ابھا شہر صوبہ عیسر سعودی عرب میں واقع ہے جو اپنے قدرتی حسن و جمال سے دنیا میں اپنی مثال آپ ہے ابھا شہر کے گردونواح میں خوبصورت وادی یاں پہاڑیاں خوبصورت درخت خوشبو دار پھول ندیاں چشمے پرکشش باغات ہیں جو سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں جو سیاح ابھا میں آتے ہیں وہ یہی کے ہوجاتے ہیں ابھا کے لوگ ایماندار اور مہمانوں کی بہت عزت کرتے ہیں ابھا کے تعلیمی مرکز انتہائی آمدہ ہیں ابھا میں کنگ خالد بن عبدالعزیز یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ہوتا ہے نوجوانوں میں سے تعلیم یافتہ عبدالعزیز الشھرانی قابل تعریف جوان ہیں ابھا میں کئی پارک بھی ہیں جو سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں۔ﻋﺮﺏ ﻟﯿﮓ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﺍَﺑﮩﺎ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ 2017 ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﺮﺏ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﺮﺏ ﭨﻮﺭﺯﻡ ﺁﺭﮔﻨﺎﺋﺰﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﻨﺪﺭ ﺁﻝ ﻓﮩﻴﺪ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﻋﻮﺍﻣﻞ ﮐﺎﺭ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮩﺎ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺁﺏ ﻭ ﮨﻮﺍ ، ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻣﻘﺎﻡ ، ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻭﺭﺛﮧ ، ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺯﺭﺍﻋﺘﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻣﯿﻠﮯ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﺍﺑﮩﺎ ﺷﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺣﯽ ﺻﺤﺖ ﺍﻓﺰﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻔﺮﯾﺤﯽ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺒﮩﻮﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯﯼ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺴﻮﺩﮦ ، ﺩﻟﻐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺤﺒﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮕﻼﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﺑﮧ ﻓﻠﮏ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻋﻼﻗﮯ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻟﺴﻮﺩﮦ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺁﺏ ﻭ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻮﺳﻢ ﮔﺮﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺘﺪﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺳﺮﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍَﺑﮩﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻞِ ﻭﻗﻮﻉ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺗﺰﻭﯾﺮﺍﺗﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﮨﻢ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺎﺣﻮﻟﯿﺎﺗﯽ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﺎ 70 % ﺳﺒﺰﮦ ﺍﺑﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺻﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺁﻟﻮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺩُﮬﻨﺪ ﺗﮩﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻻﺋﯽ ﺣﺼﻮﮞ ﺗﮏ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺟﮭﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺩﮮ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﻭﺭﺛﮧ ﺍﺑﮩﺎ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﻭﺭﺛﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﮕﻞ ﺑﺎﺯﺍﺭ ، ﻓﻦ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﻨﺒﻊ ﺍﻟﻤﻔﺘﺎﺣﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻋﻼﻗﮧ " ﻣُﻘﺎﺑﻞ " ﺟﺲ ﮐﻮ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺻﻮﺑﺎﺋﯽ ﺻﺪﺭ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺏ ﭼﯿﺌﺮ ﻟﻔﭧ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﻌﻘﺎﺩ ﺳﯿﺎﺣﺘﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺱ ﺍﻣﺮ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮐﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﺑﮩﺎ ﺷﮩﺮ ﮐﻮ ﺳﺒﻘﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺗﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻋﺮﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﭘﺮ ﻣﻨﻌﻘﺪﮦ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﻦ ، ﮐﮭﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﯿﺰﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔

ابھا
(عربی میں: أبها)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Abha1.jpg
 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[2]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ عسير علاقہ  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 18°13′00″N 42°30′00″E / 18.216666666667°N 42.5°E / 18.216666666667; 42.5  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 2400 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 236157 (مردم شماری) (2010)[1]
177905 (مردم شماری) (2010)[1]
58252 (مردم شماری) (2010)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات مشرقی افریقہ وقت  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 110690  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب تعداد السكان والمساكن — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جولا‎ئی 2020 — ناشر: General Authority for Statistics
  2.    "صفحہ ابھا في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2020ء. 
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