بونیرyخیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے۔ اس کو 1991ء میں ضلع کا درجہ ملا جس سے پہلے اس حیثیت ضلع سوات کی ایک تحصیل کی تھی۔

ضلع
ضلع بونیر
ضلع بونیر کا محل وقوع
ضلع بونیر کا محل وقوع
ملکپاکستان
صوبہخیبر پختونخوا
ہیڈکوارٹرڈگر
رقبہ
 • کل1,865 کلومیٹر2 (720 میل مربع)
آبادی (خانہ و مردم شماری پاکستان 2023ء)
 • کل1,016,000
 • کثافت540/کلومیٹر2 (1,400/میل مربع)
منطقۂ وقتپاکستان میں وقت (UTC+5)
تعداد تحصیل4
تعداد یونین کونسل27

تحصیلیں

ترمیم

ضلع بونیر چھ سب ڈویژن پر مشتمل ہے۔

اس ضلع کو ہُنرمند افرادی قوت، خوبصورت قدرتی مناظر، گھنے جنگلات اور معدنی دولت کی وجہ سے ملا کنڈ ڈویژن میں مرکزی حیثّیت حاصل ہے یہاں زیادہ تر لوگپشتواورگوجری زبان بولتے ہیںتعلیمی اور کاروباری حوالے سے یہ ضلع خیبر پختون خواہ کے ترقی یافتہ اضلاع میں شمار ہوتاہے۔

تعارف

ترمیم

صوبائی دار الخلافہ ضلع پشاور سے 132 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ضلع بونیر لاتعداد خوبصورت دروں، چوٹیوں اور میدانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ضلع بونیر شمالاً 34-22 تا 34-34 عرض بلد اور شرقاً 11-72 تا 51-72 طول بلد کے درمیان واقع ہے۔ قبیلوی لحاظ سے ضلع بونیر پشتونوں کی دو بڑی شاخوں ’’یوسف زئی‘‘ اور ’’مندنٹر‘‘ میں تقسیم ہے۔ بونیر خاص اور چغرزئی میں یوسف زئی کی ذیلی شاخیں آباد ہیں، جب کہ خدوخیل اور چملہ امازئی میں غالب اکثریت مندنٹر قبائل کی ہے۔

جغرافیہ

ترمیم

جغرافیائی لحاظ سے ضلع بونیر کو چار وادیوں بونیر، چغرزئی، خدوخیل اور چملہ امازئی میں تقسیم پہاڑی حصاروں نے گھیر رکھا ہے۔ یہاں مندنٹر اور یو سف زئی پشتون قبیلوں کے علاوہ سادات ترمذی،جیلانی اخوندخیل، مشوانی، گوجر، کاکاخیل، شیخان (اولادِ اخوند پنجو) سکھ، سواتی پٹھان اور اعوان وغیرہ بھی رہتے ہیں۔ ایلم اور امبیلہ کے درمیان وادئی بونیر واقع ہے جس کا زیادہ تر حصہ دریائے برندو اور اس کی معاون ندیوں کی مدد سے سیراب ہوتا ہے۔ جنرل ایبٹ کے مطابق دریائے برندو کو دریائے رام تخت بھی کہتے ہیں، جو نیچے وادی میں تقریباً پینتالیس میل کا لمبا سفر طے کرتا ہے۔ ایلم پہاڑ سوات اور بونیر کے درمیان حدِ فاصل کا کام دیتا ہے جو کو ہِ دوہ سری سے مورا تک اڑتالیس کلومیٹر لمبائی رکھتا ہے جب کہ بونیر خاص کو چملہ سے جدا کرتا ہوا تقریباً 1525 میٹر اُونچائی تک کوہِ گڑو اور ارونئی تک پھیلا ہو ا سلسلہ ہے۔

