گشتاسپ یا ویشتاسپ لہراسپ کا بہادر بیٹا جس نے روایت کے مطابق ایک سو بیس سال تک ایران پر حکومت کی۔ اس کی ماں کیانی خاندان سے نہ تھی اس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو تخت کا حق دار نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے باپ سے خفا ہوکر قیصر روم کے دارالسلطنت میں پناہ لی اور اس کی بیٹی کتایون سے شادی کی۔ لہراسپ نے آخرکار بیٹے کو معاف کر دیا اور تخت و تاج اس کے حوالے کر دیا۔ زرتشت اسی کے عہد میں پیدا ہوا اور جب زرتشت نے اپنے مذہب کی تلقین کی تو گشتاسپ نے بھی ان کا مذہب قبول کر لیا اور آگ کی پرستش شروع کر دی۔ اس نے خاقان، چین اور چاسپ کو خراج دینا بند کر دیا جس کی وجہ سے ایران اور چین میں لڑائی چھڑ گئی، اس لڑائی میں گشتاسپ کے بیٹے اسفندیار نے بڑا نام پیدا کیا اور چین اور ان کی فوجوں کو شکست دی، بالآخر گشتاسپ نے کیانی روایت کے مطابق بادشاہت اپنے پوتے بہمن اسفندیار کو سونپ دی اور خود یزدان کی عبادات میں مصروف ہو گیا۔ گشتاسپ کا سورما بیٹا اسفندیار باپ کی حیات ہی میں رستم سے لڑتا ہوا مارا گیا تھا۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. اردو انسائیکلوپیڈیا/839