تاریخ قبیلہ کرد: ایرانی کرد ایرانی تبار ی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایران میں صوبہ کردستان اور دیگر علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ قبیلہ ایران کے علاوہ ایلام، آذربائیجان غربی، بلوچستان، کردستان، کرمانشاہ، ھمدان، لرستان، خراسان شمالی، خراسان رضوی، گیلان، ماژندران اور قم، قزوین، کرمان، میں مقیم ہیں۔ دیگر کرد علاقے 893ہجری میں جنگ چالدران کے بعد جداہوئے۔ جن میں کردستان ترکیہ، کرداستان عراق، کرد استان سورئیہ شامل ہیں۔ بیشتر کرد قوم مسلمان ہیں مگر ان میں یزیدی، یارسان(اہل حق)، مسیحی اور یہودی شامل ہیں، کرد نوروز، قربان، فطراور دیگر ایران میں منائے جانے والے جشنوں کو عقیدت سے مناتے ہیں۔

کردوں کے نامور شخصیات:

  • سلطان صلاح الدین ایوبی : سلیبی جنگوں کے فاتح اور مصرکے فر مانروا تھے۔
  • نامدار کرد شعراءمیں مستورہ اردلان اور مولوی کرد شامل ہیں ۔
  • امیر نظام گروسی کرد: نامور خوشنویس تھے اور ناصر الدین قاچار کے زمانے میں تھے۔
  • مسعود برزانی
alt text

اول کرد استان کی تمام سر زمین ایران کا حصہ تھا جنگ چالدران میں 1514ءایران کے شکست کے بعد جداہوا۔ ایرانی کردستان سے جدا شدہ علاقے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گئے۔ اور سالوں تک عثمانیوں نے اس سر زمین پر حکومت کی تا آنکہ جنگ عظیم اول کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو یہ علاقے سرزمین کردستان، سرزمین عرب، ایشیاءکوچک اور بلکان کے علاقے دوسرے ملکوں کاحصہ بنے۔ سرزمین کرد استان ایران سے الگ ہونے کے بعد آج کے جغرافیائی نقشے میں یہ تین ممالک ترکیہ، عراق اور سوریہ میں تقسیم ہوا۔

مذہب:

کرمان شاہ اور ایلام میں مقیم کردوں کا تعلق شیعہ اسلامی فقہ اورکچھ حصہ سنی اسلامی فقہ سے ہے۔ ایران میں لر کے مقام پر صرف شیعہ کرد مقیم ہیں۔ کردستان کے کچھ حصوں اور آزرذربایجان غربی اہل سنت سے ہیں۔ کرد قبیلہ کے اندر پچاس ہزار خاندان کا تعلق یزیدی مذہب سے ہے۔ ان کے علاوہ کردوں میں ایک اور جمیعت بنام فرقہ یارسان یا اہل حق کے نام سے مشہور ہیں جو علاقہ دلاھو اور کرمانشاہ میں مقیم ہیں۔ ان کے علاوہ کردوں میں مسیحی اور یہودی مضحب کے افراد بھی ہیں۔[1]

