آخوند درویزہ ننگر ہاری جو خواص آخوند صاحب اور عوام میں آخون کے نام سے مشہور ہیں، کیونکہ آپ متبحر عالم تھے اور بہترین مدرس بھی۔ اس لیے آپ کو آخون کے نام سے پکارا گیا۔

آخوند درویزہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1533  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بونیر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1638 (104–105 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ سید علی ترمذی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسبترميم

آپ کا نام درویزہ، والد کا نام گدا، دادا کا نام سعدی اور لقب رئیس الفضلاء ہے۔ آپ علاقہ ننگرہار ملحقہ کابل 940ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا جناب سعد ی کو ننگر ہار میں شہید کیا گیا تو آپ کے والد جناب گدا مہمندوں میں آکر آبا د ہوئے۔ جناب درویزہ کی ابتدائی عمر کا بیشتر حصہ مہمندوں ہی میں گذرا، آپ کو ابتدا ہی سے طلب علم، اتباع سنت اور ترک بدعت، زہد و ریاضت کا شوق دامنگیر تھا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ’’ معرف الٰہی اور ہول قیامت و قبر کا جذبہ بچپن ہی سے مجھ پر اتنا غالب تھا کہ میں بسا اوقات روتا رہتا اور نہ سمجھتا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ والدہ صاحبہ میری اس کیفیت کو دیکھ کر مجھے تھپڑ بھی رسید کر دیتیں۔ مگر ذوق و شوق الٰہی کی طلب بڑھتی ہی گئی۔

تعلیم و تربیتترميم

آپ سب سے پہلے اس وقت کے بہت بڑے عالم مصر احمد کی خدمت بابرکت میں بطور شاگرد پیش کیے گئے۔ مولانا مصراحمد جناب سید محمود صاحب بخاری ولی کامل کی اولاد سے تھے۔ انھوں نے درویزہ صاحب کو اپنے مکتب میں داخل کر کے اسباق میں مصروف کر دیا۔ پہلے سال میں قرآن مجید یاد کیا، چند ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ دوسرے برس متوسط کتابیں پڑھ لیں، آپ کا قوت حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ آپ جو کتاب پڑھتے ازبر ہوجاتی۔ اس کے بعد مزید علم کے حصول کے لیے آپ مولانا جمال الدین ہندوستانی کے پاس حاضر ہوئے۔ ان کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے آراستہ ہو گئے۔ آپ تقریباً سات برس ان کے پاس رہے۔ علوم متداولہ سے فراغت حاصل کر کے نے بعد حصول معرفت میں کوشاں ہوئے۔ آپ خود فر ماتے ہیں، روحانی بے قراری اور بے چینی بہت پریشان کرتی اور حصول علم کے بعد بھی اطمینان قلب میسر نہ تھا۔ آپ نے اس وقت کے ایک جامع شریعت و طریقت عالم جناب ملا سنجر کی خدمت میں اپنی اس پریشانی کا اظہار کیا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے بیسیوں شاگرد تھے اور آپ کے علم و فضل کا کافی شہرہ ہو چکا تھا۔ جناب ملاسنجر، جناب آخوند صاحب کو لے کرشیخ الاسلام و المسلمین جانشین غوث الاعظم جناب سید علی ترمذی المشہور پیر بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جناب آخوند نے اپنے علم، زہد، ریاضت اور عبادت کا تمام حال عرض کیا اور ساتھ ہی اپنی پریشانی کا بھی تذکر ہ کیا۔ جناب پیربابا صاحبؒ نے متبسمانہ انداز میں فرمایا۔ افغانوں کے شیخ کامل بن گئے ہو۔ مگر ارشاد فرمایا یہ طریقہ صحیح نہ اس لیے کہ بغیر شیخ کامل کی اجازت کے زہد و ریاضت کا انجام گمراہی کے کھڈے میں گرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا مبتدی کو چاہیے کہ زہد و ریاضت اس طریقے پر کرے جو طریقہ جناب سید پاک ﷺ سے ثابت ہے اور بھی نصیحتیں فرمائیں۔ اور اس کے بعد آخوند نے تجدید توبہ کروائی اور نماز باجماعت، ایام بیض کے روزے، صلواۃ اوابین اور دیگر واجبات و سنن پر مستقیم رہنے کی تاکید فرمائی۔ آپ قاشقارپہنچے۔ ان دشوار گزار پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے وارد ’’کشمیر‘‘ ہوئے۔ اورپھر واپس لوٹے، اثناء سفر میں بھی آپ علما ء صلحا ء اور فقرا ء سے استفاد ہ حاصل کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں جناب فضیلت مآب ملاباسی کی خدمت میں رہ کر خوب فیض پایا۔ فرماتے ہیں جب واپس اپنے شیخ کی خدمت با برکت میں پہنچے توپیر بابا نے ہر چہار سلاسل میں آپ کو ماذون اور معنعن فرمایا۔ ( یعنی سلسلہ، چشتیہ، سہروردیہ، کبرویہ اور شطاریہ میں) اور سلسلہ عالیہ منصوریہ حلاجیہ میں اجازت مرحمت نہیں فرمائی فرماتے ہیں۔

