ابو رہم غفاری
معلومات شخصیت
والد حصین بن خالد

نام ونسبترميم

کلثوم نام، ابورہم کنیت،"منحور"لقب،سلسلۂ نسب یہ ہے ،کلثوم بن حصین بن خالد بن عسعس بن زید بن عمیں بن احمس بن غفار۔ [1]

اسلامترميم

آنحضرتﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد مشرف باسلام ہوئے۔

غزوۂ احدترميم

سب سے پہلے احد میں شریک ہوئے اور ایک تیر سینہ پر کھا کر نشان امتیاز حاصل کیا، آنحضرتﷺ نے زخم پر لعاب دہن لگایا، چونکہ سینہ پر آنحضرتﷺ نے لعاب دہن لگایا تھا، اورسینہ کو "نحر"کہتے ہیں،اس مناسبت سے لوگ ان کو"منحور"کہنے لگے۔ [2] صلح حدیبیہ میں بھی آنحضرتﷺ کے ہمرکاب تھے اوربیعت رضوان میں شرفِ بیعت حاصل کیا۔ [3] اس کے بعد غزوۂ خیبر میں شریک ہوئے اورمال غنیمت میں سے آنحضرتﷺ نے ان کو دوہرا حصہ دیا۔ [4] فتح مکہ میں شریک نہ ہو سکے تھے؛لیکن اس میں اس سے بھی بڑایہ شرف حاصل ہواکہ جب آنحضرتﷺ فتح مکہ کے لیے نکلے تو مدینہ میں ان کو اپنا قائم مقام بناگئے اس کے علاوہ عمرۃ القضا میں بھی یہ شرف حاصل ہوا تھا۔ [5] طائف کے محاصرہ میں بھی شریک تھے،واپسی کے وقت یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ جب آنحضرتﷺ طائف سے واپسی کے بعد جعرانہ کی طرف چلے تو ابورہمؓ کی اونٹنی آپ کی اونٹنی سے بھڑگئی اوران کے جوتے کا کنارہ ر ان مبارک سے رگڑ کھاگیا، آنحضرتﷺ کو اس کی خراش سے تکلیف ہوئی،آپ نے ان کے پاؤں کو کوڑے سے کونچ کر فرمایا :پاؤں ہٹاؤ،میری ران میں خراش آگئی، ابورہم بہت خوفزدہ ہوئے کہ مباداوحی کے ذریعہ اس گستاخی کی تنبیہ نہ ہو،صبح کو قافلہ جعرانہ پہنچ کر خیمہ زن ہوا تو ابو رہم حسبِ معمول اونٹ چرانے نکل گئے، مگر دل میں یہ خطرہ لگارہا، اس لیے واپس آتے ہی لوگوں سے دریافت کیا تو بظاہر اس خطرہ کی صحت کے آثار نظر آئے، معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ نے یاد فرمایا تھا؛چنانچہ یہ ڈرتے ڈرتے حاضر خدمت ہوئے ؛لیکن یہ قیصر وکسریٰ کی شہنشاہی نہ تھی،جس میں ادنی گستاخی بھی سخت ترین پاداش کا مستحق بنادیتی ہے؛بلکہ رحمۃ ا للعلمین کے لطف وکرم کا دربار تھا، جس میں آقا غلام،مالک اورمملوک کا کوئی امتیاز نہیں اورجس کی تعزیرات میں غیظ و غضب ،سزا اورانتقام سے زیادہ لطف وترحم کی دفعات ہیں؛چنانچہ جب یہ پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے مجھ کو تکلیف پہنچائی تھی، اس کے بدلہ میں میں نے تمہارے پیر کو کوڑے سے ہٹایاتھا،اب اس کے عوض میں یہ بکریاں انعام میں لو، حضرت ابورہمؓ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی اس وقت کی رضامندی میرے لیے دنیا ومافیہا سے بہتر تھی۔ [6]غزوہ تبوک میں بھی شریک ہوئے اوراپنے ساتھ اپنے اوربہت سے قبیلہ والوں کو شریک کیا، اس غزوہ میں عرب میں ایساقحط اورایسی شدت کی گرمی تھی کہ لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوارتھااورمنافقین مسلمانوں کو شرکتِ جنگ سے منع کرتے تھے،اس لیے آنحضرتﷺ کو اس کے لیے خاص اہتمام کی ضرورت پیش آئی؛چنانچہ جب ابورہمؓ نے حسبِ معمول دوسرے غزوات کی طرح اس میں بھی شرکت کے لیے تیاریاں شروع کیں تو آنحضرتﷺ نے فرمایا ،تم جاکر اپنے قبیلہ والوں کو جنگ پرآمادہ کرو،اس ارشاد کی تعمیل میں انہوں نے قبیلہ غفار کے بہت سے لوگوں کو شرکت پر آمادہ کردیااوران کی معتدبہ تعداد اس غزوہ میں شریک ہوئی۔ [7] اتفاق سے اس مرتبہ بھی واپسی میں ان کی سواری آنحضرتﷺ کی سواری کے پہلو میں تھی،رات کا وقت تھا، باربار غنودگی طاری ہوجاتی تھی،اس لیے آنحضرتﷺ کی سواری سے بھڑجانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا تھا،اس لیے جہاں ایسا موقع آتا وہ فوراً اپنی سواری ہٹالیتے۔ [8]

وفاتترميم

کے بارہ میں ارباب سیر خاموش ہیں۔

فضل وکمالترميم

آپ سے دوحدیثیں مروی ہیں۔ [9]

حوالہ جاتترميم

  1. (اصابہ:7/68)
  2. (ابن سعدجزو4،ق1:180)
  3. (اسدالغابہ:5/19)
  4. (اسد الغابہ:5/196)
  5. (استیعاب:2/668)
  6. (ابن سعد ،جزو4،قسم1:180)
  7. (ابن سعد،جزو4،ق1،:180)
  8. (مستدرک حاکم:3/180)
  9. (تہذیب الکمال:321)