Gnome-devel.svg اس مضمون کا عنوان مخدوم سید اسد الدین چشتی سے تبدیل کرنے کا قصد ہے۔ تبادلۂ خیال پر رائے دیجیۓ۔


مخدوم سید اسد الدین چشتی المعروف بہ آفتاب ہند سہروردی ( 1263–1391) جونپور، بنارس ہندوستان کے ایک بہت بڑے ولی کامل اور مجاہد اعظم تھے۔ 29 رجب المرجب 661 ہجری بمطابق 9 جون 1263ء کو واسط، عراق میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن میں والدین کے ہمراہ ہندوستان چلے آئے۔ کچھ عرصہ دہلی میں گزارا پھر کٹڑہ مانک پورہ تحصیل منجھن پور الہ آباد میں آئے۔ بیس برس کی عمر میں تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پالی فقہ اصول تفسیر اور حدیث میں دسترس حاصل کی۔ حافظ قرآن اور قاری ہفت قرأت تھے۔

آپ نے علوم باطنی کی تعلیم اپنے نانا مخدوم ضیاء الدین کڑھی سے حاصل کی پھر ملتان جا کر شاہ رکن الدین کے مرید ہوئے۔ وہیں سے آفتاب ہند کا لقب پایا اور تبلیغ دین کی وصیت لے کر دلی آئے اور نظام الدین اولیاء سے مزید علم باطنی حاصل کیا۔ اس کے بعد کنتھ، ضلع مرزاپور چلے آئے یہاں کا راجا گھردار قوم سے تھا۔ آپ نے اسے وعظ و نصیحت سے دعوت اسلام دی۔ لیکن مجبورا جنگ کرنا پڑی۔ اور راجا شکست کھا کر مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد آپ الہ آباد کے ایک گاؤں سا تھرڈیہہ میں چلے گئے۔ یہاں کا راجا بآسانی اسلام لے آیا۔ اس کے بعد بنادی ضلع اعظم گڑھ کے راجا کے سات چھ ماہ تک جہاد کیا بعد ازاں راجا نے اسلام قبول کر لیا۔

سب سے آخر میں آپ ظفر آباد آئے اور یہاں بھی مخدوم چراغ شاہ کے ہمراہ، 721ھ/ 1321ء میں ایک بہت بڑا معرکہ سر کیا۔ اس میں غیاث الدین تغلق کا بیٹا ظفرخان چھ ہزار کی فوج لے کر آپ کی مدد کر آیا تھا۔

20 جمادی الاول 793 ہجری کو نماز عصر کے بعد ایک مجلس میں آپ کو شیخ سعدی کے اس شعر پر وجد آگیا اور رقت طاری ہو گئی۔

اگر ہلاکت سعدی بہ تیغ فرقت تست | حلال باشد ایں خونے کہ دوستاں ریزند

اسی شب کو فالج نے حملہ کیا اور 16 جمادی الاول/ 21 اپریل 1391ء کو تہجد کے وقت انتقال کیا۔ آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے نیابت و سجادگی کا حق ادا کیا جب نواب آصف الدولہ کے بھائی نواب سعادت علی خان نے تمام جائدادیں ضبط کر لیں تویہ خاندان جونیور کے مفتی محلہ میں آکر آباد ہو گیا اور امامیہ مذہب اختیارکرلیا جس کے بعد سجادگی ختم ہو گئی۔

مخدوم آفتاب ہند اپنے وقت کے امام طریقت تھے۔ آپ صاحب زہد و تقوی و اہل حال و قال تھے۔ تمام عمر عبادت اور ریاضت میں بسر کی۔ بادشاہ وزرأ اور امرا آپ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے آپ نے چند کتابیں بھی تصنیف کیں ان میں عشقيہ فن سلوک و معرفت کی ایک اچھی کتاب ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. ‎شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا، جلد اوّل، صفحہ 29،30