پری اون (prions) ایک عجیب و غریب قسم کا پروٹین ہوتا ہے جو مختلف شکلیں اختیار کر سکتا ہے اور دوسرے پری اون کو بھی اپنے جیسی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔
1950 کی دہائی میں ایک ڈاکٹر نے پاپوا نیو گنی کے پہاڑی علاقوں میں آباد قباِئل میں ایک انوکھی بیماری دیکھی۔ یہ فورے قبیلہ کہلاتا تھا اور وہ لوگ اس بیماری کو kuru کہتے تھے۔[1]شروع میں بیمار چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ چبانے اور نگلنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاتا تھا اور آخر کار بھوک سے مر جاتا تھا۔ اس قبیلے کے لوگ اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنے مردہ رشتہ داروں کو کھاتے تھے جس سے یہ بیماری دوسروں کو بھی لگ جاتی تھی۔
طبی ماہرین نے بڑی کوشش کی کہ اس جراثیم یا وائرس کو دریافت کر لیں جو اس بیماری کو پھیلاتا ہے مگر ناکام رہے۔ جب یہ بیماری بندروں میں داخل کی گئی تو بندر بھی وہی علامتوں کے ساتھ بیمار رہ کر مر گئے۔ لیکن ساری تحقیق سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ یہ بیماری کسی جراثیم یا وائرس کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ معما یہ تھا کہ اگر یہ کسی جراثیم یا وائرس کے سبب نہیں ہوتی تو ایک مریض سے دوسرے کو کیسے لگتی ہے؟ اس وقت تک خیال کیا جاتا تھا کہ ایک سے دوسرے کو لگنے والے امراض ڈی این اے یا آر این اے کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔

پری اون
برطانیہ میں میڈ کاو کی بیماری کا عرصہ ۔

1982 میں Stanley B. Prusiner نامی سائنس دان نے پری اون دریافت کیا اور اس کا نام proteinaceous infectious only سے اخذ کیا۔1997 میں اسے طب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

پری اون کی دو شکلیں

ترمیم

پری اون کی ایک شکل PrP-sen کہلاتی ہے اور یہ صحت مند انسانوں کے دماغ اور دوسرے خلیوں میں پائی جاتی ہے۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس کا اصل کام کیا ہے۔ جینیٹک انجینیرنگ کی مدد سے ایسے چوہے بنائے گئے جن میں یہ پری اون موجود ہی نہیں تھا۔ بظاہر یہ چوہے بالکل صحت مند تھے۔
پری اون کی دوسری شکل PrP-res کہلاتی ہے جو بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ ان دونوں قسموں میں امینو ایسڈ کی ترتیب بالکل ایک جیسی ہوتی ہے، فرق صرف foldings کا ہوتا ہے۔ شروع شروع میں شبہہ کیا گیا تھا کہ شائید پری اون کے مولیکیول میں ڈی این اے یا آر این اے بھی شامل ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ پری اون (PrP-res) کا مالیکول دوسرا پری اون (PrP-res) جنم نہیں دے سکتا لیکن پہلے سے موجود کسی پری اون(PrP-sen) کو PrP-res میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس طرح چین ری ایکشن شروع ہو جاتا ہے۔PrP-res کے یہ مولیکیول آپس میں جُڑ کر ایمایلوائڈ (amyloid) کا ریشہ بنا دیتے ہیں جو نیورون کی موت کا سبب بنتا ہے۔ ہر انسان کے دماغ میں ایسٹروسائٹ (astrocyte) نامی خلیات ہوتے ہیں جن کا کام مردہ نیورون کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ یہ خلیات ان مردہ خلیات کو کھا جاتے ہیں اور اب جہاں نیورون ہوا کرتا تھا وہاں ایک بہت ہی چھوٹا سا سوراخ رہ جاتا ہے۔ ایسٹرو سائٹ ایمایلوائڈ کو ختم نہیں کر سکتے۔
انسان میں نئے نیورون نہیں بنتے۔

ملتی جُلتی دماغی بیماریاں

ترمیم
 
پری اون زدہ گائے۔ ایسا جانور کھڑا نہیں ہو پاتا۔

غیر متعدی امراض

ترمیم

ایک سے دوسرے کو نہ لگنے والی دماغی بیماریوں میں Alzheimer's disease , Parkinson's disease اور Huntington's disease، شامل ہیں۔ ان بیماریوں میں بھی دماغ کے اندر ایمایلوائڈ (amyloid) کے ریشے بن جاتے ہیں جو دماغی خلیوں (عصبون) کی موت کا سبب بنتے ہیں۔

متعدی امراض

ترمیم

ایک سے دوسرے کو لگنے والی دماغی بیماریوں میں درج ذیل بیماریاں شامل ہیں۔ ان بیماریوں میں دماغ کے اندر ایمایلوائڈ (amyloid) کے ریشے بن جاتے ہیں جن کی وجہ سے دماغ میں لا تعداد انتہائی باریک سوراخ ہو جاتے ہیں جیسا کہ اسفنج میں ہوتے ہیں۔ یہ ساری بیماریاںtransmissible spongiform encephalopathies (TSEs) کہلاتی ہیں۔

