ابو الطیب متنبی
(عربی میں: أبو الطيب المتنبي ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Al-Mutanabbi Statue in Baghdad(Cropped).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 915[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 ستمبر 965 (49–50 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[8]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو الطیب متنبی دیوان متنبی کا مصنف اور مشہور عربی شاعر تھا۔

نامترميم

ابو الطیب احمد بن الحسین بن الحسن بن عبد الصمد الجعفی الکندی الکوفی المعروف متنبی

ولادتترميم

ابو الطیب متنبی کی پیدائش 303ھ بمطابق 915ء میں کوفہ کے محلہ کندہ میں ہوئی اور وہ اسی کی طرف منسوب ہوا۔ لیکن قبیلہ کے لحاظ سے جعفی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ متنبی کا باپ کوفہ میں سفیر تھا۔ پھر وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ شام منتقل ہو گیا اور اس کے بیٹوں نے شام میں پرورش پائی۔

متنبی وجہ تسمیہترميم

اسے متنبی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس نے بادیہ سماوہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور بعض نے بیان کیا ہے کہ اس نے کہا میں پہلا شخص ہوں جس نے شعر سے دعویٰ نبوت کیا ہے۔ اور بنو کلب وغیرہ میں سے بہت سے لوگوں نے اس کی پیروی کی۔ تو اخشیدیہ کا نائب امیر حمص لؤ لؤ اس کے مقابلے میں گیا تو اس نے اسے او ر اس کے اصحاب کو گرفتار کر لیا اور لمبا زمانہ قید رکھا۔ پھر اس سے توبہ کا مطالبہ کیا اور اسے رہا کر دیا۔ پھر وہ 337ھ میں امیر سیف الدولہ بن حمدان کے پاس چلا گیا۔ پھر اس کو چھوڑ کر 346ھ میں مصر آ گیا اور کافور اخشیدی اور انو جوربن الاخشید کی مدح کی۔ اور وہ کافور کے سامنے کھڑا ہوتا اور اس کے پاؤں میں موزے ہوتے اور اس کی کمر میں تلواروں اور پیٹیوں سے لیس ہوتے۔ اور جب وہ اس سے راضی نہ ہوا تو اس نے اس کی ہجو کی اور عید قربان کی رات کو 350ھ میں اسے چھوڑ گیا۔ اور کافور نے اس کے پیچھے مختلف جہات میں اونٹ روانہ کیے مگر وہ نہ ملا۔ کافور نے اس سے اپنی عملداری کی حکومت کا وعدہ کیا تھا مگر جب اس نے اس کے اشعار میں اس کے بلند و بانگ دعوؤں اور اس کے فخر کو دیکھا تو وہ اس سے ڈر گیا اور اسے اس بارے میں ملامت کی گئی۔ تو اس نے کہا اے لوگو! جو محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے کیا وہ کافور کے ساتھ مملکت کا دعویٰ نہ کرے گا؟ تمہارے لیے یہی کافی ہے۔

ماہر لغتترميم

متنبی بہت لغت نقل کرنے والوں اور اس کے غریب اور مبہم الفاظ کے جاننے والوں میں سے تھا۔ اوراس سے جو بات بھی پوچھی جاتی اس پر عربوں کے منظوم و منثور کلام سے بطور پیش کرتا۔ اس اشعارانتہا ء کو پہنچے ہوئے ہیں۔ اس کے اشعار کے بارے میں لوگوں کے کئی طبقے ہیں ان میں سے کچھ تو اسے ابو تمام پر اور اس کے بعد شعرا پر ترجیح دیتے ہیں اور بعض ابو تما کو اس پر ترجیح دیتے ہیں۔

دیوان متنبیترميم

علما نے اس کے دیوان کی طرف توجہ کی ہے اور اس کی شرحیں لکھی ہیں۔ ان کی چالیس چھوٹی بڑی شروح کا پتہ چلا ہے۔ اور ایسا کسی دوسرے دیوان کے ساتھ نہیں ہوا۔

وفاتترميم

سیف الدولہ کی ایک مجلس میں ہر شب کو علما حاضر ہوا کرتے تھے اور اس کی موجودگی میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ پس متنبی اور ابن خالویہ نحوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا تو ابن خالویہ نے متنبی پر حملہ کر دیا اور اس کے چہرے پر وہ چابی مار کرسر کو زخمی کر دیا۔ وہ ناراض ہو کر مصر چلا گیا اور کافور کی مدح کی۔ پھر اسے چھوڑ کر اسے بلاد فارس کا قصد کیا اور عضدالدولہ بن بویہ دیلمی کی مدح کی تو اس نے بہت انعام دیا پھر 8 شعبان کو کوفہ آیا تو فاتک بن ابی الجہل اسدی اپنے کئی اصحاب کے ساتھ اسے ملا اور متنبی کے ساتھ بھی اپنے اصحاب کی ایک جماعت تھی۔ پس انہوں نے اس کے ساتھ جنگ کی تو متنبی اور اس کا بیٹا محمد اور اس کا غلام مفلح نعمانیہ کے نزدیک ایک جگہ پر جسے الصافیہ کہا جاتا ہے 28 رمضان 354ھ 965ء قتل ہو گئے۔ بعض نے کہا ہے جبال الصافیہ، بغداد کے مضافات سے غربی جانب دیر العاقول کے پاس ہیں۔[9]

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118585584 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11997608t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/al-Mutanabbi — بنام: al-Mutanabbi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6zw1rj4 — بنام: Al-Mutanabbi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/al-mutanabbi — بنام: al-Mutanabbi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  6. دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/al-mutanabbi/ — بنام: MUTANABBĪ AL- — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Encyclopædia Britannica Inc.
  7. Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/159864 — بنام: Abu al-Tayyib Ahmad ibn al-Husayn al- Mutanabbi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11997608t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  9. وفيات الأعيان (تاریخ ابن خلکان) تالیف : احمد بن محمد بن ابراہیم بن خلکان قاضی القضاۃ شمس الدین ابو العباس