اعظم گڑھ : یہ شہر، بھارت کی ریاست اتر پردیش میں واقع ہے۔ اس شہر سے کئی شخصیات مشہور ہوئیں۔

اعظم گڑھ
اعظم گڑھ
Azamgarh
منسوب بنام "نواب اعظم شاہ" جس نے اس شہر کی بنیاد رکھی تھی اسی کے نام پر اس جگہ کا نام "اعظم گڈھ" رکھا گیا
انتظامی تقسیم
ملک Flag of India.svg ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ اعظم گڑھ ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 26°04′05″N 83°11′02″E / 26.06800°N 83.18400°E / 26.06800; 83.18400
رقبہ 1218.6 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 64 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+05:30  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گاڑی نمبر پلیٹ UP 50
رمزِ ڈاک
276001  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 05462
قابل ذکر
9/8 مذکر/مؤنث
جیو رمز 1278083  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اس خطہ اعظم گڑھ پہ مگر فیضان تجلی ہے یکسر جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیر اعظم ہوتا ہے۔

تحریر محمد اسامہ اعظمی ابن ڈاکٹر جمشید عالم اعظمی

ضلع اعظم گڑھ۔ اترپردیش کے مشرقی حصے میں واقع ہے جو گنگا اور گھاگھرا کے وسط میں بسا ہوا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس جگہ کا کوئی نام نہی تھا۔ جنگل ہی جنگل تھا۔ آبادی بہت کم اور فاصلے پر تھی اس سرزمین کا تعلق دوریاستوں کے زیر اثر تھا مغرب میں کوشلیاراج اجودھیاسے اور مشرق میں کاشی راج بنارس سے تھا۔ درمیان میں ٹونس ندی سرحد تھی یہاں راجا ہربنس سنگھ کی چھاؤنی تھی۔ شہراعظم گڑھ سے متصل بجانب مشرق ان کے نام سے ایک موضع ہربنس پور آباد ہے،وتیہ ہربنس پور اب بھی موجود ہے۔ان کے لڑکے راجا بکرماجیت سنگھ نے اپنا قلعہ لب ساحل دریا ٹونس بنوایا تھا اورانہوں نے اپنے حقیقی بھائی رودرسنگھ کوقتل کر دیا تھا جس کی پاداش میں مغل شاہی فوج نے راجا بکرماجیت سنگھ کو گرفتار کرکے دارالسطنت دہلی لے گئی وہاں جاکر انھوں نے اسلام قبول کر لیا دہلی سے بعد رہائی اعظم گڑھ واپس ہوئے اورانھوں نے ایک مسلم خاتون سے شادی کرلی۔ ان کے بطن سے دو لڑکے پیدا ہوئے . بڑے لڑکے کانام اعظم خان اورچھوٹےلڑکے کا نام عظمت خان رکھا۔ چونکہ اس ضلع کو شہنشاہ اورنگ زیب علیہ رحمہ کے وقت میں راجا اعظم خان جوبعد میں اعظم شاہ کے نام سے مشہور ہوا،انہوں نے بسایا تھا، اسی وجہ سے اس کا نام اعظم گڑھ رکھاگیا،(گڑھ کے معنی قلعہ کے ہوتے ہیں)کہاجاتاہے کہ 1665ءمیں اعظم شاہ نے ٹونس ندی کے کنارے ایک قلعہ بنایا اور اس کے کے چاروں طرف 7/8میل کے مربع میں چہاردیواری بنوائی تھی،رفتہ رفتہ اس کے آس پاس آبادی بڑھتی گئی اور اعظم شاہ کے نام پر اس کا نام اعظم گڑھ پڑ گیا، ٹونس ندی کے کنارے پر واقع یہ ضلع اعظم گڑھ ان گنت خصوصیات کا حامل رہا ہے، اس ضلع میں زمانۂ قدیم سے صوفی سنتوں اور علما کرام اور آزادی وطن کے متوالوں کی جائے پیدائش رہی ہے۔ اس ضلع میں کئی بڑے بڑے دانشور پیدا ہوئے۔ مولانا علامہ حمید الدين فراہی ( تفسیر القرآن) علامہ شبلی نعمانی ( مصنف سیر النبى)

[2] راہل سا نکر تین( مصنف سیاح اب بندوستانی مسافر کے باپ کہا جاتا ہے پر یہاں بڑے بڑے ادارے جو سو سال قبل کے بنے ہوئے ہیں ہیں مدرسة الاصلاح ( سرائے میر اعظم گڑھ) مدرسه عربية بيت العلوم ( سرائے میر اعظم گڑھ) شبلی نیشنل کالج (اعظم گڈھ ) Mohammad

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ اعظم گڑھ في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 5 جولا‎ئی 2022ء. 
  2. Tareekh e Azamgarh, Dr Muhammad Ilyas Azmi, تاریخ اعظم گڑھ, محمد الیاس اعظمی