موسم

ترمیم

ضلع بونیر میں سالانہ 81 تا 88 سینٹی میٹر بارش ہوتی ہے۔ مو سمِ سرما نومبر تا فروری اور موسمِ گرما مارچ تا اکتو بر رہتا ہے۔ سردیو ں میں یہاں کے پہاڑی چوٹیوں جعفر، ایلم، جواڑی، کڑاکڑ، دوہ سری، سر ملنگ اور ڈوما وغیرہ پر برف پڑتی ہے، جب کہ معمولی رِم جھم کے ساتھ بونیر خاص میں دُھند کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ خصوصاً دیوانہ بابا کلیاڑئی وغیرہ کئی دنوں تک دھند کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ چغرزئی میں سال کے بارہ مہینے دُھند کی غیر موجودگی کے سبب ماحول صاف ستھرا آئینے کی طرح ہر منظر شفاف اور واضح نظر آتا ہے۔ یہاں کا ہر موسم دلفریب ہے، لیکن یہاں کا “منے” (اگست، ستمبر، اکتوبر) موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ وہ اپنا پس منظر اور روحا نی جوبن رکھتا ہے،

محل وقوع

ترمیم

ضلع بونیر کی سرحدیں چھ مختلف اضلاع سے ملی ہوئی ہیں۔ اس کے جنوب میں سرہ تھانہ بونیر کو ضلع صوابی سے جدا کرتا ہے۔ جنوب مغرب میں امبیلہ سے غرباً رستم مردان اور مغرب کی جانب پہاڑی سلسلہ ضلع مردان اور ضلع بونیر کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ شمال کی جانب ایلم پہاڑی، ضلع سوات اور ضلع بونیر کے درمیان سرحد کا کردار ادا کرتی ہے، جب کہ شمال مغربی جانب ملاکنڈ ضلع واقع ہے۔ شرقاً اور شرقاً جنوباً ضلع شانگلہ اور ضلع تورغر وا قع ہیں۔

آبادی

ترمیم

1998ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع بونیر کی کل آبادی پانچ لاکھ ایک ہزار ایک سو چودہ افراد پر مشتمل، چھپن ہزار سات سو ستاسٹھ مکانات میں زندگی گزار رہی تھی۔ 2018ء کی مردم شماری کے مطابق بونیر کی آبادی آٹھ لاکھ نوے ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

حلقہ بندی

ترمیم

2002ء اور 2010ء کی حلقہ بندیوں کے تحت ضلع بونیر ایک قومی NA-28 اور تین صوبائی حلقوں PK-77,78,79، چار بڑی تحصیلوں (تحصیلِ ڈگر، تحصیلِ گاگرہ، تحصیلِ مندنٹر اور تحصیلِ خدوخیل) پر مشتمل، چار ٹاؤن کونسلوں اور 29 یونین کونسلوں میں منقسم ہے۔ 1865 مربع کلومیٹر پر محیط سیاسی لحاظ سے یہ ضلع زرخیز اذہان اور جمہوری سوچ کا حامل علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مؤثر حلقہ موجود ہے۔ معدنیات، تاریخ اور سیاحت کے حوالے سے ضلع بونیر بھی حسین مقامات، معدنی وسائل اور تاریخی آثار کا بڑا اثاثہ رکھتا ہے، لیکن سیاحوں، محققین اور ماہرین کی نظروں سے اُوجھل ہے۔ حکومتی سطح پر یہ ہر دور میں نظر انداز رہا ہے جو ہر سیاسی سیٹ اَپ، سو ل سوسائٹی، دانشوروں اور اس ضلع کے مختلف میدانوں میں ماہرین کے لیے لمحۂ فکر ہے

شماریات

ترمیم

بونیر ضلع کا کُل رقبہ1865 مربع کلومیٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلومیٹر 352 افراد آباد ہیں۔