قبیلہ کرد بلوچستان پاکستان میں

یہ قبیلہ دوسرے بلوچوں کے ساتھ بلوچستان میں اس وقت داخل ہوا جب پندر ہویں صدی کے شروع میں میر جلال ہان اور میر شیہک نے چوالیس قبیلوں کے ساتھ اس سر زمین میں قدم رکھا۔ کہا جاتا ہے کی شروع میں صرف چار قبائل کرد بدرو، ٹوکالی، سیان اورچانڈو ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔ ان تینوں میں سے صرف کرد بدرو نے بلو چستان میں رہائش اختیار کی۔ ٹوکالی پہلے بگٹی کے علاقے میں رہائش پزیر ہوئے لیکن بعد میں ڈیرہ غازی خان چلے گئے۔ جہاں اب وہ مزاری قبیلہ کا ایک حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ چوتھا گروہ چانڈو بلوچستان میں کچھ عرصہ عارضی قیام کے بعد واپس سیستان چلا گیا۔ اور اب وہ وہاں بلوچ قبائل بامانی اور ڈامانی کے ساتھ رہتے ہیں۔ جب یہ رند قبیلہ کے ساتھ رہتے تھے تو رندوں میں شمار ہو تے تھے۔ لیکن رندوں کے کچھی کی طرف چلے جانے کے بعد یہ لوگ بروہی قبیلوں کے ساتھ مل جل گئے۔ یہ دو زبانیں بولتے ہیں کوئٹہ، مستونگ، پنگو اور درہ بولان کے آس پاس رہتے ہیں۔ ضلع کچھی میں بھی ان کی کچھ زمینیں ہیں۔ 1800ء سے قبل ان کی جنگی صلا حیت رکھنے والے افراد کی تعداد آٹھ سو تھی۔ جن میں سے اپنے قبیلے طرف سے جنگ کے زمانے میں تین سو آدمی قلات لشکر کے ساتھ اس کا حصہ بن جا تے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کرد شمالی ایران اور عراق کے کردوں کے بڑے قبیلہ کا ایک حصہ ہیں۔ کرمان میں بلوچوں کے ہمسائے ہونے کی وجہ سے تیر ہویں صدی میں ہجرت اور سیاسی وجوہ کی بنا پر وہ بلوچوں کے ساتھ مل جل گئے۔ اور بعد میں بلوچستان آ گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی کردی زبان چھوڑ کر بلوچی اور بروہی زبانیں اپنالیں۔ یہ قبیلہ عراقی کردوں اور بلوچوں سے زیادہ مشابہ ہے،

کرد بلوچ چونکه مشهور یه هے که کرد قبیله اصل میں کردستان سے آئے هوئے هیں اسی لئے کرد سے مشهور هیں. عام طور پر کرد براهوی بلوچی بولتے هیں جبکه خاران اور پنجگور کے رهنے والے کرد مکرانی اور مغربی بلوچستان کے کرد رخشانی یا سرحدی بلوچی بولتے هیں. کرد زیاده تر بولان، دشت اور مرو میں رهتے هیں جبکه مستونگ، درینگڑھ، کھڈکوچه اور کویٹه میں بهی رهتے هیں. کرد سردار خیل مرو میں رهتے هیں. مغربی بلوچستان (ایران) میں کرد خاش کے سنجان، سراوان اور سیستان میں بهی آباد هیں. کرد کے مندرجه ذیل شاخیں هیں (۱) مدیزئی (۲) زردارزئی (۳) شدنزئی (۴) شادیزئی (۵) محمدزئی (۶) پلانزئی (۷) مسعودانی (۸) گورگیزئی (۹) کرمزئی (۱۰) صفرزئی. مغربی بلوچستان میں کرد قبیله کے شاخیں: سهرابزئی، میربلوچ زئی، مطفی زئی، کدازئی، شاه کرمزئی، برهان زئی جمال زئی، مرادزئی، عجبزئی، عالم خانزئی، علی بیگزئی، سکلزئی، شهدادزئی، میر یحی زئی ....... مغربی بلوچستان میں کرد معتبرین میں مرحوم داد محمد خان کرد قابل ذکر هیں

بعض تاریخ نویسوں نے ساتکزئی کو بهی کرد شمار کیا هے، جبکه ساتکزئی الگ اور کردوں کا همسایه طائفه هے. مرکزی بلوچستان میں کرد معتبرین خدائے داد خان، ملک دینار خان، الله ڈته، یار محمد اور ملک دینار دوم هیں. اس وقت (۲۰۱۶ء) میں سردار دینار خان کرد، میر محمد عاصم کرد گیلو. میر عبد الرؤف کرد، [2]

مشاہیرترميم

شاخیںترميم

  • کرد یا کرد بدرو
    • مرے زئی
    • کرمون زئی
    • سردا زئی
    • شودنزئی
    • ماسودنی
    • گور کیزئی
    • شادے زئی
    • محمد زئی
    • پھلان زئی
    • سفر زئی
    • ساتک زئی [3]

حوالہ جاتترميم

  1. مردم کرد
  2. (حبیب بلوچ: از تاریخ بلوچستان، بلوچ تاریخ اور عرب تهذیب)
  3. بلوچستان تاریخ کے آئینے میں
  • نسب نامہ جہریج (قبائل سندھ) 1936ء
  • تاریخ دودائی
  • تاریخ کرد
  • تاریخ طبرایٰ
  • بلوچستان تاریخ کے آئینے میں

بلوچ قبائل کی فہرست