ابو ہریرہ

(ابوہریرہ سے رجوع مکرر)

ابو ہریرہ حدیث کے سب سے بڑے راوی سلطان الحدیث اور سر خیل اصحابِ صفہ کہلاتے ہیں

ابو ہریرہ
(عربی میں: أبو هريرة ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
أبو هريرة.png

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 604  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الباحہ علاقہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 678 (73–74 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وادی عقیق[1]،  مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ (632–661)
Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ (661–678)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک،  طاؤس بن کیسان،  محمد بن سیرین  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام میں اختلافترميم

آپ کے نام کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ آپ کا نام اسلام لانے سے قبل میں عبد الشمس اور اسلام لانے کے بعد عبد الرحمن ابن صخردوسی ہے،کسی نے عمر بن عامر، کسی نے عبد اللہ بن عامر بھی لکھا

قبول اسلامترميم

خیبر کے سال اسلام لائے،چار سال سفر و حضر میں حضور کے ہمراہ سایہ کی طرح رہے،آپ بلیوں سے بہت پیار کرتے تھی،حتی کہ ایک بار اپنی آستین میں بلی لیے ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ابوہریرہ یعنی بلیوں والے ہو،تب آپ اس کنیت سے مشہور ہو گئے،مدینہ منورہ میں 59ھ میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئے 87 سال عمر پائی،غضب کا حافظہ تھا،آپ سے چار ہزارتین سو چونسٹھ حدیثیں مروی ہیں۔[3] قبول اسلام کے بعد رسول اللہ نے آپ کا نام عمیر رکھا۔ ہریرہ، ہرہ (بلی) کی تصغیر ہے۔ آپ کو بلیوں سے بہت انس تھا اس لیے اس کنیت سے مشہور ہوئے۔ غزوہ خیبر کے موقع پر مدینہ آکر اسلام قبول کیا اور زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ کی صحبت میں گزارا۔ ۔ حضرت عمر کے زمانے میں مدینے میں گوشہ نشین ہو گئے اور یہیں بعض روایات کے مطابق 78 سال کی عمر میں انتقال کیاتھا۔

حلیہترميم

رنگ گندم گوں، شانے کشادہ، دانت آبدار تھے اور آگے دو دانتوں کے درمیان میں کی جگہ خالی تھی۔ زلفیں رکھا کرتے تھے اور بالوں میں زرد خضاب کرتے تھے اور داڑھی کو سرخ مہندی لگاتے۔[4] لباس عموماً سادہ استعمال کرتے تھے عموماً دو رنگین کپڑے ہوتے تھے کبھی کبھی کتان وغیرہ کے بیش قیمت لباس بھی استعمال کیا کرتے تھے۔[5]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب مصنف: Aydın Əlizadə — عنوان : Исламский энциклопедический словарь — ناشر: Ansar — ISBN 978-5-98443-025-8
  2. https://www.al-islam.org/abu-hurayra-abdul-hussayn-sharafiddeen-al-musawi/his-death-and-his-offspring — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2017
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد 1 صفحہ25نعیمی کتب خانہ گجرات
  4. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 3، ص 518
  5. صفہ اور اصحاب صفہ از مولانا مفتی مبشر ص 135