نوح علیہ السلام کی بیوی کا نام واہلہ یا والہہ تھا۔

نعمہ یا واہلہ
نعمہ ہمراہ سوتیلے بھائی یوبل
نعمہ ہمراہ سوتیلے بھائی یوبل۔

معلومات شخصیت
دیگر نام نعمہ، واہلہ
شریک حیات نوح
والدین لامخ اور ضلہ
شاید حنوک اور عدنہ
والد لامخ[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
رشتے دار یوبل (سوتیلا بھائی)
یابل (سوتیلا بھائی)
توبل قابیل (بھائی)

اسلام میںترميم

نوح علیہ السلام کی بیوی کا نام واہلہ یا والہہ تھا۔[6] اس کا ذکر قرآن میں یوں آیا
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ
اللہ نے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ہے نوح (علیہ السلام) کی عورت اور لوط (علیہ السلام) کی عورت (واہلہ اور واعلہ) کی مثال بیان فرمائی ہے، وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں، سو دونوں نے ان سے خیانت کی پس وہ اللہ (کے عذاب) کے سامنے ان کے کچھ کام نہ آئے اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم دونوں (عورتیں) داخل ہونے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ۔[7]

عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے جباروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اپنے گھر میں آنے والے مہمانوں کی اطلاع اپنی قوم کے بداعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی۔[8] عبد الرزاق والفریابی وسعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی الدنیاوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے کئی طرق سے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ آیت فخانتاہما کہ ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندون کا حق ادا نہیں کیا۔ یعنی ان دونوں نے زنا نہیں کیا تھا لیکن نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے کہتی تھی کہ یہ اللہ کا نبی مجنون ہے اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ اس نے مہمانوں کو بتادیاتھا کہ خوبصورت مہمان آئے ہوئے ہیں جلدی سے آجاؤ یہ اس کی خیانت تھی۔[9]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب فصل: 4 — باب: 22
  2. ^ ا ب فصل: 4 — عنوان : Ноема
  3. ^ ا ب فصل: 4 — عنوان : Наама
  4. فصل: 4 — عنوان : Лемех
  5. فصل: 4 — عنوان : Фовел
  6. تفسیر قرطبی،ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی التحریم،آیت 10
  7. القرآن 66:10 (التحریم : 10)
  8. تفسیر روح البیان،ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی،التحریم ،10
  9. تفسیر الدرالمنثور امام جلال الدین سیوطی،التحریم 10