آسام ساہتیہ سبھا (آسامی زبان:অসম সাহিত্য সভা) بھارت کی ریاست آسام کی غیر سرکاری غیر منافع بخش تعلیمی و ادبی تنظیم ہے۔ اس کی بنیاد 1917ء میں آسامی تہذیب اور آسامی ادب کو فروغ دینے کے لیے رکھی گئی تھی۔ فی الحال اس سبھا کے آسام اور بیرون میں تقریباً ایک ہزار بروشر ہیں۔ اس کا مرکزی دفتر آسام کے تاریخی شہر جورہٹ میں ہے اور ریاست میں متعدد جگہ اس کی شاخیں موجود ہیں۔[1]

تاریخترميم

1826ء تک آسام پر اہوم خاندان اور کوچ خاندان کی حکومت رہی۔ 1826ء میں آسام سلطنت برطانیہ کا حصہ ہو گیا اور تب سے ہی یہ بھارت کے سیاسی نقشہ پر نمایاں ہونے لگا۔ حالانکہ آسام ہمیشہ سے ہندوستان کا ایک جز لاینفک رہا ہے۔ 19ویں صدی میں جدید آسامی ادب، آسامی تہذیب اور آسامی زبان کا عروج شروع ہوا۔ 1872ء سے ہی آسامی تہذیب و ثوافت اور زبان و ادب کی ترویج کے لیے کام کیا جانے لگا۔

آسام ساہتیہ سبھاترميم

آسام ساہتیہ سبھا ان کوششوں کا ایک نتیجہ تھا۔ 1917ء میں اس کی بنیاد رکھی گئی اور اسی سال دسمبر میں پدم ناتھ گوہین بورہ کی صدارت میں اس کا پہلا اجلاس ہوا۔ سرت چندر گوسوامی سبھا کے پہلے سکریٹری تھے۔[2]

ساہتیہ سبھا کے انعقاداتترميم

ساہتیہ سبھا کا اجلاس دو سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ اس کا پہلا اجلاس شیو ساگر، آسام میں منعقد ہوا تھا۔ اب یہ ایک برا ادبی تہوار ہے جو اپنے آپ میں منفرد ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام اور ادب پسند شائقین کا مجمع لگتا ہے جو اپنے ادبی افکار و خیالات ایک دوسرے سے ساجھا کرتے ہیں۔[3] 2000ء اور 2002ء کے دو سالہ اجلاس کےخصوصی اجلاس جورہٹ اور کلگچھیا میں منعقد ہوئے تھے۔ [4] 2015ء کا اجلاس کلیابور، ناگاؤں ضلع میں منعقد ہوا تھا۔[5][6] 2017ء کا اجلاس 8 تا 12 فروری 2017ء کو شیو ساگرمیں ہوا تھا۔

آسام ساہتیہ سبھا پتریکاترميم

آسام ساہتیہ سبھا پتریکا (آسامی زبان:অসম সাহিত্য সভা পত্ৰিকা) آسام ساہتیہ سبھا کا رسمی مجلہ ہے۔ اس کا پہلا شمارہ اکتوبر 1927ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ چندر بہادربورا مجلہ کے بانی اور پہلے ایڈیٹر تھے۔[7]

مقاصدترميم

  1. آسامی ادب، آسامی زبان اور آسامی تہذیب کے فروغ کے لیے کام کرنا۔
  2. لغت کی اشاعت کرنا، تحقیق و ریسرچ کرنا اور زبانوں، ادب، تہذیب، قبیلہ و نسل وغیرہ پر تحقیقی مقالہ شائع کرنا۔
  3. قدیمی آسامی تاریخ، زبان و ادب کے متون کو جمع کرنا۔
  4. ضرورت مند ادبا و لکھاریوں کو مالی مدد فراہم کرنا۔
  5. ریاست کے فنون، موسیقی اور مجسموں کو فروغ دینا۔
  6. آسامی زبان و ادب کی تشہیر کے لیے پمفلیٹ اور کتابچے تقسیم کرنا۔
  7. بین اللسانی ادب و زبان کے آپسی لین دین کو فروغ دین۔
  8. ایسے کارہائے نمایاں انجام دینا جن سے آسامی زبان، ادب، تہذیب کو جلا ملتی ہو۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Asam Sahitya Sabha is the foremost and the most popular organization of Assam". Vedanti.com. 26 ستمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2013. 
  2. "Asom Sahitya Sabha: The topmost Literary Organization of Assam - Assam". Assamspider.com. 2 August 2010. 12 مئی 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2013. 
  3. Amaresh Datta (1988). Encyclopaedia of Indian Literature: devraj to jyoti. Sahitya Akademi. صفحات 1725–. ISBN 978-81-260-1194-0. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2013. 
  4. "Axom Xahitya Xabha (The Literary Society of Assam) | Assam Portal". Assam.org. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2013. 
  5. TI Trade (19 November 2012). "Imran Shah new Sahitya Sabha president". The Assam Tribune. 04 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2013. 
  6. "Asom Sahitya Sabha Begins | Northeast Today". Northeasttoday.in. 31 January 2013. 09 فروری 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2013. 
  7. Thomas Effinger. "Subject Library South Asia". Savifa.uni-hd.de. اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2013. 

بہرونی روابطترميم