سل (س پر زیر) یا تپ دق جس کو عام طور پر ٹی بی کہا جاتا ہے ایک وبائی بیماری ہے جو ایک جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس کا درست علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری اپنی ہلاکت خیزی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی اور اندازہ ہے کہ ہر سال اس کی وجہ سے سترہ سے بیس لاکھـ (بعض اعدادوشمار کے مطابق اس سے بھی زیادہ) افراد کی ہلاکت ہو جاتی ہے جن میں سے اکثر کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہوتا ہے۔ طبی الفاظ میں سِل کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ مرض سل یا عرفِ عام میں TB ایک عدوی مرض ہے جو ایک بیکٹیریا متفطرہ سل (Mycobacterium tuberculosis) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور گو کہ جسم کے کسی بھی حصے پر اثرانداز ہوسکتی ہے مگر عام طور پر پھیپڑوں میں نمودار ہوتی ہے۔ متفطرہ سل ایک غیر تخم پرور (non-spore forming)، غیر متحرک اور حیوائی (aerobic) بیکٹیریا ہے جس کا غلاف مومی ہوتا ہے جو صامد للحمض (acid fast) رنگداری پر سرخ ہوجاتا ہے۔

T[1][2].

تپ دق ہوا کے ذریہ پھیلتا ہے۔ جن لوگوں کے پھیپھڑوں میں ٹی بی کے جراثیم ہوتے ہیں وہ جب کھانستے تھوکتے یا بات کرتے ہیں یا پھر چھینکتے ہیں ۔۔۔ جن مریضوں کو دبا ہوا ٹی بی ہوتا ہے وہ اس کے جراثیم نہیں پھیلاتے۔ چھوت ان لوگوں کو جلدی لگتا ہے جو سگریٹ پیتے ہیں یا پھر انہیں HIV/AIDS ہوتا ہے۔ چھوت والے ٹی بی کی شناخت X-Ray یا بلغم کی جانچ سے ہوتی ہے۔ دبے ہوئے ٹی بی کی جانچ خون یا چمڑی سے ہوتی ہے۔ اس جانچ کو TST کہتے ہیں۔

  1. "Basic TB Facts". Centers for Disease Control and Prevention (CDC). 13 March 2012. 06 فروری 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 فروری 2016.