی نااہلی کے نتیجے میں آگے چل کر لارڈ ڈلہوزی نے اودھ کو بغیر جنگ کیے ہی حاصل کر کے سلطنت برطانیہ میں ملا لیا۔ 1850 میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ نے برطانوی تابعداری قبول کر لی۔

جغرافیہترميم

 
لکھنؤ شہر کا نقشہ

دریائے گومتی لکھنؤ کی اہم جغرافیائی خصوصیات میں سے ہے۔ لکھنؤ میں سندھ و گنگ کا میدان واقع ہے اور بہت سے دیہی قصبوں اور دیہاتوں سے گھرا ہوا ہے جن میں ملیح آباد، کاکوری، موہن لال گنج، گوسین گنج، لکھنؤ، چینہٹ, اور اتونجا شامل ہیں۔ مشرق میں بارہ بنکی ضلع، مغرب میں اناؤ ضلع، جنوب میں رائے بریلی ضلع جبکہ شمال میں سیتاپور ضلع اور ہردوئی ضلع واقع ہیں۔ [17]

آب و ہواترميم

لکھنؤ کی آب و ہوا مرطوب ذیلی استوائی ہے، فروری کے وسط نومبر تک خشک سردی، اواخر مارچ سے جون تک موسم خشک گرم ہوتا ہے۔ برسات کا موسم جولائی سے ستمبر کے وسط تک ہوتا ہے۔ موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25 ° س (77 ° ف) اور کم سے کم 7 ° س (45 ° ف) ہوتا ہے۔ [18] دھند اواخر جنوری سے وسط دسمبر میں بہت عام ہے۔ موسم گرما میں درجہ حرارت 45 ° س (113 ° ف) تا 40 ° س (104 ° ف) تک پہنچ جاتا ہے۔

آب ہوا معلومات برائے لکھنؤ (چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈا)
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 30.4
(86.7)
34.2
(93.6)
40.9
(105.6)
45.0
(113)
46.2
(115.2)
47.7
(117.9)
44.2
(111.6)
40.4
(104.7)
40.1
(104.2)
37.7
(99.9)
38.0
(100.4)
29.9
(85.8)
47.7
(117.9)
اوسط بلند °س (°ف) 22.5
(72.5)
25.8
(78.4)
32.0
(89.6)
38.0
(100.4)
40.0
(104)
38.4
(101.1)
33.9
(93)
33.2
(91.8)
33.1
(91.6)
32.8
(91)
29.2
(84.6)
24.6
(76.3)
32.0
(89.6)
اوسط کم °س (°ف) 7.5
(45.5)
9.8
(49.6)
14.5
(58.1)
20.5
(68.9)
24.6
(76.3)
26.7
(80.1)
26.0
(78.8)
25.6
(78.1)
24.1
(75.4)
19.1
(66.4)
12.8
(55)
8.4
(47.1)
18.3
(64.9)
ریکارڈ کم °س (°ف) −1.0
(30.2)
0.0
(32)
5.4
(41.7)
10.9
(51.6)
17.0
(62.6)
19.7
(67.5)
21.5
(70.7)
22.2
(72)
17.2
(63)
10.0
(50)
3.9
(39)
0.5
(32.9)
−1.0
(30.2)
اوسط بارش مم (انچ) 20.2
(0.795)
16.0
(0.63)
10.0
(0.394)
5.0
(0.197)
18.4
(0.724)
122.9
(4.839)
269.9
(10.626)
255.3
(10.051)
211.5
(8.327)
40.9
(1.61)
7.4
(0.291)
12.6
(0.496)
990.1
(38.98)
اوسط بارش ایام 1.5 1.5 1.0 0.6 1.6 5.4 12.0 11.6 8.6 1.7 0.5 0.8 46.8
ماخذ: India Meteorological Department (record high and low up to 2010)[19][20]

آبادیاتترميم

آبادی میں اضافہ 
مردم شماری آبادی
1871 284,800
1881 261,300 -8.3%
1891 273,000 4.5%
1901 264,000 -3.3%
1911 259,800 -1.6%
1921 240,600 -7.4%
1931 274,700 14.2%
1941 387,177 40.9%
1951 496,900 28.3%
1961 595,400 19.8%
1971 814,000 36.7%
1981 1,007,604 23.8%
1991 1,669,204 65.7%
2001 2,245,509 34.5%
2011 2,902,601 29.3%
source:[21]
لکھنؤ میں مذہب (2011)[22][23]
مذہب فیصد
ہندومت
  
75%
اسلام
  
22%
سکھ مت
  
0.56%
مسیحیت
  
0.7%
دیگر
  
1.34%

لکھنؤ میں شہری ہم بستگی کی آبادی 1981ء ایک ملین تھی۔ 2001ء کی مردم شماری کے تخمینے کے مطابق یہ 2.24 ملین تک بڑھ گئی۔ ان میں 60،000 افراد لکھنؤ چھاؤنی میں جبکہ 2.18 ملین لکھنؤ شہر میں آباد ہیں۔ [24]

نقل و حملترميم

سڑکیںترميم

 
لکھنؤ کی ایک سڑک

چار قومی شاہراہیں لکھنؤ کے حضرت گنج چوراہے سے شروع ہوتی ہیں، جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: [25]

شہر میں عوامی نقل و حمل کے لیے ٹیکسیاں، میٹرو بس، سائیکل رکشے اور آٹو رکشے دستیاب ہیں۔

اندرون شہر بسیںترميم

لکھنؤ شہر کی بس سروس اتر پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے زیر انتظام ہے۔ اس میں 9،500 کے مجموعی بیڑے سے 300 سی این جی بسوں موجود ہیں۔ شہر میں تقریباً 35 روٹ ہیں۔ [26] چار بس ڈپو گومتی نگر، چار باغ، اموسی، دوبگگا میں موجود ہیں۔ [27]

بین ریاستی بسیںترميم

بین ریاستی بسیوں کا اڈا بھیمراو رامجی آمبیڈکر بین ریاستی بس ٹرمینل لکھنؤ سے دیگر ریاستوں کو بس خدمات فراہم کرتا ہے جو نیشنل ہائی وے 25 پر واقع ہے۔ جبکہ قیصر باغ میں بھی ایک چھوٹا بس اڈا موجود ہے۔ اتر پردیش کے شہروں الہ آباد، وارانسی، جے پور، آگرہ، دہلی، گورکھپور کے لیے اتر پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن بس سروس فراہم کرتا ہے، جبکہ دیگر ریاستوں کے لیے بین ریاستی بس سروس جے پور، نئی دہلی، گوالیار، بھرت پور، راجستھان، سنگرولی، فریدآباد، گرگاؤں، دوسہ، اجمیر، ڈیرہ دون اور ہردوار کے لیے دستیاب ہے۔ [28]

ریلوےترميم

لکھنؤ شہر کے کئی علاقوں میں متعدد ریلوے سٹیشن موجود ہیں۔ جن میں اہم لکھنؤ جنکشن ریلوے اسٹیشن اور لکھنؤ جنکشن ریلوے اسٹیشن ہیں۔ لکھنؤ شہر ایک اہم جنکشن ہے جو ملک اور ریاست کے شہروں کو ملاتا ہے مثلاً نئی دہلی، ممبئی، کولکاتہ، چندی گڑھ، امرتسر، جموں، چینائی، حیدرآباد، دکن، بنگلور، احمد آباد، پونے، اندور، بھوپال، گوالیار، جبل پور، جے پور اور سیوان۔

شہر میں کل چودہ ریلوے سٹیشن ہیں جو براڈ گیج اور میٹر گیج سے دیگر اسٹیشنوں سے منسلک ہیں۔[29]

فضائی نقل و حملترميم

چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے لکھنؤ نئی دہلی، پٹنہ، کولکتہ، ممبئی، بنگلور، احمد آباد، حیدرآباد، چینائی، گوہاٹی اور ملک کے دیگر بڑے شہروں سے براہ راست منسکک ہے۔

اس کے علاوہ یہاں سے بین الاقوامی پروازیں ابوظبی، دبئی، مسقط، شارجہ، سنگاپور، بینکاک، دمام اور جدہ جاتی ہیں۔ [30]

میٹروترميم

لکھنؤ میٹرو اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں تعمیر کیا جانے والا کثیر نقل حمل (ماس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم) کا ایک نظام ہے۔اس کی تعمیر کا آغاز27 ستمبر 2014ء کو ہوا۔ [31]

سائکل سواریترميم

لکھنؤ اترپردیش کا سب سے زیادہ سائیکل دوستانہ شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں سائیکل سواری کے لیے خاص راستے موجود ہیں۔ ایمسٹرڈیم کی طرز پر اسے زیادہ سائیکل دوستانہ بنانے کے لئے نئی سائیکل راہیں شہر میں تعمیر کی جارہی ہیں، جہاں سائیکل کرائے پر لینے کی سہولیات بھی موجود ہیں۔ [32][33] 2015ء میں لکھنؤ میں لکھنؤ سائکلتھون (The Lucknow Cyclothon) نامی ایک قومی سطح سائیکلنگ ایونٹ کی میزبانی بھی کی۔ [34]

فن تعمیرترميم

لکھنؤ کی عمارتیں مختلف طرز تعمیر کی ہیں جن میں برطانوی اور مغلیہ دور کی تعمیرات بہت شاندار ہیں۔ ان عمارتوں میں سے آدھی سے زیادہ شہر کے پرانے حصے میں واقع ہیں۔ اتر پردیش کا محکمہ سیاحت مقبول یادگاروں کو سیاحوں کے لیے ایک "ثقافتی ورثہ واک" کے طور پر منظم کرتا ہے۔[35]

لکھنؤ کی اہم یادگار عمارتوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔


ثقافتترميم

 
پان کی تھالی میں کتھا، چونا اور سپاری

لکھنؤ اپنی وراثت میں ملی ثقافت کو جدید طرز زندگی کے ساتھ بڑی خوبصورتی کے ساتھ ملائے ہوئے ہے۔ بھارت کے اہم شہروں میں گنے جانے والے لکھنؤ کی ثقافت میں جذبات کی گرماہٹ کے ساتھ اعلی احساس اور محبت بھی شامل ہے۔ لکھنؤ کے معاشرے میں نوابوں کے وقت سے ہی پہلے آپ! والا انداز رچا بسا ہے۔ وقت کے ساتھ ہر طرف جدیدیت کا دور دورہ ہے تاہم اب بھی شہر کی آبادی کا ایک حصہ اپنی تہذیب کو سنبھالے ہوئے ہے۔ تہذیب یہاں دو بڑے مذاہب کے لوگوں کو ایک ثقافت سے باندھے ہوئے ہے۔ یہ ثقافت یہاں کے نوابوں کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ لکھنوی پان یہاں کی ثقافت کا اٹوٹ حصہ ہے جس کے بغیر لکھنؤ نامکمل لگتا ہے۔

زبان اور شاعریترميم

لکھنؤ میں ہندی اور اردو دونوں زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن اردو کو یہاں صدیوں سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ جب دہلی حالات اچھے نہ رہے تو بہت سے شاعروں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ تب سے اردو شاعری کے دو ٹھکانے ہو گئے، دہلی اور لکھنؤ. جبکہ دہلی صوفی شاعری اور لکھنؤ غزل، عیش و آرام اور عشقیہ شاعری کا مرکز بنا۔ نوابوں کے دورے میں اردو کی خصوصی نشونما ہوئی اور یہ بھارت کی تہذیب والی زبان کے طور پر ابھری۔ یہاں کے مشہور شاعروں میں حیدرعلی آتش، عامر مینائی، مرزا محمد ہادی رسوا، مصحفی، انشا، صفی لکھنوی، میر تقی میر شامل ہیں۔ لکھنؤ شیعہ ثقافت کے دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک ہے۔ میر انیس اور مرزا دبیر اردو مرثیہ گوئی کے لیے مشہور ہیں۔

رقص اور موسیقیترميم

 
کتھک رقص

مشہور ہندوستانی رقص کتھک نے یہیں ترقی پائی۔ اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کتھک کے بڑے پرستاروں میں سے تھے۔ لکھنؤ مشہور غزل گلوکاہ بیگم اختر کا بھی شہر رہا ہے۔ وہ غزل گائکی میں معروف تھیں اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ لکھنؤ کی بھاتكھڈے موسیقی یونیورسٹی کا نام یہاں کے عظیم موسیقار پنڈت وشنو نارائن بھاتكھڈے کے نام پر رکھا ہوا ہے۔ سری لنکا، نیپال، بہت سے ایشیائی ممالک اور دنیا بھر سے طالبعلم یہاں رقص اور موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ لکھنؤ نے کئی گلوکار دیے ہیں جن میں سے نوشاد علی، طلعت محمود، انوپ جلوٹا اور بابا سہگل انتہائی اہم ہیں۔ لکھنؤ شہر برطانوی پاپ گلوکار كلف رچرڈ کا جائے پیدائش بھی ہے۔

فلمترميم

لکھنؤ ہندی فلمی صنعت کا شروع سے ہی مرکز رہا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ لکھنوی رابطے کے بغیر، بالی ووڈ کبھی اس بلندی پر نہیں آ پاتا جہاں وہ اب موجود ہے۔ اودھ سے بہت سکرپٹ مصنف اور نغمہ نگار ہیں، جیسے مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی، جاوید اختر، علی رضا، وجاہت مرزا (مدر انڈیا اور گنگا جمنا کے مصنف)، امرت لال ناگر ، علی سردار جعفری اور کے پی سکسینہ جنہوں نے بھارتی فلم کو بلندی پر پہنچایا۔ لکھنؤ پر بہت سی مشہور فلمیں بنی ہیں جیسے ششی کپور کی جنون، مظفر علی کی امرا ؤ جان اور گمن، ستیہ جیت رائے کی شطرنج کے کھلاڑی اور اسماعیل مرچنٹ کی شیکسپیئر والا کی بھی جزوی شوٹنگ یہیں ہوئی تھی۔

بہو بیگم، محبوب کی مہندی، میرے حضور، چودھویں کا چاند، پاکیزہ، میں میری بیوی اور وہ، سحر، انور اور بہت سی ہندی فلمیں یا تو لکھنؤ میں بنی ہیں، یا ان کا پس منظر لکھنؤ کا ہے۔ غدر فلم میں بھی پاکستان کے مناظر لکھنؤ میں فلمائے گئے ہیں۔ اس میں لال پل، لکھنؤ اور لا مارٹينير کالج کےمناظر ہیں۔

روایتی ملبوساتترميم

 
گھاگرا

لکھنؤ اس گھاگروں لئے مشہور ہے۔ یہ خواتین کا ایک روایتی لباس ہے ابتدا اودھ کے نوابوں کے دور سے ہوئی۔ [36]

چکن کی کڑھائیترميم

چکن، یہاں کی کڑھائی کا بہترین نمونہ ہے اور لکھنوی زردوزی یہاں کی چھوٹی صنعت ہے جو کرتے اور ساڑیوں جیسے کپڑوں پر اپنا فن دکھاتے ہیں۔ اس صنعت کا زیادہ تر حصہ پرانے لکھنؤ کے چوک علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کے بازار چکن کڑھائی کی دکانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس ماہر اور مشہور کاریگروں میں استاد فیاض خاں اور حسن مرزا صاحب تھے۔

پکوانترميم

اودھ کے علاقے کی اپنی ایک الگ خاص پہچان نوابی پکوان ہیں۔ اس میں مختلف طرح کی بریانی ، کباب، قورما، نہاری، كلچے، شیر مال، زردہ، رومالی روٹی اور وركی پراٹھا اور روٹیاں وغیرہ، کاکوری کباب، گلاوٹی کباب، پتیلی کباب، بوٹی کباب، گھٹوا کباب اور شامی کباب اہم ہیں۔ شہر میں بہت سی جگہ یہ پکوان ملیں گے۔ یہ تمام طرح کے اور تمام بجٹ کے ہوں گے۔ جہاں ایک طرف 1805ء میں قائم کردہ رام آسرے حلوائی کی مکھن گلوری مشہور ہے، وہیں اکبری گیٹ پر ملنے والے حاجی مراد علی کے ٹنڈے کے کباب بھی کم مشہور نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر نوابی پكوانوں جیسے دمپخت، لچھے دار پیاز اور سبز چٹنی کے ساتھ سیخ کباب اور رومالی روٹی کا بھی جواب نہیں ہے۔ لکھنؤ کی چاٹ ہندوستان کی بہترین چاٹ میں سے ایک ہے اور کھانے کے آخر میں مشہور عالم لکھنؤ کے پان جن کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

لکھنؤ میں روٹیوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایسی ہی روٹیاں یہاں کے ایک پرانے بازار میں آج بھی ملتی ہیں، بلکہ یہ بازار روٹیوں کا بازار ہی ہے۔ اکبری گیٹ سے نکھاس چوکی کے پیچھے تک یہ بازار ہے، جہاں شیر مال، نان، خمیری روٹی، رومالی روٹی، كلچہ جیسی کئی دیگر طرح کی روٹیاں مل جائیں گی۔ پرانے لکھنؤ کے اس روٹی بازار میں مختلف قسم کی روٹیوں کی تقریباً 15 دکانیں ہیں جہاں صبح نو سے رات نو بجے تک گرم روٹی خریدی جا سکتی ہے۔ بہت سے پرانے نامی ہوٹل بھی اس گلی کے قریب ہیں، جہاں آپ کی من پسند روٹی کے ساتھ گوشت کے پکوان بھی ملتے ہیں۔

لکھنؤ کے پکوانترميم

تہوارترميم

 
لکھنؤ میں محرم کا جلوس

عام ہندوستانی تہوار مثلاً کرسمس، دیوالی، درگا پوجا، عید الفطر، عیدالاضحی، ہولی، رکشا بندھن، دسہرہ [37] یہاں جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ دیگر تہوار یا جلوسوں میں سے کچھ یہ ہیں:

لکھنؤ مہوتسوترميم

لکھنؤ فیسٹیول ہر سال اترپردیش کے فن اور ثقافت کو ظاہر کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے منظم کیا جاتا ہے۔ [38] [39]

لکھنؤ لٹریچر فیسٹیولترميم

2013ء کے بعد یہ ہر سال نومبر کے مہینے میں منعقد کیا جانے والا ایک سالانہ ادبی میلا میں ہے۔ [40]

محرم اور عاشورہترميم

لکھنؤ اہل تشیع کا گڑھ ہے اور بھارت میں شیعہ ثقافت کے نمونے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مسلمانوں اسلامی تقویم کے پہلے مہینے محرم اور عاشورہ حسین ابن علی کی یاد میں مناتے ہیں۔ [41]

چپ تعزیہترميم

اہل تشیع کے گیارہویں امام حسن بن علی عسکری کی وفات کے سوگ میں 8 ربیع الاول کو مذہبی جلوس کی صورت میں منایا جاتا ہے۔ [42]

بڑا منگلترميم

بڑا منگل ایک تہوار ہے جو ہنومان کی پیدائش کی خوشی میں مئی کے مہینے میں پرانا مندر میں منایا جاتا ہے۔

معیار حیاتترميم

لکھنؤ کو ایل جی کارپوریشن اور آئی ایم آر بی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق چندی گڑھ کے بعد "بھارت کا دوسرا سب سے خوش شہر" قرار دیا گیا ہے۔ اس نئی دہلی، بنگلور اور چینائی سمیت بھارت کے دیگر میٹروپولیٹن علاقوں کے مقابلے میں لکھنؤ خوراک، ٹرانزٹ اور مجموعی طور پر شہری سکون میں بہتر پایا گیا ہے۔ [43][44]

معیشتترميم

 
ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کیمپس، گومتی نگر

لکھنؤ شمالی بھارت کی ایک اہم مارکیٹ اور کمرشل شہر ہی نہیں، بلکہ مصنوعات اور خدمات کا ابھرتا ہوا مرکز بھی بنتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش ریاست کے دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہاں سرکاری اور نجی سیکٹر انٹرپرائز بہت زیادہ ہیں۔ لکھنؤ شہری ہم بستگی میں بڑی صنعتوں میں ایئروناٹکس، مشینی اوزار، کیمیکلز، فرنیچر اور چکن کڑھائی شامل ہیں۔ [45]

لکھنؤ بھارت کے سب سے زیادہ خام ملکی پیداوار والی شہروں میں سے ایک ہے۔ [46] لکھنؤ سافٹ ویئر اور آئی ٹی کا ایک بڑھتا ہوا آئی ٹی مرکز ہے اور شہر میں آئی ٹی کمپنیاں موجود ہیں۔ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز گومتی نگر میں بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ [47] بہت سے مقامی آزاد مصدر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی موجود ہیں۔ [48]

شہر میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھارتی حکومت 200 کروڑ روپے (2000 ملین روپے) مختص کئے ہیں تا کہ شہر میں ایک ٹیکسٹائل کے کاروبار کا کلسٹر قائم کیا جا سکے۔ [49]

حکومت اور سیاستترميم

 
اتر پردیش ودھان سبھا

حکومت اتر پردیش کی نشست کے طور پر، لکھنؤ اترپردیش اسمبلی، الہ آباد ہائی کورٹ اور متعدد سرکاری محکموں اور ایجنسیوں کا مقام ہے۔ [50]

1 مئی 1963ء کے بعد سے لکھنؤ بھارتی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ جبکہ اس سے پہلے یہ مشرقی کمانڈ کا ہیڈکوارٹر تھا۔ [51]

شہر سے لوک سبھا (بھارتی پارلیمان) کے ساتھ ساتھ اترپردیش ودھان سبھا (ریاستی اسمبلی) کے لیے بھی ارکان سے منتخب ہوتے ہیں۔ لکھنؤ میں دو لوک سبھا حلقے لکھنؤ اور موہن لال گنج اور نو ودھان سبھا حلقے ہیں۔ 2008ء میں شہر میں 110 وارڈ تھے۔

وزارت شہری ہوابازی، حکومت ہند کے تحت بھارت کے ریلوے سیفٹی کمیشن کا ہیڈ آفس لکھنؤ میں واقع ہے۔ [52]

تعلیمترميم

لکھنؤ میں ملک کے بہت سے اعلی تعلیمی اور تحقیقی ادارے موجود ہیں۔ ان میں سے کنگ جارج میڈیکل کالج اور بیربل ساہنی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اہم ہیں۔ لکھنؤ میں چھ جامعات ہیں:

اس کے علاوہ یہاں بہت سے اعلی ثانوی تعلیمی ادارے، سرکاری اور نجی اسکول بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم سٹی مونٹیسری اسکول، لا مارٹنیری کالج، طے پوریا اسکول، كلون تالكےدارس کالج، ایما تھامسن اسکول، سینٹ فرانسس اسکول وغیرہ ہیں۔

ذرائع ابلاغترميم

لکھنؤ تاریخی طور پر صحافت کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا دوسری جنگ عظیم سے قبل شروع کیا جانے والا دی نیشنل ہیرالڈ لکھنؤ سے ہی شائع ہوتا تھا۔

شہر کے اہم انگریزی اخباروں میں دی ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز، دی پائنیر اور انڈین ایکسپریس شامل ہیں۔ان کے علاوہ بھی بہت سے روزنامے انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا اور یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا کے دفتر شہر میں موجود ہیں، اور ملک کے تمام اہم اخباروں کے صحافی لکھنؤ میں موجود رہتے ہیں۔

ریڈیوترميم

آل انڈیا ریڈیو کے ابتدائی اسٹیشنوں میں سے لکھنؤ میں قائم کیے گئے۔ یہاں میڈیم ویوز پر نشریات کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایف ایم نشریات بھی 2000ء میں شروع کی گئیں۔ شہر میں مندرجہ ذیل ریڈیو اسٹیشن چل رہے ہیں۔ [53]

  • 91.1 میگا ہرٹز ریڈیو سٹی
  • 93.5 میگا ہرٹز ریڈ ایف ایم
  • 98.3 میگا ہرٹز ریڈیو مرچی
  • 100.7 میگا ہرٹز اےآئِ آر ایف ایم رین بو
  • 105.6 میگا ہرٹز گیانوانی ایجوکیشنل

انٹرنیٹترميم

شہر میں انٹرنیٹ کے لئے براڈ بینڈ انٹرنیٹ اور ویڈیو کانفرینسنگ کی سہولت دستیاب ہیں۔ گھریلو صارفین اور کارپوریٹ صارفین کے لیے اچھی رفتار کا براڈبینڈ انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہوتا ہے۔ شہر میں بہت سے انٹرنیٹ کیفے بھی موجود ہیں۔

