واسوخت

شاعری کی ایک صنف

واسوخت اردو شاعری کی ایک صنف ہے، جس سے مراد بیزاری ہے۔ واسوخت مسدس یا مثمن کی ہیت میں عام طور پر لکھی جاتی ہے۔ واسوخت میں نظم کی وہ قسم ہے میں شاعر اپنے محبوب کی بے وفائی، تغافل اور رقیب کے ساتھ اس کے تعلق کی شکایت کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنا کسی اور محبوب سے واسطہ ظاہر کر کے اس کو دھمکاتا ہے۔ مثال کے طور پر:

تو جو بدلا تو اپنا بھی یہی طور سہیتو نہیں اور سہی، اور انہیں اور سہی[1]

عبد الحلیم شرر نے واسوخت کا مولد لکھنؤ کو قرار دیا ہے جب کہ گل رعنا کے مصنف عبد الحئی نے میر تقی میر کو واسوخت کا پہلا شاعر قرار کہا ہے۔[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. پروفیسر انور جمال، ادبی اصطلاحات، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد، 2016ء، ص 175
  2. پروفیسر انور جمال، ادبی اصطلاحات، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد، 2016ء، ص 176