کچھ نہیں (انگریزی: Nothing) کچھ یا کسی چیز کے نہ ہونے کا اظہار ہے جس کی کہ کوئی شخص یا گروہ یا منطقی صیغہ توقع کر سکتا ہے یا امید کر سکتا ہے ( جیسا کہ اکثر فقروں میں کہا جاتا رہا ہے کہ "ہم نے کچھ نہیں پایا" یا "وہاں کچھ نہیں ہے")۔ اس کے علاوہ یہ کسی چیز عدم فعالیت کا بھی اشارہ کرتا ہے جس کا فعال یا کارگر ہونا متوقع ہو سکتا ہے (جیسا کہ فقروں میں دیکھا گیا ہے کہ "کچھ نہیں ہوا" اور "کچھ نہیں ہو سکا")۔

ریاستہائے متحدہ امریکا کی 1920ء میں جاری فلم "جھوٹی باتوں کے سوا کچھ نہیں" (Nothing But Lies) کا ایک تشہیری پوسٹر جس میں ٹیلر ہومز بھی دیکھے گئے۔ یہ اشتہار ڈولوتھ ہیرالڈ میں 27 جولائی 1920ء کو اخبار کے صفحہ نمبر 5 میں شائع ہوا۔

اردو زبان کے شاعر شہباز مہتر نے فعالیت اور ہیئت میں "کچھ نہیں" کے استعمال کا اظہار ایک واضح طور پر اپنی نظم نکمے سے کچھ نہیں ہوگا کے شروع میں یوں کیا ہے:

جس نکمے سے کچھ نہیں ہوگا
اس کے مرنے سے کچھ نہیں ہوگا
پیار کرنا ہے تو دماغ لگاؤ
دل لگانے سے کچھ نہیں ہوگا[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم