الزائمر (انگریزی: Alzheimer's Disease یا Alzheimer Disease) ایک دماغی مرض ہے۔ ابھی تک اس مرض کا علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ یہ مرض خرف کی ایک عام شکل ہے۔ یہ مرض انسان کو آہستہ آہستہ موت کے منہ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ یہ مرض سب سے پہلے جرمن طبیب نفسی (Psychiatrist) اور عصبی ماہر امراضیات (Neuropathologist) الوئیس الزائمر (Alois Alzheimer) نے 1906ء میں دریافت کیا اور اسی مناسبت سے اس مرض کا نام الزائمر مشہور ہو گیا۔

الزائمر
تخصصاعصابیات&Nbsp;تعديل على ويكي بيانات
تعددلوا خطا ماڈیول:PrevalenceData میں 28 سطر پر: attempt to perform arithmetic on field 'lowerBound' (a nil value)۔

اکثر اوقات، الزائمر 65 برس سے زائد عمر کے افراد پر حملہ آور ہوتی ہے۔[1] اگرچہ یہ بیماری اس عمر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے۔ 2006ء میں اس مرض میں 26.6 ملین افراد مبتلا تھے۔ ایک جائزے کے مطابق پوری دنیا میں 2050ء تک ہر آٹھ افراد میں سے ایک فرد اس مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

خصائص

ترمیم

غلطی سے بڑھاپا اور ذہنی دباؤ اس مرض کی علامات میں شمار کی جاتی ہیں۔ اس مرض کے چار درجے ہیں۔ پہلا درجہ "قبل از خرف"، دوسرا "ابتدائی"، تیسرا "درمیانی" اور چوتھا اور آخری درجہ "انتہائی" شدت کا ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق خون میں شکر کی مقدار کی کمی سے یادداشت کی کمی واقع ہونے لگتی ہے جو اس بیماری کا پیش خیمہ ہے۔ یورپ کے معروف طبی جریدے ”نیورون“ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق جس وقت خون میں شکر کی مقدار کم ہوتی ہے تو دماغ کو گلوکوز کی مقدار بھی کم ملتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کی سرگرمی کم ہوجاتی ہے اور اس سے ایک خاص نوعیت کی پروٹین الزائیمر بیماری کو متحرک کرنے کا باعث بنتی ہے۔

طبی ماہرین نے کہا ہے کہ خون میں شکر کی مقدار اور سطح کو نارمل حالت میں رکھ کر اس بیماری کو روکنے کی کامیاب کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فشار خون کو کنٹرول کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ فشار خون زیادہ ہونے سے بھی دماغ میں گلوکوز کی فراہمی کے تناسب میں گڑ بڑ پیدا ہو جاتی ہے۔

علامات

ترمیم

طبی جریدے نیورالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گہری نیند میں ٹانگیں ہلانے، کک مارنے یا سوتے میں رونا دماغی بیماری ”پارکنسن“ کی ابتدائی علامات ہیں۔ اگر اس طرح کے مریض میں تیزی سے آنکھیں چھپکنے کی عادت موجود ہو تو پارکنسن کی بیماری کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بیماری عموماً 50 سال کے مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان مریضوں میں اس بیماری کی دیگر واضح علامات اس کے علاوہ ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر بچوں میں اس طرح کی علامات زیادہ ہوں تو 12 سال کی عمر تک اس بیماری کے آثار واضح ہونے لگتے ہیں۔ طبی ماہرین نے سونے میں باتیں کرنے اور چلنے کی علامات کو بھی پارکنسن کی معمولی علامات میں شامل کیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق نیند میں خلل کی تمام علامات کو دور کرنے کے لیے علاج کرانا ضروری ہے یہ خلل فرد کو بتدریج دماغی بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے۔

مرض کی وجوہات

ترمیم

یہ ایک جینیاتی مسئلہ ہے ہیپلو گروپ H5 کے لوگوں کا اس سے متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے

ابھی تک اس مرض کی وجوہات پر سے پردہ نہیں اٹھایا جا سکا۔[2]

 
ڈی اے ایل وائی۔ 2004ء میں ہر 100،000 باشندوں میں الزائمر اور دیگر خرافات
  معطیات موجود نہیں
  ≤ 50
  50–70
  70–90
  90–110
  110–130
  130–150
  150–170
  170–190
  190–210
  210–230
  230–250
  ≥ 250
 
1902ء میں الوئس الزائمر کا ایک مریض آگسٹ ڈیٹر۔ یہ الزائمر کا باقاعدہ تشخیص شدہ پہلا مریض تھا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. بک میئر آر، گرے ایس، کاواس سی،. امریکا میں الزائمر بیماری کے بارے میں خیالی تصورات. عمومی صحت کا امریکی شمارہ. 1998;88(9):1337–42. doi:10.2105/AJPH.88.9.1337. PMID 9736873.
  2. "ہم الزائمر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟"۔ الزائمر ایسوسی ایشن۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اکتوبر 2011۔ While scientists know Alzheimer's disease involves progressive brain cell failure, the reason cells fail isn't clear. 

بیرونی روابط

ترمیم