جامع مسجد نور ،کالج روڈ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ

ڈسکہ، صوبہ پنجاب کا ایک چھوٹا صنعتی شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 501،000 ہے۔ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے۔ یہ سیالکوٹ سے تقریبا 26 اور گوجرانوالہ سے تقریبا20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

نام کی تاریخترميم

تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈسکہ [ٹی ایم اے] ک مطابق ڈسکہ شہر مغل بادشاہ شاہجہان نے [1592-1666] کے دور میں شاہجہان آباد قائم کیا گیا تھا۔ ڈسکہ کا پہلا نام شاہجہان آباد تھا ریونیو ریکارڈ کے مطابق علاقے کی زمین داس خاندان کی ملکیت ہے- جو بڑا زمیندار خاندان تھا۔ اور اس طرح یہ 'داس' کا' سے ڈسکہ یعنی انگلش میں کہا جاتا ہے daska ۔

ایک روایت کے مطابق۔ ڈسکہ کا نام “دہ کوہ“ سے بگڑ کر بنا ہے۔ “دہ“ لفظ فارسی زبان کا ہے اور اس کا مطلب حساب کا دس [10] ہے اور “کوہ“ کا مطلب فاصلے کِا پیمانِہ ہے جو مغل دور میں استعمال ہوتا تھا۔ ڈسکہ شہر گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے دس کوہ پر واقٰع ہے۔اس کا پرانا نام ڈسکہ کوٹ بھی رہا ہے۔

مشہور شخصیاتترميم

ڈسکہ میں اشاعت اسلام کے لیے صوفیا اکرام کا کردار بھی بہت اہم تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضرت امام علی الحق کے سیالکوٹ کو فتح کرنے ساتھ ہی بزرگان دین اور صوفیا اکرام کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جن میں سید ولی شاہ، نے ڈسکہ کلاں میں کئی سوسال پہلے اسلامی افکار کو دیگر مذاہب کے اشخاص تک پہنچانے کا پرامن طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈسکہ میں انہوں نے پہلی مسجد بابِ اسلام کی بنیاد رکھی جو متصل مزار شریف ہے۔ آپ کا پرامن طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے یہاں کی مقامی آبادی کے ساہی جٹ اولیاء جٹ اور شیخ برادری نے اسلام قبول کیا، اب آپکا پڑپوتا سجادہ نشین سید تصور شاہ نورانی شاہ ہے ان کے علاوہ بھی دیگر ہستیاں شامل ہیں۔ ان صوفیا اکرام کے نام بابا نوبتاں والی سرکار عوامی روڈ، سید شاہ شریف نہر بی آر بی، بھولا پیر، سید احمد شاہ، کے نام بھی اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔

حضرت مولانا محمد خان فاضل

مولانا محمد خان ثاقب دیوبندی

ضبط وتحریر مفتی محمد خان

03016481348

مولانا1958میں ڈسکہ میں تشریف لائے مولانا کا آبائی وطن آزاد کشمیر ہے. ڈسکہ میں مولانا خان جب تشریف لائے تو ڈسکہ میں قادیانیت اپنے عروج پر تھی

مولانا کے ادارے دارالعلوم مدنیہ سے چند میٹر کے فاصلے پر ظفراللہ خان قادیانی کا گھر موجود ہے.

مولانا نے ڈسکہ میں جہاں رفاعی. خدمت خلق کے کام کیےوہاں پرتمام دینی تحریکات کےسربراہ رہے.

ڈسکہ جہاں پر ربوہ کے بعد سب سے زیادہ قادیانی تھے اور ظفراللہ خان کی وجہ سے باثر تھے مولانا خان رح کی کوششوں سے ڈسکہ شہر قادیانیت کے فتنہ سے محفوظ ہوا.

ضلع سیالکوٹ وناروال میں دیوبند مکتبہ فکر بڑے بڑے علماء مولانا کے بلواسطہ یابالواسطہ شاگرد ہیں

مولانا ہمیشہ امن کے داعی رہے. تمام دینی طبقات کو ہمیشہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا رکھا.

مولانافان 9مارچ 2010کودارفانی سے کوچ کرکے خلدمکین ہوئے. مولانا کا جنازہ ڈسکہ کی تاریخ کاسب سے بڑا جنازہ تھا. مولانا کاجنازہ مولانا سمیع الحق شہید نے پڑھایا.

