پس ساختیات

فلسفیانہ نظریہ

پس ساختیات (انگریزی: Post-Structuralism) سے مراد وہ تمام نظریات و خیالات ہیں جو ساختیات کے اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔ ساختیات 1950ء سے 1970ء کے دوران ایک طاقتور تحریک کے طور پر سامنے آئی۔ فرانس کے علمی و ادبی حلقوں میں بالخصوص اس کا خوب چرچا رہا لیکن ساختیات کے اصولوں کی سخت پابندیوں کے خلاف ردِ عمل کا سامنے آنا ایک فطری بات تھی۔ مابعد جدیدیت اسی ردِ عمل کی ایک صورت ہے جس کے معیاری تصورات نے جدیدیت کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ ان معیاری تصورات میں رد تشکیلیت اور تانیثیت کو اہم تر شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان سب نظریات کے باہم ملاپ سے جو کچھ سامنے آیا اسے پس ساختیات کا نام دیا گیا ہے، کیوں ان سب افکار نے ساختیات کے اساسی مفروضات کے استرداد پر انحصار کیا۔[1] " ادبی تنقیدی نظریہ دان احمدسہیل کا موقف ہے " افلاطون اور ارسطو کے زمانے سے تھیوری میں شعر و ادب کا ڈسکورس ہوتا رہا ہے۔ اس لحاظ سے روایتی معنوں میں تھیوری حس کی تصورانہ اسکیم ہے۔جس کے اپنے اسول، امتیازات اور درجہ بندی ہوتی ہے جو تنقیدی عمل مین ارتقائی اور تحلیلی نوعیت کی درجہ بندی کرتی ہے ۔ جس کو پس ساختیات میں نظریہ { تھیوری } کہتے ہیں۔ جو بعد ازاں اس مخصوص تنقیدی فکر میں حاوی محرک بن جاتا ہے۔ جو بعد میں فکر کو تھیورائز {Theorize} کرتے ہوئے نقاد کی حیثیت اور عملیات کو متعین کرتے ہیں۔ جس میں کئی بندشیں اور مخصوص صورتحال معنویت اور تشریح کے لیے نئیے جبروں کو ابھارتے ہیں۔ اس صورتحال کا عموما زبانی لسان پر اطاق نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن نفسی جنسی معاملات اور معاشرتی ساختیات میں انسانی علوم سے علحیدہ دریافت کئے جاسکتے تھے۔ لیکن ان کا مزاج پس ساختیات سے علحیدہ ہو جاتا ہے اور انسانی شعور کی فطرت اور موضوعیت معاشرتی اور ثقافتی مظہر کہا ہیتیانہ { صوری }حوالہ بنتا ہے۔ مگر فرد کا عمومی تجربی زبان کی تشریح میں کسی نظرئیے کا سبب نہیں بنتا یا عموما نظریہ عارضی طور پر اسے قبول کرلیتا ہے۔ ۔۔۔۔ تجربہ التباس کو رّد کرتا ہے اور نظرئیے سے توقع کی جاتی ہے کی وہ آئیڈیالوجی کے عملیات سے معنویت کے نظام کو تشکیل دے۔۔۔۔۔۔۔ پس ساختیات موضوع کو "لامرکز" کرتی ہے اور انسان دوستی کے واہمے کا پردہ چاک کرتے ہوئے مصنف کے روایتی تناظر کا انکشاف کرتی ہے جس مین مزید انسانی موضوعات در آتے ہیں۔ ، اس خانے سے ادبی اور لسانی معنویت اور تحریری اشیائ کا ادراک ممکن ہوتا ہے۔ اس مقام پر زبان کی اہمیت ہوتی ہے لیکن پس ساختیات لسانی سطح پر کنٹرول کئے جانے والے رموز یات {Codes} سے علحیدہ کرتی ہے۔"{2} {3} ۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ڈاکٹر اقبال آفاقی، مابعد جدیدیت، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد، 2018ء، ص 110

2۔ احمد سہیل ،" پس ساختیات" بشمول کتاب " ساختیاتن تاریخ، نظریہ اور تنقید " ،تخلیق کار پبلشرز، دہلی بھارت ، 1999، صفحات 288۔289 ۔ 3۔ احمد سہیل، " پس ساختیات " بشمول ساختیات، تاریخ ،نظریہ اور تنقید"بک ٹاک، میاں چمبرز۔ 3 ٹمپل روڈ لاہور۔ پاکستان صفحات 316۔ 317۔