گوہر نصیبا 13 ویں صدی کی ایک سلجوق شہزادی تھیں جو سلجوق سلطان قلج ارسلان ثانی کی صاحبزادی اور کیخسرو اول کی ہمشیرہ تھیں۔ ترکی کے شہر قیصری (یا قیصریہ)میں ان کے نام سے موسوم شفا خانہ (دار الشفاء)، طبی تعلیم کے لیے مختص مدرسہ اور مسجد نے انہیں ایک لافانی حیثیت دے رکھی ہے۔ یہ کمپلیکس (ترکی زبان: کلیہ) سلجوق طرز تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور آج بھی قیصری میں شہزادی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ شفا خانہ 1204ء سے 1206ء کے درمیان تعمیر ہوا جبکہ مدرسہ 1206ء میں گوہر نصیبا کے انتقال کے بعد تعمیر ہونا شروع ہوا اور 1210ء میں تکمیل کو پہنچا۔ دارالشفاء، مسجد اور مدرسے پر مشتمل یہ پورا کمپلیکس شہزادی گوہر نصیبا سے ہی موسوم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بستر مرگ پر گوہر نصیبا نے اپنے بھائی کیخسرو اول کے سامنے آخری خواہش ظاہر کی تھی کہ ایک دار الشفاء قائم کیا جائے جہاں مریضوں کا مفت علاج کیا جائے۔ اسی خواہش کی تکمیل میں کیخسرو نے یہ شفا خانہ تعمیر کیا۔ اس شفا خانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ذہنی مریضوں کا علاج کرنے والا دنیا کا پہلا شفا خانہ تھا۔ علاوہ ازیں یہ سلجوقیوں کی اولین تعمیرات میں سے واحد عمارت ہے جو اناطولیہ میں آج تک سلامت ہے۔ آج یہ شفا خانہ طب سے وابستہ ایک عوامی عجائب خانے کے طور پر موجود ہے۔ قیصری کی سب سے بڑی جامعہ کا ہسپتال بھی گوہر نصیبا سے موسوم ہے۔

گوہر نصیبہ مرکز طب و صحت اور مدرسہ کا فضائی منظر، زیر نظر تصویر میں مسجد بھی نمایاں ہے