  • Creutzfeldt-Jakob کی بیماری(CJD)۔ میڈ کاو کی بیماری جب انسان کو لگتی ہے تو اسے variant Creutzfeldt-Jakob disease (vCJD) کہتے ہیں۔
  • Gerstmann-Straeussler-Scheinker کی بیماری۔
  • کورو Kuru ۔
  • مہلک خاندانی بے خوابی fatal familial insomnia
  • بھیڑ بکریوں میں پائی جانے والی بیماری اسکرے پی (scrapie)۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بیماری انسانوں کو نہیں لگتی۔
  • گائے میں پائی جانے والی بیماری پاگل گائے bovine spongiform encephalopathy [BSE] یا mad cow disease.۔ یہ انسانوں کو بھی لگ جاتی ہے۔
  • ہرن اور بارہ سنگھے میں پائی جانے والی بیماریChronic Wasting Disease
  • بلی میں پائی جانے والی بیماری feline spongiform encephalopathy

دماغ کے متاثرہ حصے

ترمیم
  • kuru میں cerebellum زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ حصہ جسم کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
  • CJD میں cerebral cortex زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
  • مہلک خاندانی بے خوابی میں thalamusزیادہ متاثر ہوتا ہے۔
  • جانوروں کی بیماریوں (اسکرے پی، میڈکاو اور Chronic Wasting Disease) میں برین اسٹم زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

دودھ

ترمیم

خیال کیا جاتا ہے کہ میڈ کاو (mad cow) کا گوشت تو بیماری پھیلاتا ہے مگر اس کے دودھ سے یہ بیماری نہیں لگتی۔[2]

علاج

ترمیم

ایک دفعہ یہ بیماری لگ جائے تو پھر کوئی علاج ممکن نہیں ہے اور موت یقینی ہے۔

ٹیسٹ

ترمیم

5 ستمبر 2008 کو کینیڈا کے محققین نے زندہ گائے میں میڈ کاو کی بیماری کو ٹیسٹ کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا۔ اس سے پہلے مردہ گائے میں ہی یہ بیماری ٹیسٹ کی جا سکتی تھی۔[3]

بچاو

ترمیم

پری اون سے بچنا بہت مشکل ہے۔ یہ ابالنے سے ختم نہیں ہوتا۔ الکحل (اسپرٹ)، تیزاب اور آٹو کلیو (autoclave) بھی اسے بے اثر نہیں کر سکتے۔ تابکار شعاعیں (radiation) بھی اسے نہیں مارتی۔ پکانے سے بھی یہ نہیں مرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیتھولوجی کے میوزیئم میں فورملڈی ہائیڈ میں کئی دہائیوں سے رکھے دماغ میں یہ بیماری پھیلانے کی صلاحیت پائی گئی۔ 1980 کی دہائی میں 60 لوگوں کو یہ بیماری کسی جراحی کے دوران آلودہ اوزاروں سے لگی اور وہ مر گئے۔85 لوگ آلودہ growth hormone کے انجکشن لگنے کے بعد مرے۔ اپریل 2005 تک برطانیہ میں 155 لوگ پاگل گائے کا گوشت کھا کر اس بیماری میں مبتلا ہوئے اور مر گئے۔
mad cow کی بیماری سے برطانیہ سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ جب یہ معلوم ہوا کہ 1یک لاکھ 80 ہزار گائیں اس بیماری میں مبتلا ہیں تو بچاو کی خاطر 44 لاکھ گائیوں کو مار دیا گیا۔[4]
یورپی یونین نے 1996 سے 2006 تک برطانیہ سے گائے کے گوشت کی امپورٹ پر پابندی لگا رکھی تھی۔
جاپان نے امریکا سے گائے کے گوشت کی درآمد پر پابندی لگا دی کیونکہ امریکا میں 3 کروڑ 50 لاکھ گایئں ہیں اور امریکی حکومت صرف ایک فیصدکو اس بیماری کے لیے ٹیسٹ کرتی ہے۔ فارم کے مالکان پر پابندی ہے کہ وہ خود اپنے جانوروں کو ٹیسٹ نہیں کر سکتے۔[5]

اقتباس

ترمیم
  • "کورونا وائرس میں پری اون سے مشابہ ایک ٹکڑا موجود ہوتا ہے۔"

SARS-CoV-2 Spike has a prion-like domain that enhances its infectiousness. [6]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Prions: On the Trail of Killer Proteins
  2. U.S. Food and Drug Administration
  3. Mad Cow Disease Fast Facts
  4. David Brown (19 June 2001)۔ "The 'recipe for disaster' that killed 80 and left a £5bn bill"۔ The Daily Telegraph۔ London۔ اخذ شدہ بتاریخ 07 اپریل 2008 
  5. "Stop the government's mad cow disease test ban"۔ 22 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 فروری 2016 
  6. Covid19 – The Spartacus Letter