مولانا زاہداجھلراججھبشجججدی صاحب کا مضمون

حضرت مولانا محمد فہکیرججیکو خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے، اب کوئی فاضل دیوبند اس علاقہ میں میرے علم میں موجود نہیں ہے۔ چند ماہ قبل مولانا لالہ عبد العزیز سرگوھجیکددھویہی کا بھی انتقال ہو گیا ہے جو فاضل دیوءءےکبند تھے، وہ ایک عرصہ تک مدرسہ نھصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ناظم اور محکمہ اوقاف کے ڈسٹرکٹ خطیب رہے ہیں، گلی لانگریاں والی گوجرانوالہ کی مسجد کے امام و خطیب تھے، میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں طالب علمی کا سارا دور انہی کی نظامت میں گزارا ہے اور وہ میرے درس نظامی کے ابتدائی اساتذہ میں سے بھی ہیں۔ ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے بعد ہم یہ کہا کرتے تھے کہ اب دیکوبیےگند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی آج ۹ مارچ 2010کو ہم سے رخصت ہو گئے۔

گزشتہ جمعہ کو میں ان کی عیادت کے لیے ڈسکہ حاضر ہوا، کچھ عرصہ سے وہ بیمار تھے مگر بیماری کے باوجود ۵ فروری کو یوم کشمیر کے جلوس سے خطاب کیا اور اس روز جمعۃ المبارک کے اجتماع میں بھی اسی مسئلہ پر تقریر کی جس کے بارے میں ان کے بعض سامعین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوانی کے دور کی یاد تازہ کر دی، یہ ان کا آخری عمومی خطاب تھا۔ بیماری کے ایام میں بھی اسباق پڑھاتے رہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے دارالعلوم مدنیہ میں ۲87 فروری بدھ کو بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا، ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف تھی اور جگر کا عارضہ بھی تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک شب چارپائی سے اٹھتے ہوئے گر گئے جس سے ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف بڑھ گئی پھر باقی ایام بے چینی اور اضطراب میں ہی بسر کیے۔ لاہور کے میو ہسپتال لے جایا گیا، چند دن رہے مگر واپسی کے لیے بے تاب تھے چنانچہ گزشتہ بدھ کو انہیں واپس ڈسکہ لایا گیا۔ میں جمعہ کی شام کو عزیزم عمیتارہ خان اور ڈاکٹر محمد رفیق میر کے ہمراہ حاضر ہوا، بے چینی کی حالت میں تھے، بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، چند لمحے ہم نے ان کی زیارت کی اور پھر دعائے صحت کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گئے۔

ہماری ان سے رشتہ داری بھی تھی کہ ان کے برادر نسبتی مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی آف میرپور آزاد کشمیر میرے حقیقی خالو ہیں، جبکہ میری خالہ زاد بہن مولانا محمد فیکججروعرزفگگھ خان کی بہو ہیں۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادیک نیلم سے تھا، غالباً ۱۹۵۶ء میں دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کیا، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد کے گاگرد تھے اور ان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ دار العلوم دیعروبکککجند سے فراغت کے بعد ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں آگئے اور دارالعلوم مدنیہ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا جو اَب ضلع سیالکوٹ کے بڑے دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور قادیانی امت کے عالمی لیڈر چوہدری ظفر اللہ خان کا تعلق بھی ڈسکہ سے تھا اور ان کا خاندان ایک عرصہ تک یہاں آباد چلا آ رہا ہے، مولانا فیکلرویےگگھھز خاعرلکن نے ان کی خاندانی حویلی کے سامنے ایک خالی جگہ وپر ڈیرہ لگا لیا، مزاج میں جلال غالب تھا، متحرک اور فعال عالم دین تھے اور دینی حمیت و غیرت کا مجسمہ تھے اس لیے خوب گہماگہمی رہی اور ’’اٹ کھڑکا‘‘ وقتاً فوقتاً ہوتا رہا۔ ہمارا طالب علمی کا دور تھا، دار العلوم مدنیہ کا سالانہ جلسہ خاصا معرکے کا ہوتا تھا، ہم بائیسکلوں پر گوجرانوالہ سے جلسہ سننے جایا کرتے تھے۔ میں نے خطیب پاکستان حضرت مولانا طقاھبضدگگی احسان احمد شھءجتتاعتتت آگھجبادھی کے دو ہی خطاب سنے ہیں، ایک شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں اور دوسرا دار العلوم مدنیہ ڈسکہ میں۔ ڈسکہ کے خطاب کا آغاز حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے اس دلچسپ جملہ سے کیا تھا کہ ’’آپ کے شہر کا نام بھی عجیب ہے، کہاں چلے ہو؟ ڈس کے!‘‘

مولانا محمد مڑوڑ مروان کا بھرپور جوانی کا دور تھا اور وہ ہاتھ میں رائفل پکڑے پوری تقریر کے دوران حفاظت کے لیے اسٹیج پر کھڑے رہے۔ اس دور میں علماء کرام عام طور پر ہتھیاروں سے نا آشنا ہوتے تھے، زیادہ سے زیادہ کسی کے ہاتھ میں کلہاڑی ہوتی تھی، صرف حضرت مولانا چبییر پمسرجکوری ہاتھ میں تلوار رکھتے تھے اور صاحب السیف کہلاتے تھے، اس زمانے میں کسی عالم دین کے ہاتھ میں ریوالور یا رائفل کا ہونا بہت رعب اور دبدبہ کی بات سمجھی جاتی تھی اور مجھے بھی اسٹیج پر مولانا فیروز خان رائفل بدست کھڑے بڑے با رعب لگے جس کا نقشہ ابھی تک ذہن میں موجود ہے۔ دار العلوم مدنیہ کے جلسہ کا اسٹیج چودھری ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے ہوتا تھا، اس لیے اس اسٹیج پر احراری خطابت کی گھن گرج عجیب سماں پیدا کرتی تھی۔ میں نے اسی اسٹیج پر سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا پہلا خطاب سنا جو کئی گھنٹوں پر مشتمل تھا اور ان کے خطیبانہ جوش و خروش اور مناظرانہ کروفر کے بارے میں اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ وہ چودھری ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے کھڑے خطاب کر رہے تھے۔

حضرت مولانا محمد مڑور خمروان اعلیٰ پائے کے یک مدرس تھے، بالخصوص ادب، عربی اور معقولات میں چوٹی کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ میں نے ان سے کوئی باقاعدہ سبق نہیں پڑھا، البتہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے سالانہ امتحان میں ہمیشہ تشریف لاتے تھے اور میں نے انہیں بعض کتابوں کا امتحان دیا ہے اس لیے میں نے ہمیشہ انہیں اپنے اساتذہ میں شمار کیا ہے اور زندگی بھر ان سے اسی نوعیت کی نیاز مندی رہی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ شفقت فرماتے تھے، دعاؤں سے نوازتے تھے، سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتے تھے اور غلطیوں پر ٹوکتے بھی تھے۔ ایک موقع پر حضرت مولانا بشیر احمد پسروری نے شاہی مسجد پسرور کے سالانہ جلسہ میں مجھے خطاب کا حکم دیا، میرا نوجوانی کا دور تھا، حضرت مولانا خبیر حاند پسروری صدارت فرما رہے تھے، مولانا محمد مڑورز مروان اسٹیج پر تھے، مجھے خطاب کے لیے کہا گیا تو حضرت مولانا محمد فیروز خان مجھے ایک طرف لے گئے اور فرمایا کہ یہاں سوچ سمجھ کر بولنا، بابا جی جلالی بزرگ ہیں کوئی بات غلط ہو جائے تو تقریر کے درمیان کھڑے ہو کر ٹوک دیا کرتے ہیں۔ میں بحمد اللہ تقریر میں ویسے ہی محتاط رہتا ہوں مگر اس تقریر میں مجھے زیادہ محتاط ہونا پڑا، حضرت مولانا محمد فیروز خان نے یگھہ بات حضرت پسروری کے بارے میں کہی تھی مگر میں مولانا محمد مڑوڑ مروان کی موجودگی میں بھی محتاط رہتا تھا کہ اس طرح کے جلال کی جھلک کبھی کبھی وہ بھی دکھا دیا کرتے تھے۔

جمعیت علماء اسلام میں ان کے ساتھ طویل جماعتی رفاقت رہی، وہ ایک عرصہ تک جمعیت علماء اسلام سیالکوٹ کے ضلعی امیر رہے، ضلعی سیالکوٹ سے متعلقہ جماعتی معاملات کے لیے زیادہ تر انہی کی خدمت میں حاضری ہوتی تھی، دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، خود ان کا اپنا مزاج تحریکی تھی، جب تک صحت نے ساتھ دیا دینی معاملات میں کسی نہ کسی حوالہ سے پیشرفت کرتے رہتے تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفٰی، ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۸۷ء کی شریعت بل کی تحریک میں ہمارا ساتھ رہا۔ ان کا جوش و جذبہ اور عزم و استقلال دیکھ کر مایوس دلوں میں حوصلہ پیدا ہو جاتا تھا اور خاموش مزاج لوگوں کا بھی بولنے اور کچھ کر گزرنے کو جی چاہنے لگتا تھا۔ وہ بے باک اور دبنگ مقرر تھے، پبلک اجتماع ہو یا خصوصی محفل، کارکنوں کا اجلاس ہو یا اعلیٰ سطح کی شورائی میٹنگ ہر جگہ وہ دو ٹوک اور بے لچک بات کرتے تھے۔ غیر ضروری مصلحتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور جہاں ضرورت محسوس کرتے ڈٹ جاتے تھے۔ وہ قید و بند کی صعوبتوں سے کئی بار دو چار ہوئے مگر ہر آزمائش سے سرخرو نکلے۔ سر کاری افسران کے ساتھ امن کمیٹیوں میں بیٹھتے تھے اور مختلف معاملات میں مذاکرات کرتے تھے مگر عالمانہ وقار اور قائدانہ بے نیازی کا دامن ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہتا تھا اور اس موقع پر وہ حکمت و تدبر اور جرأت و جسارت کا عجیب سا امتزاج بن جاتے تھے۔