پیر بابا رحمةالله علیه سے ملاقاتترميم

حضرت اخوند درویزہ فرماتے ہیں کہ کسی وجہ سے کچھ عرصہ میں پیربابا رحمةالله علیه سے ملاقات نہ کرسکا ۔ آپ نے سبب پوچھا میں نے عرض کیا کہ حضورخالی ہاتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہونا مناسب نہیں سمجھتا، آپ نے اعراض کرتے ہوئے فرمایا ۔ وہ لوگ جو اونٹ ،گائے اور گھوڑے لنگر میں پیش کرتے ہیں ان کو میں دوست یا مرید نہیں خیال کرتا ۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانتا ہوں۔ مگر ہاں میرے دوست اور مرید وہ ہیں جو مجھ سے روحانی فائدہ حاصل کرتے ہیں اور میرے احوال پر نظر رکھتے ہیں۔[1]

تصنیفاتترميم

آپ کی تصانیف جو شائع ہوئی ہیں مندرجہ ذیل ہیں۔

  • 1۔ تذکرۃ الابرار و الاشرار:یہ کتاب علما متقین، اولیاا للہ اوراس وقت کے ملحدین کے حالات پر مشتمل ہے، اس میں پہلے تذکرہ میں جناب پیر بابا کا ذکر خیر ہے، دوسرے تذکرے میں افغان قوم کی تاریخ کہ اس قوم کی ابتدا کیا ہے اور کس طرح مختلف ملکوں کے تحت ہوئی۔ ماہیت انساب کا بیان، او راپنا اس قوم سے تعلق، اس کے بعد سلسلہ ہائے طریقت کا ذکر، تیسرے تذکرہ میں ان تمام (بقول ان کے ) اشقیا اور ملحدین کا ذکر ہے جس کے ساتھ آپ کے پیر و مرشد یا آپ نے بحث و مناظرہ کیے۔ یہ کتاب صفحہ 235 پر مشتمل ہے
  • 2۔ ارشاد الطالبین: یہ کتاب ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں چار ابواب اور ایک خاتمۃ الکتاب ہے۔
  • 3۔ ارشاد المریدین : آپ نے اس کتاب کی ضرورت کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پیر اور مرید دونوں صحیح طریقہ طریقت اختیار کریں، ملاحدہ کی اطاعت نہ کریں
  • 4۔ مخزن الاسلام : آپ کی یہ کتاب ادھوری رہی۔ مگر آپ کے فرزند ارجمند مولانا عبد الکریم صاحب نے اس کو مکمل کیا۔ صرف یہ کتاب پشتو زبان میں ہے۔ اور باقی تمام کتابیں فصیح و بلیغ فارسی زبان میں ہیں۔
  • 5۔ قصیدۃ الامالی : کی شرح فارسی زبان میں آپ نے لکھی۔ عقائد پر یہ کتاب عربی نظم میں ہے اور آپ نے فارسی میں شرح نثر میں لکھی ہے۔
  • 6۔ شرح اسماء الحسنٰی : اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں کی شرح فارسی میں لکھی ہے

وصالترميم

آخوند درویزہ کا وصال 1048ھ میں ہوا۔ ان کا مزار پشاور سے مشرق کی طرف ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور مرجع عوام ہے۔ آپ کے مزار کے گرد میلوں میں پھیلا ہوا قبرستان بھی آپ کے نام سے موسوم ہے ۔[2][3]

حوالہ جاتترميم

  1. تذکره علما و مشائخ سرحد جلد اول,مصنف: محمد امیر شاه قادری, ناشر: عظیم پبلشنگ هاؤس, خیبر بازار پشاور
  2. تذکرہ علما ومشائخ سرحد ،جلد اول،صفحہ 25 تا38 محمد امیر شاہ قادری،مکتبہ الحسن یکہ توت پشاور
  3. دائرہ معارف اسلامیہ جلد 2 صفحہ211 جامعہ پنجاب لاہور

خارجی روابطترميم