کھیلترميم

لکھنؤ بھارتی بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ گومتی نگر میں واقع ہے۔ یہ 1934ء میں قائم کیا گیا تھا اور 1936ء سے ہندوستان میں قومی سطح کے ٹورنامنٹ کا انعقاد کراتا ہے۔ جونیئر سطح کے بیڈمنٹن کھلاڑیوں لکھنؤ میں ان کی تربیت کے بعد ا بنگلور بھیجا جاتا ہے۔ [54][55]

دہائیوں سے لکھنؤ عظیم الشان شیش محل کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ موجودہ دور میں کرکٹ، فٹبال، بیڈمنٹن، گالف اور ہاکی شہر کے سب سے زیادہ مقبول کھیل ہیں۔ سید مودی گراں پری منعقدہ ایک بین الاقوامی بیڈمنٹن مقابلہ ہے۔

اہم کھیلوں کا مرکز کے ڈی سنگھ بابو اسٹیڈیم، لکھنؤ ہے۔ شہر کے دیگر اسٹیڈیموں میں دھیان چند آسٹروٹرف اسٹیڈیم، محمد شاہد سنٹیتھک ہاکی سٹیڈیم، ڈاکٹر اکھلیش داس گپتا اسٹیڈیم اور بابو بنارسی داس یو پی بیڈمنٹن اکیڈمی شامل ہیں۔ [56]

سیاحتی اور تفریحی مقاماتترميم

شہر اور ارد گرد بہت قابل دید مقامات موجود ہیں۔ ان میں تاریخی مقامات، باغ، تفریح مقامات اور شاپنگ مال وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں کئی امام باڑے ہیں، ان میں بڑا امام باڑہ اور چھوٹا امام باڑا کافی اہم ہیں۔ مشہور بڑے امام باڑے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت ہے۔ اس امام باڑے کی تعمیر نواب آصف الدولہ نے 1784ء میں کرواائی تھی۔ یہ بہت بڑا گنبد نما ہال ہے جو 50 میٹر طویل اور 15 میٹر بلند ہے۔ یہاں ایک منفرد بھول بھلیاں بھی موجود ہیں۔ اس امام باڑے میں ایکآصفی مسجد بھی ہے۔ مسجد کے احاطے کے صحن میں دو اونچے مينار ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹا امام باڑا جس کا اصلی نام حسین آباد امام باڑا ہے جسے 1838ء میں ریاست اودھ کے تیسرے نواب محمد علی شاہ نے تعمیر کروایا تھا۔

سعادت علی خان کا مقبرہ بیگم حضرت محل پارک کے قریب واقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی خورشید زیدی کا مقبرہ بھی ہے۔ یہ مقبرہ اودھ فن تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔ مقبرہ کی شاندار چھت اور گنبد اس کی خاصیت ہیں۔ بڑے امام باڑے کے باہر ہی رومی دروازہ ہے۔ جامع مسجد حسین آباد امام باڑے کے مغربی سمت واقع ہے۔ اس مسجد کی تعمیر محمد شاہ نے شروع کی لیکن 1840ء میں اس کی موت کے بعد اس کی بیوی نے اسے مکمل کروایا۔ موتی محل دریائے گومتی کے کنارے پر بنی تین عمارتوں میں سے اہم ہے۔ اسے سعادت علی خاں نے بنوایا تھا۔

لکھنؤ ریزیڈینسی کی باقیات برطانوی دور کی واضح تصویر دکھاتے ہیں۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے وقت یہ ریزیڈینسی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایجنٹ کے گھر تھا۔ یہ تاریخی عمارت حضرت گنج کے علاقے میں گورنر کی رہائش گاہ کے قریب ہے۔ لکھنؤ کا گھنٹہ گھر بھارت کا سب سے گھنٹہ گھر ہے۔

کوکریل فارست ایک پکنک کی جگہ ہے۔ یہاں مگر مچھوں اور کچھوں کی ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔ بنارسی باغ میں واقع ایک چڑیا گھر ہے، جس کا اصل نام پرنس آف ویلز وائلڈ لائف ریزرو ہے۔ مقامی لوگ اس چڑیا گھر کو بنارسی باغ کہتے ہیں۔ اس باغ میں ایک عجائب گھر بھی ہے۔

ان کے علاوہ رومی دروازہ، چھتر منزل، ہاتھی پارک، بدھ پارک، نیبو پارک میرین ڈرائیو اور اندرا گاندھی برج بھی قابل دید ہیں۔

اہم تاریخی مقامات کی فہرستترميم

حیوانیہ اور نباتیہترميم

لکھنؤ میں جنگل کا علاقہ 4.66 فیصد ہے۔ لکھنؤ روایتی طور پر لکھنوی آم (خاص طور پر دسہری آم)، خربوزہ اور قریبی علاقوں میں اگائے جا رہے اناج کی منڈی رہا ہے۔ یہاں کے مشہور ملیح آبادی دسہری آم کو جغرافیائی اشارے کا خصوصی قانونی درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ ایک مختلف ذائقہ اور مہک کی وجہ دسہری آم کی دنیا بھر میں خاص پہچان بنی ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملیح آبادی دسہری آم تقریباً 6،253 ہیکٹر پر اگائے جاتے ہیں اور ان کی پیداوار 9 5،6583 9 ٹن ہے۔

