وقار احمد سیٹھ (ولادت: 16 مارچ 1961ء - وفات: 12 نومبر 2020ء) پاکستانی جج تھے، وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ان کے والد سیٹھ عبدالواحد سینیئر سیشن جج ریٹائرڈ ہوئے جبکہ ان کے نانا خدا بخش پاکستان بننے سے پہلے 1929ء میں بننے والی صوبے کی پہلی اعلیٰ عدالت میں جج رہے تھے۔

وقار احمد سیٹھ
چیف جسٹس عدالت عالیہ پشاور
آغاز منصب
28 جون2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Yahya Afridi
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
جسٹس عدالت عالیہ پشاور
آغاز منصب
2 اگست2011
معلومات شخصیت
پیدائش 16 مارچ 1961  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈیرہ اسماعیل خان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 نومبر 2020 (59 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات کووڈ-19  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی اسلامیہ کالج یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منصف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

وقار احمد سیٹھ 16 مارچ 1961ء کو ڈی آئی خان میں پیدا ہوئے۔ 1977ء میں کینٹ پبلک اسکول پشاور سے میٹرک کیا اور 1981ء میں اسلامیہ کالج پشاور سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ء میں خیبر لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 1986ء میں پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں انھوں نے اپنی تعلیم پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ۔انھوں نے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی اور لا کالج پشاور یونیورسٹی سے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے 1985ء میں عملی وکالت کا آغاز کیا۔

کیرئرترميم

جسٹس وقار احمد سیٹھ 1990ء میں ہائی کورٹ اور پھر 2008ء میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ انھیں 2011ء میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا اور اس کے بعد وہ بینکنگ کورٹس سمیت مختلف عدالتوں میں تعینات رہے۔وقار احمد سیٹھ نے 2018ء میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف لیا[1]۔

مشرف سنگین غداری کیسترميم

انہوں نے مشرف سنگین غداری کیس میں بینچ کی صدارت کی اور اپنے فیصلے میں مشرف کو سزائے موت سنائی۔ انہوں نے فیصلے کے پیرا 66 میں تحریر کیا کہ مشرف اگر بیماری کی وجہ سے فوت ہو جائے تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر تین دن کے لیے ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔

وفاتترميم

انہوں نے 12 نومبر 2020ء کو کورونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے وفات پائی۔

حوالہ جاتترميم