ہمام بن منبہ حافظ الامت سیدنا ابوہریرہ کے شاگرد تھے،حدیث کی اولین ترین کتاب صحیفہ ہمام ابن منبہ ان کی تالیف ہے۔

ہمام بن منبہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 660  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 750 (89–90 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسبترميم

أبو عقبہ ہمام بن منبہ بن كامل بن شيخ، اليمانی الصنعانی الابناوی تابعین کی نسل میں سے تھے۔ آپ کے والد منبہ بن کامل کے چار فرزند جن کے نام ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ، معقل بن منبہ اور غیلان بن منبہ تھے۔
ہمام بن منبہ جنوبی عرب کے باشندے تھے جبکہ آپ کی اصل ایرانی تھی۔ آپ کی ولادت ایک ایسے فارسی خاندان میں ہوئی جو طلوع اسلام سے پہلے نوشیروان کسریٰ کے عہد میں ایران سے آکر جنوبی عرب میں رہائش پزیر ہو گیا تھا۔ یہ لوگ ابناء فارس کہلاتے تھے۔ ابناء دراصل ان ایرانیوں کی اولاد کو کہتے ہیں جو یمن کو فتح کرنے کے بعد وہیں بس گئے تھے۔ یہ فوج نوشیروان کسریٰ نے سیف بن ذی ایران کی درخواست پر حبشیوں سے جنگ کرنے کے لیے بھیجی تھی۔

ولادتترميم

ہمام بن منبہ 40ھ بمطابق 660ء صنعاء کے قریب ایک جگہ ذمار میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پزیر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ الیمانی صنعانی الابناوی کہلاتے تھے جبکہ آپ کی کنیت ابو عقبہ تھی۔

خاندانترميم

ہمام بن منبہ کے چھوٹے بھائی وہب بن منبہ ایک عرصہ تک اپنے وطن میں قاضی رہے۔ ھمام بن منبہ کی طرح وہب بن منبہ بھی بہت زاہد و عابد تھے۔ انہوں نے 20 سال تک عشاء اور فجر کی نماز ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کی۔ 100ھ میں وہ مکہ مکرمہ میں موجود تھے۔ یہاں انہوں نے متعدد نامور فقہاء سے فیض حاصل کیا۔ عمر کے بالکل آخری حصے میں انہیں یمن میں قید خانے میں ڈال دیا گیا جس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی البتہ وہ دین کی خاطر اس قید پر راضی تھے اور کہتے تھے کہ "رب تعالیٰ نے ہمارے لیے قید مقرر کی تو ہم نے اس کی عبادت اور زیادہ کردی"۔

مرویاتترميم

ہمام بن منبہ ایک ثقہ راوی ہیں۔ آپ سیدنا ابوہریرہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ آپ اپنے استاد کی از حد قدر کیا کرتے تھے اور ان کی خدمت میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔ آپ نے ابوہریرہ سے نہ صرف حدیث کی تعلیم حاصل کی بلکہ معلم کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کے مختلف مظاہر و محاسن کی آگاہی بھی حاصل کی۔ ہمام بن منبہ اپنے استاد اور رہبر و رہنما ابوہریرہ سے مختلف نکات کے بارے میں سوالات کرتے رہتے تھے اور ان کے سیر حاصل جواب پاتے تھے۔ آپ اپنے استاد کے اس قدر مقرب ہو گئے کہ انہوں نے آپ کو ایک صحیفہ حدیث عنایت کیا جس کی آپ نے تاعمر انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ حفاظت بھی کی اور ان احادیث کو حتی الامکان دوسروں تک بھی پہنچایا۔

وفاتترميم

ہمام بن منبہ نے مختلف اسلامی جنگوں میں بھی بھرپور حصہ لیا اور مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ غازی کا مرتبہ بھی حاصل کیا۔ آپ نے لمبی عمر پائی اور 131ھ بمطابق 749ء میں اپنے وطن صنعاء میں ہی وفات پائی۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. طبقات ابن سعد،جلد 5۔ تہذیب التہذیب ،ابن حجر،جلد 11۔ سیر اعلام النبلاء،امام ذہبی، جلد 5۔ کتاب الثقات ،ابن حبان،۔ کشف الظنون،حاجی خلیفہ۔