ٹوٹ بٹوٹ بچوں کے اردو ادب کا ایک افسانوی کردار ہے، جس کے خالق صوفی غلام مصطفٰی تبسم تھے۔ ٹوٹ بٹوٹ کی نظمیں پاکستان کی اردو کی نصابی کتابوں میں شامل ہیں۔ ٹوٹ بٹوٹ کے نام سے بچوں کے لیے نظموں کی ایک کتاب بھی صوفی تبسم نے لکھی تھی۔ یہ کردار اتنا مشہور ہوا کہ اسی نام سے اردو میں بچوں کا ایک ماہنامہ رسالہ بھی نکلتا رہا۔ صوفی غلام مصطفٰی کی ایک دوسری کتاب جھولنے جو غالبا 1946ء میں شائع ہوئی۔ اس میں بھی ٹوٹ بٹوٹ کی ایک نظم ہے۔[1]

تخلیق کردارترميم

صوفی تبسم کے دوست عبدالخالق کا بیٹا تھا اور وہ عموماً عجیب و غریب حرکتیں کرتا، اس بچے سے اس کردار نے جنم لیا۔

نمونہ کلامترميم

ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​

خالہ اُس کی لکڑی لائی​
پھوپھی لائی دیا سلائی​​
امی جان نے آگ جلائی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
دیگچی، چمچہ، نوکر لائے​​
بھائی چاول شکّر لائے​​
بہنیں لائیں دودھ ملائی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
ابا نے دی ایک اکنی​​
خالو نے دی ڈیڑھ دونیّ​​
ٹوٹ بٹوٹ نے آدھی پائی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
جوں ہی دسترخوان لگایا​​
گاؤں کا گاؤں دوڑا آیا​​
ساری خلقت دوڑی آئی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
مینڈک بھی ٹرّاتے آئے​​
چوہے شور مچاتے آئے​​
بلّی گانا گاتی آئی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
کوّے آئے کیں کیں کرتے​​
طوطے آئے ٹیں ٹیں کرتے​​
بُلبل چونچ ہلاتی آئی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
دھوبی، کنجڑا، نائی آیا​​
پنساری، حلوائی آیا​​
سب نے آکر دھوم مچائی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی​​
گاؤں بھر میں ہوئی لڑائی​​
کھیر کسی کے ہاتھ نہ آئی​​
میرے اللہ تری دہائی​​
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم