پرل ہاربر حملہ (انگریزی: Pearl Harbor attack، دیگر نام: ہوائی آپریشن یا آپریشن زی) 7 دسمبر 1941ء کو جاپانی شاہی بحریہ کے پہلے ہوائی بیڑے کی جانب سے امریکہ کے جزائر ہوائی میں پرل ہاربر کے بحری اڈے پر اچانک کیا گیا حملہ تھا جس کا مقصد جاپان کے خلاف بحر الکاہل میں نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کو توڑنا تھا۔ پرل ہاربر، ریاست ہوائی کے جزیرے اواہو پر حملے کی زد میں آنے والی عسکری و بحری تنصیبات میں سے ایک تھی۔

ایک جاپانی جنگی طیارے سے لی گئی حملے کی تصویر

اس حملے میں جاپان کے 6 طیارہ بردار بحری جہازوں سے اڑنے والے 353 جنگی طیارے نے حصہ لیا۔ حملے کے نتیجے امریکا کے 8 بحری جہاز تباہ ہوئے اور 9 کو شدید نقصان پہنچا۔ 188 امریکی طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 2403 امریکی فوجی اور 68 شہری ہلاک ہوئے۔ البتہ بحر الکاہل کے لیے امریکی بحری بیڑے کے تین طیارہ بردار جہاز اس وقت بندرگاہ پر موجود نہ تھے اس لیے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔

حالانکہ ابتداً اسے جاپان کی ایک زبردست فتح سمجھا جا رہا تھا لیکن طویل المیعاد طور پر حکمت عملی کے اعتبار سے یہ حملہ جاپان کی ایک فاش غلطی ثابت ہوا کیونکہ اس سے امریکا کو جنگ عظیم دوئم میں کودنے کا موقع مِلا اور یوں جنگ کا پانسا اتحادیوں کے حق میں پلٹ گیا۔ یہ معرکہ تاریخ کو بدلنے والے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ امریکا، جو اس وقت ایک ابھرتی ہوئی عسکری و اقتصادی قوت تھا، نے بڑی تعداد میں فوجی اور اسلحہ اور رسد اتحادیوں کو بھیجی تاکہ محوری طاقتوں، جرمنی، اطالیہ اور جاپان، کا مقابلہ کیا جا سکے جنہیں بالآخر 1945ء میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے کے نتیجے میں نازی جرمنی کو 4 روز بعد امریکا کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا پڑا۔

1941ء، بحرالکاہل میں جاپانی بیڑا کا جزائر ہوائی جانے اور وآپسی کے راستے کا نقشہ۔ جاپان (بائیں) طرف پر اور جزائر ہوائی (دائیں) طرف پر دکھائے گئے ہیں۔

جنگ عظیم دوم میں اتحادیوں کی فتح اور امریکا کا ایک غالب عالمی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آنا موجودہ بین الاقوامی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے کا باعث بنا۔

اقتباس

ترمیم

James Rusbridger نے اپنی کتاب Betrayal at Pearl Harbor (پرل ہاربر کی غداری) میں لکھا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو جاسوسی اداروں نے پرل ہاربر پر جاپانیوں کے حملے کی پیشگی اطلاع دے دی تھی مگر چرچل نے اسے امریکی صدر روزویلٹ سے چھپا کر رکھا تاکہ امریکا کو بھی جنگ میں شامل ہونا پڑے۔[1]

مزید دیکھے

ترمیم

نگار خانہ

ترمیم
  1. Attack on Pearl Harbor: Why Weren’t We Warned