امام ابو نعیم اصفہانی علمی اعتبار سے بہت بلند درجہ پر فائز ہیں آپ صاحب کتاب الحلیہ سے معروف ہیں ۔

ابو نعیم اصفہانی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 948[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصفہان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1038 (89–90 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصفہان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ سلیمان ابن احمد ابن الطبرانی،  الحاکم نیشاپوری  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص خطیب بغدادی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث،  مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں حلیۃ الاولیاء لابی نعیم  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادتترميم

امام ابو نعیم 336ھ 948ء میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔

نامترميم

امام ابو نعیم اصفہانی جن کا نام احمد بن عبد اللہ بن احمد بن اسحاق بن موسى بن مہران الاصفہانی تھا

علمی مقامترميم

امام ابو نعیم اصفہانی کے علمی کمالات اور غیر معمولی فنی شہرت نے ان کی ذات کو مرجع خلائق بنادیا تھا۔ ان کا شمار عظیم محدثین میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوم اسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں امتیاز رکھتے تھے۔ امام ابونعیم اصفہانی جہاں ایک بہت بڑے محدث تھے اس کے ساتھ ساتھ حفظ و ضبط اور عدالت و ثقاہت میں بھی ممتاز تھے امام ابو نعیم اصفہانی مسلکا شافعی تھی اور حدیث کے علاوہ فقہ وتصوف میں جامع کمال تھے عقید ہ میں اشاعر ہ کے ہمنوا تھے اور اشعری مذہب کی جا نب میلان رکھتے تھے اس لیے ان کی مجلس درس بڑی وسیع تھی۔ لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان کی مجلس میں حاضر ہو تے تھے اور وہاں سے جملہ علوم اسلامیہ میں استفادہ کرتے تھے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے ان کی مجلس درس کا اس طرح نقشہ کھینچاہے کہ۔ جب ان کی مجلس درس آراستہ ہو تی۔ تو ارباب فن اور محدثین عجزو نیاز کے ساتھ ان کے دولت کدہ بڑی رغبت اور مکمل انہماک کے ساتھ اکتساب فیض کرتے تھے بقول علامہ ذہبی

"لم يكن غذاء سوى التسميع والتصنيف"
حدیثیں سننا اور ان کی جمع و تالیف ہی ان کی غذا تھی۔ انہوں نے خراسان وعراق کے بے شمار لوگوں سے کسب فیض کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو جس قدر اکابر شیوخ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اس سے اور محدثین محروم ہیں۔

تصنیفاتترميم

امام ابو نعیم اصفہانی صاحب تصانیف کثیرہ تھے حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں ان کی 29کتابوں کی فہرست دی ہے آپ کی تصانیف میں درج ذیل کتابیں بہت مشہور و معروف ہیں ۔

  • حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء 10 جلدوں میں چھپی ہے
  • دلائل النبوة
  • 3۔ کتاب الریاضتہ والادب
  • 4۔ کتاب الطب النبوی
  • 5۔ کتاب الفتن
  • 6۔ کتاب فضائل الخلفاء
  • 7۔ کتاب فضآئل الصحابہ
  • 8۔ کتاب الفوائد
  • 9۔ کتاب مختصر الاستیعاب
  • 10۔ کتاب المستخرج علی البخاری
  • 11۔ کتاب المتعقد
  • 12۔ کتاب معرفتہ الصحابہ
  • 13۔ کتاب معجم الشیوخ
  • 14۔ کتاب معجم الصحابہ
  • 15۔ کتاب علوم الحدیث امام حاکم صاحب لاستدرک (م 405ھ)کی تصنیف معرفتہ علوم الحدیث پر مستخرج ہے
  • 16۔ کتاب مستخرج علی التوحید علامہ ابن خزیمہ (م 311ھ) کی تصنیف کتاب التوحید والصفات پر مستخرج ہے
  • 17کتاب المہدی
  • 18۔ کتاب تاریخ اصفہان دو جلدوں میں ہے
  • 19۔ کتاب الاربعین
  • 20۔ کتاب حرمتہ المساجد
  • 21۔ الشعراء
  • 22۔ طبقات المحدثين والرواة[6]

وفاتترميم

امام اصفہانی 96 سال کی عمر پاکر 430ھ 1038ء میں آپ نے اصفہان میں انتقال کیا۔[7] [8]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145318161 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119462567 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/256903 — بنام: Aḥmad ibn ʻAbd Allāh Abū Nuʻaym al-Iṣbahānī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. بنام: Aḥmad ibn ʻAbd Allāh al-Iṣbahānī — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/31486 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145318161 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. الأعلام للزركلي
  7. البدايہ والنہايہ مؤلف: ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن كثير
  8. شذرات الذہب فی اخبار من ذهب ،مؤلف: ابن العماد العَكری الحنبلی ،ناشر: دار ابن كثير، دمشق - بيروت