گنے کے کھیت اور چینی کی ملیں بھی قریب ہی واقع ہیں۔ ان کی وجہ موہن میکنس بريوری جیسی کمپنیاں یہاں اپنی ملیں لگانے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ موہن میکنس کا یونٹ 1855 میں قائم ہوا تھا۔ یہ ایشیا کی پہلی تجارتی بريوری تھی۔ [57]

لکھنؤ چڑیا گھر ملک میں سب سے قدیم چڑیا گھروں میں سے ایک ہے جسے 1921ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایشیا اور دیگر براعظموں سے جانوروں کے ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ شہر بھی ایک نباتیات باغ بھی ہے۔ [58] اس میں اتر پردیش اسٹیٹ میوزیم بھی واقع ہے۔ [59]

لکھنؤ کے جڑواں شہرترميم

ملک شہر ریاست / علاقہ
  آسٹریلیا برسبین کوئنزلینڈ
  کینیڈا مانٹریال کیوبیک

قابل ذکر شخصیاتترميم

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

مزید پڑھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Lucknow Pin Code list, Population density ,literacy rate and total Area with census 2011 details"۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 July 2014۔ 
  2. "Cities having population 1 lakh and above, Census 2011" (PDF)۔ The Registrar General & Census Commissioner, India۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 June 2014۔ 
  3. "Population of Uttar Pradesh 2015"۔ IndiaOnlinePages۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 December 2015۔ 
  4. "The top 15 Indian cities by GDP | India's top 15 cities with the highest GDP"۔ Yahoo! Finance۔ 28 September 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 August 2014۔ 
  5. http://www.citymayors.com/statistics/urban_growth1.html
  6. Philip Lutgendorf Professor of Hindi and Modern Indian Studies University of Iowa (13 December 2006). Hanuman's Tale : The Messages of a Divine Monkey: The Messages of a Divine Monkey. Oxford University Press. صفحہ۔245. https://books.google.com/books?id=fVFC2Nx-LP8C&pg=PA245. 
  7. Veena Talwar Oldenburg (14 July 2014). The Making of Colonial Lucknow, 1856–1877. Princeton University Press. صفحہ۔6. https://books.google.com/books?id=6tP_AwAAQBAJ&pg=PA6. 
  8. P. Nas (1993). Urban Symbolism. BRILL. صفحہ۔329. https://books.google.com/books?id=R7-xvYmg3HcC&pg=PA329. 
  9. Richard Stephen Charnock (1859). Local Etymology: A Derivative Dictionary of Geographical Names. Houlston and Wright. صفحات۔167–. https://books.google.com/books?id=apcmAAAAMAAJ&pg=PA167. 
  10. "Faizabad, Town, India"۔ Bartleby۔ The Columbia Encyclopaedia۔ اصل سے جمع شدہ 2 June 2009 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  11. "Introduction to Lucknow"۔ Lucknow۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-24۔ 
  12. "history"۔ Lucknow.nic.in۔ اصل سے جمع شدہ 7 April 2008 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 March 2010۔ 
  13. "Lucknow City"۔ Laxys۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 April 2012۔ 
  14. Safvi، Rana (15 June 2014)۔ "Understanding Ganga-Jamuni Tehzeeb: How diverse is the "Indian multiculturalism""۔ DNA India۔ Mumbai: DNA Webdesk۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  15. "Shuja Ud Daula"۔ Lucknow۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-24۔ 
  16. "Asaf Ud Daula"۔ Lucknow۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-24۔ 
  17. "UNDP report"۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 September 2006۔ 
  18. "Lucknow Minimum Temperature". The Times of India. 29 Dec 2012. http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2012-12-29/lucknow/36050401_1_minimum-temperature-maximum-temperature-celsius. 
  19. "Lucknow Climate & Temperature"۔ India Meteorological Department۔ اصل سے جمع شدہ 10 December 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 April 2015۔ 
  20. "Ever recorded Maximum and minimum temperatures up to 2010" (PDF)۔ India Meteorological Department۔ اصل سے جمع شدہ 21 May 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ April 17, 2015۔ 
  21. "Historical Census of India"۔ 
  22. "District Census Handbook - Lucknow" (PDF)۔ Census of India۔ The Registrar General & Census Commissioner۔ صفحہ 28۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016۔ 
  23. "C-1 Population By Religious Community"۔ Government of India, Ministry of Home Affairs۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 May 2016۔  On this page, select "Uttar Pradesh" from the download menu. "Lucknow (M.Corp.)" is at line 890 of the excel file.
  24. "Lucknow pips Kanpur, emerges as most populous city in UP". The Times of India. 6 April 2011. http://timesofindia.indiatimes.com/city/lucknow/Lucknow-pips-Kanpur-emerges-as-most-populous-city-in-UP/articleshow/7879054.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 April 2014. 
  25. "National Highways of India"۔ Newkerala۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  26. "Study of Lucknow City (Final Report)"۔ Teerthankar Mahaveer University۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 August 2014۔ 
