گلف ایئر (انگریزی:Gulf Air ) بحرین کی ہوائی کمپنی ہے ۔[1] گلف ایئر کا مرکزی دفتر بحرین کے ائیر پورٹ Bahrain International Airport پر واقع ہے۔

گلف ایئر
A9C-FB 15062018LHR (42014775555).jpg
 

آیاٹا
GF  ویکی ڈیٹا پر (P229) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آئیکاو
GFA  ویکی ڈیٹا پر (P230) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمز الندا
؟؟
تاریخ آغاز 1950  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک Flag of Bahrain.svg بحرین  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طیارے ایئربس اے320،  ایئربس اے330،  787 ڈریم لائنر  ویکی ڈیٹا پر (P121) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قانونی حیثیت جوائنٹ اسٹاک کمپنی  ویکی ڈیٹا پر (P1454) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حوالہ جاتترميم

  1. "ائیرپورٹس ڈیٹا بیس". 20 نومبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 نومبر 2015. 

مزید دیکھیےترميم

ایئر کا پاکستان سے تنازع

1980 کی دہائی کے ابتدائی برسوں سے ہی گلف ایئر پاکستان انٹرنیشل ایئرلائن کے ساتھ سینگ پھنسا بیٹھی تھی جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانی تھے۔

چونکہ پاکستان سے بڑی تعداد میں سستی اجرت پر کام کرنے والے مزدور خلیجی ممالک میں آ رہے تھے جنھیں لانے اور لے جانے کا تقریباً سارا کام پی آئی اے کرتی تھی جس میں اس کا مقابلہ گلف ایئر سے تھا۔

دبئی کے موجودہ حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دبئی ایئرپورٹ کے لیے اوپن سکائی پالیسی رکھی جس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی بھی ایئرلائن جتنی مرضی چاہے پروازیں دبئی کے لیے چلا سکتی تھی اور اس کا پورا فائدہ پی آئی اے اٹھاتی تھی۔

چونکہ گلف ایئر کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کرے، اسی لیے اس نے پاکستانی حکومت پر اس مقصد کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا جسے پاکستانی حکومت نے پی آئی اے کے تحفظ کے لیے مسترد کر دیا۔

جب گلف ایئر کی دال پاکستانی حکومت کے ساتھ نہیں گلی تو اس نے دبئی کی حکومت پر اس مقصد کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اپنی اوپن سکائی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے جس سے دبئی کے حکمرانوں نے انکار کیا اگرچہ ابوظہبی کی حکومت گلف ایئر میں 25 فیصد حصص کی مالک تھی۔

جب یہاں بھی بات نہ بنی تو گلف ایئر نے دبئی کی حکومت کو سبق سکھانے کے لیے دبئی کے لیے اپنی پروازوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی۔ جہاں گلف ایئر دبئی کے لیے ان دنوں ہفتہ وار 84 پروازیں چلاتی تھی وہیں ان میں نصف سے بھی زیادہ پروازیں بند کر کے ہفتہ وارپروازیں 39 کر دی گئیں۔