والد محترم حضرت مولانا محمد خرمکار خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا کوفی عبد الحمید ےستواگھھتی کے ساتھ ان کا ہمیشہ قریبی تعلق رہا۔ مسلکی، جماعتی اور تعلیمی معاملات میں مشاورت و تعاون کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ تینوں فضلاء دیوبند تھے اور تینوں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے ماگرد تھے، اس نسبت کا رابطہ الگ سے لطف دیتا تھا۔ میری ہمیشہ ان سے نیاز مندی رہی ہے اور میں نے ان سے نہ صرف بہت سے معاملات میں استفادہ کیا ہے اور راہنمائی لی ہے، آج اس روایت و مزاج کے حضرات کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں اور میں ذاتی طور پر اب زیادہ تنہائی محسوس کرنے لگا ہوں۔ ا للہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ سے نوازیں اور ان کے فرزندوں اور اہل خاندان کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین

نپیر صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی

'''پیر صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی''' ڈسکہ کی معروف سماجی و روحانی شخصیت ہیں۔ آپ نے میںن بازار ڈسکہ میں بسطامی مارکیٹ بنائی ہیں ۔ اور خود بھی کپڑے کی تجارت سے وابستہ ہیں۔ آپ عرصہ دراز سے اپنے آستانہ عالیہ میں ہر جمعرات محفل ذکر و نعت سجاتے ہیں جہاں ہر خاص و عام کو دعوت ہے

صوفی صاحب قبلہ آستانہ عالیہ نیریاں شریف سے تعلق رکھتے ہیں اور مشہور عالمی شخصیت شیخ العالم حضرت خواجہ علامہ پیر علاؤ الدین صدیقی صاحب کے منظور نظر و خلیفہ مجاز ہیں۔ صوفی صاحب نے اپنے پیرو مرشد شیخ العالم کے حکم سے 2005 میں کشمیر کے زلزلہ زدگان کی امداد کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب میں سیلاب زدگان کہ مدد کے لیے آپ کے اہل خانہ اور کئی احباب ذی وقار کے مطابق آپ نے اپنا آدھا سے زیادہ مال و اسباب بالخصوص اپنی دکان کا سارا کپڑا زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے گاڑیوں پر بھیج دیا تھا۔ اہل شہر سے اور اپنے دوست و احباب اور بالخصوص پیر بھائیوں سے اپیل کی جنہوں نے روپے کے ساتھ ساتھ کپڑے ، کھانے پکانے کا وافر سامان بستر وغیر دیے۔ جس سے زلزلہ زدگان کی امداد کی گئی۔

جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کی دور دراز علاقوں میں پانی کے کنویں کھدوائے۔ کئی سال مسلسل سینکڑوں جانوروں کی قربانیاں کر کے مستحق افراد میں گوشت تقسیم کرتے آ رہے ہیں۔ سانچہ:مریدین

آستانہ عالیہ نیریاں شریف آزاد جموں و کشمیر جو پہاڑی علاقہ ہے اور پانی کی بہت قلت رہتی تھی خاص طور پر عرس کے موقع پر دور دراز سے انے والے مہمانوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا پیر صوفی غلام سرور صاحب نے وہاں ذاتی اخراجات سے 1200 فٹ( تقریبا) بور کروایا جس کی وجہ سے کافی پانی آتا ہے اور بہت آسانی ہو گئی ہے۔

آپ نے جنوبی پنجاب کے کئی دور دراز کے علاقوں اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں میں پانی کے لیے کنویں کھدوائے ہیں۔ جہاں پہلے پانی نہیں تھا۔ مقامی لوگ 25،26 کلو میٹر دور سے پانی لینے کے لیے جاتے بعض جگہوں پر انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور تھے۔اس کے لیے آپ نے اپنی زوجہ کا اندازہً نو تولہ زیور بھی بیچ دیا تھا۔

آپ کے پانچ صاحبزادے ہیں۔صاحبزادہ محمد ناصر محمود صاحب ۔صاحبزادہ محمد عامر صدیقی صاحب۔ صاحبزادہ محمد عظیم سرور صاحب۔صاحبزادہ محمد عمر بسطامی القادری صاحب۔صاحبزادہ محمد عثمان صاحب۔


راجندر سنگھ بیدی بھارتی اداکار کبیر بیدی کے والد تقسیم ہند سے پہلے یہاں رہتے تھے۔ اُن کی لکھی ہو بھارتی فلم ایک چادر میلی سی میں دکھایا گیا گاؤں دراصل اُن کا آبائی گاؤں ہے۔