یوسف عارفی بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور کے افسانہ نگارتھے۔ ان کا ایک افسانوی مجموعہ "آج کے بعد" منظرِ عام پر آچکا ہے۔

ناقدین کی آراءترميم

معروف افسانہ نگار احمد ہمیش یوسف عارفی کے فن کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

مصوری کی تنقید کی ایک اصلاح Mass کے مطابق کسی پینٹنگ کو نامیاتی کل میں دیکھتے ہوئے مجموعی تاثر ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح یوسف عارفی کہانیوں کو ماس Mass میں پڑھتے ہوئے ہماری موجودہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ مغائرت نظر آتا ہے۔[1]

ناصر بغدادی یوسف عارفی کے فن کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

میں پچھلے پینتیس برسوں سے یوسف عارفی کو ایک تخلیقی افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ میں عارفی کے فن اور ان کے نظام فکر سے بہت متاثر ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اردو فکشن کے ناقدین بھی ان کے افسانوں کی اہمیت کو تسلیم کریں گے[2]

حوالہ جاتترميم

  1. آج کےبعد،یوسف عارفی، حامد پبلی کیشنز، بنگلور
  2. آج کےبعد،یوسف عارفی، حامد پبلی کیشنز، بنگلور، صفحہ 9، اا