  27. "Depots and Bus Stations"۔ UPSRTC۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  28. "Inter State Bus Terminal opened"۔ The Times of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  29. Lucknow Charbagh railway station#Railway stations in Lucknow
  30. "Chaudhary Charan Singh International Airport"۔ World Airport Codes۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 August 2014۔ 
  31. "Lucknow Metro construction begins, Akhilesh fulfils promise to father". The Times of India. 28 September 2014. http://timesofindia.indiatimes.com/city/lucknow/Lucknow-Metro-construction-begins-Akhilesh-fulfils-promise-to-father/articleshow/43663937.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 October 2014. 
  32. "Lucknow to get Amsterdam-inspired cycling tracks"۔ Times Of India۔ 2014-06-11۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-12-15۔ 
  33. "Noida, Agra and Lucknow to be cycle-friendly"۔ The Hindu۔ 2014-08-13۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-12-15۔ 
  34. "City hosts, cheers national level cycling event – The Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-05-25۔ 
  35. "::Uttar Pradesh Tourism, Official Website of Government of Uttar Pradesh, India ::"۔ UP Tourism۔ اصل سے جمع شدہ 20 June 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 August 2014۔ 
  36. (en میں) Yojana. Publications Division, Ministry of Information and Broadcasting. 1962-01-01. https://books.google.com/books?id=hXxCAAAAYAAJ&q=Gharara+lucknow&dq=Gharara+lucknow&hl=en&ei=65OqTdWyGo-2sAPU9fT5DA&sa=X&oi=book_result&ct=result&redir_esc=y. 
  37. "Festivals in Lucknow"۔ Lucknow۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  38. "Lucknow Festival"۔ Incredible India۔ اصل سے جمع شدہ 3 September 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  39. "About Mahotsava"۔ Lucknow Mahotsav۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 August 2014۔ 
  40. "Lucknow Literature Festival™"۔ Lucknow Literature Festival™۔ 3 October 2016۔ 
  41. "The Third Imam, Husayn Ibn 'Ali"۔ Al-Islam۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 August 2014۔ 
  42. "Chup Tazia" procession in Lucknow: A religious and cultural tradition"۔ twocircles۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  43. "Happiest city survey: What makes Lucknow India's second happiest city? – The Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-06-27۔ 
  44. "Lucknow ahead of Delhi, other metros on happiness quotient – The Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-06-27۔ 
  45. "Economical Report Of Lucknow"۔ Department of Micro, Small and Medium Enterprises۔ Government of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  46. "The top 15 Indian cities by GDP | India's top 15 cities with the highest GDP – Yahoo India Finance"۔ In.finance.yahoo.com۔ 2012-09-28۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-07-29۔ 
  47. "TCS News & Events: Press Release : Tata Consultancy Services Expands in Lucknow; New Facility Inaugurated"۔ Tata Consultancy Services۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 August 2014۔ 
  48. Diksha P Gupta۔ ""We are where we are because of open source technology" – LINUX For You"۔ Linux For U۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 August 2014۔ 
  49. PTI 10 Jul 2014, 12.47PM IST (10 July 2014)۔ "Budget 2014: Rs 200 crore allocated to set up six textiles clusters – Economic Times"۔ Economic Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 August 2014۔ 
  50. "List of Central Government Departments"۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  51. "Central Command Raising Day concludes". The Times of India. 3 May 2009. http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2009-05-03/lucknow/28157520_1_ors-central-command-programmes۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 June 2013. 
  52. "Commission of Railway Safety." (Archive) Ministry of Civil Aviation. Retrieved 19 February 2012. "Ashok Marg, NE Railway compound, Lucknow- 226001." Archived 29 October 2012 at the وے بیک مشین
  53. http://www.asiawaves.net/india-fm-radio.htm
  54. Here، Your۔ "The Official website of Badminton Association of India | BadmintonIndia.org"۔ badmintonindia.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-05-25۔ 
  55. "Badminton Association of India Announce Rewards for Saina, Kashyap". Press Trust of India. NDTV. 17 March 2015. http://sports.ndtv.com/badminton/news/239204-badminton-association-of-india-announce-rewards-for-saina-kashyap. 
  56. "DR Akhilesh Das Gupta Stadium, Faizabad Road, Lucknow | Outdoor Stadiums in Faizabad Road, Lucknow | buy tickets for venues"۔ Buzzintown۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 August 2014۔ 
  57. https://www.theguardian.com/lifeandstyle/2007/mar/28/foodanddrink.travelnews
  58. "Botanic Garden Sikandar Bagh"۔ Visit Lucknow۔ Google Sites۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2014۔ 
  59. Planet، Lonely۔ "State Museum – Lonely Planet"۔ Lonely Planet۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-05-25۔