بنیادی طور پر کمپیوٹر صرف اور صرف 1 اور 0 کی زبان سمجھتا ہے۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کمپیوٹر سے 1 اور 0 کی زبان میں کمپیوٹر سے تبادلۂ خیال کرے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ایسی زبانیں ایجاد کی گئیں ہیں جن کے ذریعہ کمپیوٹر کے ساتھ با آسانی تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

ایسا کوڈ جسے کمپیوٹر براہ راست چلا سکتا ہے اسے اوبجیکٹ کوڈ (Object Code) کہتے ہیں۔ جبکہ ایسا کوڈ جسے کمپیوٹر براہ راست چلانے کے قابل نہ ہو اسے سورس کوڈ (Source Code) کہتے ہیں۔

بنیادی طور پر ان زبانوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

  1. بنیادی زبانیں
  2. درمیانی درجاتی زبانیں
  3. اعلیٰ درجاتی زبانیں

بنیادی زبانیںترميم

ایسی زبانیں جو کمپیوٹر کی مادری زبان کے قریب ترین ہیں اس زمرے میں شمار کی جاتی ہیں۔

مشین زبانترميم

کمپیوٹر کی مادری زبان جو صرف 1 اور 0 ہے کو مشینی زبان کہا جاتا ہے۔ مشنی زبان میں لکھے گئے پروکرام عام طور پر بہت تیزی سے کام کرتے ہیں۔ مگر ان کا نقصان یہ ہے کہ ہر مشین کی زبان مختلف ہوتی ہے۔ ایک مشین پر لکھا ہوا کوڈ دوسری مشین پر نہیں چلتا۔1 اور 0 سے مراد بالکل ایسے ہی ہے جسے بجلی کا آنا اور بند ہو جانا، 1 سے مراد بجلی کا آنا ہے اور 0 سے مراد off یعنی بند ہو جانا ہے۔

زبان جمعیہترميم

زبان جمعیہ یا اسمبلی زبان کمپیوٹر کی مادری زبان کے قریب ترین زبان ہے۔ اس میں 1 اور 0 تو استعمال نہیں ہوتے مگر اشکال استعمال ہوتی ہیں۔

اسمبلی کو چلانے سے پہلے کمپیوٹر اپنی زبان میں کوڈ کو ڈھالتا ہے۔ اس کام کے لیے جو پروگرام استعمال ہوتا ہے اسے اسیمبلر کہتے ہیں۔

درمیانے درجہ کی زبانیںترميم

یہ کمپیوٹر کی ایسی زبانیں ہیں جوبنیادی زبان کے قریب تر ہیں۔ مثلا c وغیرہ

اعلی درجہ کی زبانیںترميم

یہ وہ زبانیں ہیں جنہیں انسان باآسانی سمجھ لیتے ہیں۔ اس زمرے میں

  1. جاوا Java
  2. سی پلس پلس ++C
  3. پائیتھون Python
  4. ویژول بیسک Visual Basic
  5. روبی Ruby
  6. فورٹران
  7. کوبول کوبول
  8. لسپ LISP
  9. پاسکل PASCAL
  10. بیسک BASIC

وغیرہ زبانوں کا شمار ہوتا ہے۔