مئی 2004ء میں ضلع کی آبادی 656000 تک پہنچ گئی۔

دیہی آبادی کا بڑا ذریعۂ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 55420 ہیکٹیرز ہے۔ ضلع بونیر خیبر پختونخوا کی وہ شمالی ضلع ہے جو اپنی قدرتی حسن وجمال کی وجہ سے ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔یہاں کی بلندوبالا پہاڑیں شور کرتی ابشاریں اور صاف شفاف بہنے والی ندیاں ضلع بونیر کی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے۔ضلع بونیر نوک دار چٹانوں اور خوبصورت ڈھلوانوں کے ساتھ نہایت دلفریب وادی ہے۔ یہاں کے جنگلات بہت گنے اور بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں ان جنگلات میں میں مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔۔ یہ واحد ضلع ہے جس کی بارڈر چھ مختلف اضلاع سے لگی ہیں بونیرکے لوگ پشتواورگوجری زبان بولتے ہیں یہاں کے سیاحتی مقامات میں سے پیربابا،دیوانہ بابا،کلیل،ایلم ،چغرزی ،سرملنگ،آسمانی موڑ ،قادرنگر ،مولا بانڈہ ،اور گوکند نمایاں ہیں۔ یہاں کے پہاڑوں میں مختلف قسم کے معدنیات پائے جاتے جن میں ماربل ،کوئلہ یورینیم اور قیمتی پھتر قابل ذکر ہیں۔ یہاں کے لوگ جفاکش،امن پسند،مخنتی اور مہمانواز ہیں۔ضلع بونیر کے زیادہ تر لوگ تعلیم سے آشنا ہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی اور کاشتکاری بھی کرتے ہیں۔یہاں کی زمینیں زرخیز جس کی وجہ سے مختلف قسم کی فصل اگائی جاتی ہیں۔ یہاں کے لوگ قاعدے اور قانون کے پابند ہیں۔کھبی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہیں۔ یہاں کے پولیس اور آرمی اپنی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھا رہے ہیں یہ ضلع 7 تحصیل اور 27 یونین کونسلز پر مشتمل ہیں۔یہاں کی آبادی1016519 ہیں۔اس ضلع میں بدھ مت کے ماننے والوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔یہاں پٹھانوں اورگوجروں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی رہتے ہیں یہاں ان کے عبادت گاہیں بھی ہیں جس میں وہ اپنی عبادت کرتے ہیں آبادی کی تناسب سے صوبائی اسمبلی کے تین ممبرز اور قومی اسمبلی کے ایک ممبر ہیں۔اس ضلع کو 1991 میں ضلع کی حثیت دی گئی تھی اس سے پہلے یہ ضلع سوات اور مالاکنڈ کے ساتھ شمار کیا جاتا تھا۔ضلع بونیر کی تاریخ بہت دلچسپ ہیں سن 27۔326ع میں سکندر یونانی نے ضلع بونیر کا ایک علاقہ درہ امبیلہ کو اپنی گزرگاہ بنایا تھا۔آج بھی یہ روٹ عسکری اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔دور اکبری میں مغلوں کی ایک بڑی مشہور لڑائی سن 1587 میں یہاں لڑی گئی اس لڑائی میں 800 مغل مارے گئے جس میں ایک مشہور شحص بھی تھا جو اکبر کی نورتنو میں سے سب سے اہم تھا جس کا نام بیربل تھا،

بونیر میں  پختون اورگوجر قبایل رہتے ہیں دولتزی نوریزی نسوزی گدیزی عشیزی اور ان قبایل کے ساتھ استانہ دار میاں ملان بھی رہتے سادات ترمذی،جیلانی بھی رہتے ہیں اور ان

کو بڑے عزت کے نگاہ سے دیکھتے ہیں بونیر میں بڑے بڑے علما اور مشایخ گذرے ہیں ان میں پیربابارح دیوانہ بابا رح سرملنگ بابا اور علماءمیں مولانا محمدیوسف دولتزی میں امنورباباجی شلبانڈی بابارح شیخ الحدیث ولعلوم حضرت مولانا محمداسحاق مرزا صاحب رح نسوزی ملکپورمولوی صاحب گدیزی نانے بابا عشیزی اور دیگر بڑے بڑے علما گذرے ہیں ان کے علاوہ بونیرمیں دیگر قوم گوجر بھی 40‎%‎ اباد ہیں یہاں کے بازاروں میں سواڑی جوڑ مشہور ہیں





ر

== مزید دیکھیے ==[بونیر میں ڈگرکالج بونیریونیورسٹی، گرلزکالج ڈگرمشھورتعلیمی ادارے ہیں

  1. ضلع_بونیر

[[زمرہ:Short description is dif