کرامت علی خان شہیدی

مولوی کرامت علی خان شہید، شاعر وادیب تھے جو بریلی میں 1840ء میں پیدا ہوئے۔ شاعری میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ حج کرنے گئے تو وہاں ہی ان کا وصال ہوا۔

سفر حجترميم

1255ء میں حج کیا اور اسی حج کے دوران ایک قصیدہ غرّا لکھا جو اس طرح شروع ہوتا ہے:

رقم پیدا کیا کیا طرفہ بسم اللہ کے مد کا سر دیوان لکھا ہے میں نے مطلع نعت احمد کا

حج کے اختتام پر مدینہ جا رئے تھے راستے میں بیمار پڑے اور صفر 1256ھ کو گنبد خضراء کے سامنے راستے میں ہی انتقال ہو گيا۔

شاعریترميم

شاعری میں کرامت علی شہیدی، مصحفی اور شاہ نصیر کے شاگرد تھے۔ کچھ عرصہ نواب مصطفی خان شیفتہ کی صحبت میں بھی رئے۔ کرامت علی کی شاعری میں سوز، اخلاص اور والہانہ پن کے جذبات و احساسات نے ایک کیف آور لے پیدا کر دی ہے۔ شہیدی کی انہی خوبیوں کی بدولت ان کا نام اہم شاعروں کے ساتھ آتا ہے۔ زبان و بیاں کی صفات کے لحاظ سے ان کی شاعری لکنھؤی رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔

نعت گوئیترميم

انہوں نے نعت گوئی کم کی ہے، مگر جو نعتیں لکھی ہیں وہ زبان و بیان کے ساتھ ساتھ مذہبی وارفتگی کا اعلا نمونہ ہیں۔ ان یہ شعر:

تمنا ہے درختوں پر ترے روضے کے جا بیٹھے قفس جے وقت ٹوٹے طائر روح مقید کا

[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. دیوان شہیدی، مطبوعہ نول کشور، لکھنؤ۔ 1876ء