اتھرو وید چوتھا وید ہے، اس میں چھ منتر یا مناجاتی گیت ہیں۔[1] یہ سب سے آخری وید ہے یہ نثر و نظم کا مجموعہ ہے، طب، حکمت، جادو ٹونا، بھوت پریت وغیرہ کے موضوعات اس وید کے اہم مشتملات ہیں، علمائے وید کا یہ بھی خیال ہے کہ آریوں اور غیر آریوں کے اختلاط کی وجہ سے کچھ رسوم بھی مختلط ہو گئے ہیں اتھر وید اسی اختلاط کا نتیجہ ہے، اس میں قبل از آریہ عقائد بھی شامل ہیں اور سماج کے عوامی رجحانات کی نمائندگی بھی شامل ہے نیز اس وید کئی لحاظ مذہبی سے مذہبی عقائد کے تحریری و تاریخی شواہد موجود ہیں۔[2][3]

 
اتھر وید کے قدیم نسخہ کا ایک صفحہ.

اس وید کا بہت قدیم نام اتھوانگی رسہ ہے۔ یہ نام خود اتھرو وید کے پاٹھ میں موجود ہے۔ اس لفظ میں اتھرون اور انگی رس دو قدیم رشی خاندانوں کے نام ملے جلے ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ پنڈتوں کا خیال ہے کہ اس میں پہلا لفظ "اتھرون" دیوتاؤں کے پاک منتروں سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا کچھ جادو ٹونے کے منتروں سے متعلق ہے۔ مدت مدید تک وید صرف تین سمجھے جاتے رہے۔ چار ویدوں کا شمار ایک زمانہ کے بعد شروع ہوا۔ اس لیے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اتھرو وید دوسرے ویدوں کے مقابلے میں کچھ کم پاکیزگی رکھتا ہے۔ دھرم سوتروں اور سمرتیوں میں صاف طور پر اس کا ذکر کچھ زیادہ عزت سے نہیں کیا جاتا۔ یہ صحیح ہے کہ اس وید کا ایک بڑا حصہ رگ وید سے جوں کا تو لیا گیا ہے۔[4] لیکن اس کے باقی حصہ میں جادو ٹونا، بھوت پریت، جھار پھونک اور شیطانی کرتوت سے متعلق کئی ایک منتر موجود ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہیں کہ اس میں رگ وید کے دیوتاؤں کی حمد و ثنا میں منتر نہ کہے گئے ہوں۔ لیکن زیادہ تر زور ایسے ہی منتروں پر دیا گیا ہے جن کی پاکیزگی پر دھرم شاستروں نے حرف رکھا ہے۔ اسی وجہ سے اتھرو وید کا شمار ایک زمانہ تک ویدوں میں نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن تیتریہ براہمن اور چھاندوگیہ اپنیشد کے آخری حصوں میں اس وید کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر بھی اس میں پرکشت، جنمے جے، کرشن وغیرہ کے متعلق معلومات دی گئی ہیں۔ اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اتھرو وید سنہتا بھارت کے زمانہ کے بعد کی ہے۔

اتھرو وید دھرم، امراض، ادویہ اور علاج وغیرہ کا قاموس ہے۔ مضامین کی بے شمار قسمیں جیسی کہ اس میں ہیں اور کسی وید میں نہیں ہیں۔ اس میں جادو ٹونا، جھاڑ پھونک کے منتر، دشمنوں کی شکست اور مرض وغیرہ کے علاج کے طریقے بہت سے بتائے گئے ہیں لیکن اس کے علاوہ اس کا تعلق ان مضامین کی تفصیل سے بھی ہے جس کو آج سائنس کا درجہ ملا ہے۔ فلکیات و نجوم، تشخیص المرض، تندرستی کے اصول، اصول سیاست، رسوم تاج پوشی وغیرہ پر یہ پہلی مستند تصنیف ہے۔ اسی وید میں وہ مشہور پرتھوی سوکت بھی ہے جس میں انسان نے پہلی مرتبہ حب الوطنی کے اعلیٰ جذبات کا اظہار کیا ہے۔

اتھرو وید سنہتا بیس ابواب میں منقسم ہے۔ اس میں 730 سوکت اور 6000 منتر ہیں۔ ان میں سے 1200 منتر رگ وید سے جوں کے توں یا کسی تبدیلی کے ساتھ لیے گئے ہیں۔ قدرتاً رگ وید سے لیے گئے منتر دیوتاؤں کی حمدوثنا اور کرم کانڈ سے متعلق ہیں۔ لیکن اتھرو وید کی تعلیم کرم کانڈ کے مشق پر اس قدر زور نہیں دیتی جس قدر کے زندگی کے نیک و بد، اعلیٰ اور ادنیٰ لوگوں کے اعتقاد اور ان کے رحجانات کو ظاہر کرنے میں۔ اس نقطہ نظر سے ایک مورخ کے لیے شاید یہ وید دوسرے تینوں ویدوں سے کہیں بہتر ہے۔ پران، اتہاس اور مذہبی نظموں وغیرہ کی سب سے پہلی تحریر اس میں ہوئی ہے اور اسی میں پیٹریوں کے سلسلوں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو رگ وید کے زمانہ سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔[5]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Laurie Patton (2004)، Veda and Upanishad, in The Hindu World (Editors: Sushil Mittal and Gene Thursby)، Routledge, آئی ایس بی این 0-415215277، page 38
  2. Carl Olson (2007)، The Many Colors of Hinduism, Rutgers University Press, آئی ایس بی این 978-0813540689، pages 13-14
  3. Laurie Patton (1994)، Authority, Anxiety, and Canon: Essays in Vedic Interpretation, State University of New York Press, آئی ایس بی این 978-0791419380، page 57
  4. Freda Matchett (2003), "The Puranas", in The Blackwell Companion to Hinduism (Editor: Gavin Flood), Blackwell, آئی ایس بی این 0-631215352, page 132