ادارہ جاتی نفسیات، تنظیمی نفسیات یا صنعتی اور ادارہ جاتی نفسیات (انگریزی: Industrial and organizational psychology) نفسیات کے مطالعے کی ایک شاخ ہے ادارہ جات اور تنظیموں سے تعلق رکھتی ہے۔ بعض دفعہ سماجی ادارے جیسے اسکول، کالج، حکومتی ادارے اور میڈیا کسی مخصوص پالیسی پر عمل آوری کے ذریعے ایک مخصوص رخ اختیار کرتے ہیں۔ یہ قومیت کی کوئی نئی تعریف یا صنعتی فروغ پر مبنی یو سکتا ہے۔ یہ دراصل مروجہ مانگ ہو سکتی ہے جو سامنے رکھ کر بھی پالیسیوں اور فیصلوں کے تعین میں طے کی جا سکتی ہے۔ یہ مثبت اور منفی، دونوں ہو سکتے ہیں۔ ایک ویب گاہ کے ایک مضمون کے مطابق میں اسکولوں کی درسی کتابوں میں نفرت پھیلانے والے مواد کو ڈالنا اور میڈیا کا سب سے زیادہ وقت دو مذہبی گروہوں یا نسلوں کے معاملے کو اچھالنا اسی کی ایک ایک منفی جھلک ہے۔ حکومتی ادارے ایسے ہی کے شیطانی ایجنڈا کے لیے اپنی پالیسی اور اقدامات سے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ تعصب کی یہ ادارہ جاتی شکلیں سب سے زیادہ خطرناک، دیرپا اور عوام کی زیادہ تعداد کو متاثر کرنے والی ہیں اور یقینًا منفی ہیں۔ ہر شخص کسی نہ کسی درجہ میں متعصب ہے، جو ایک نفسیاتی مرض ہے اور اس مرض سے چھٹکارا پانے کی ملک کو سخت ضرورت ہوتی ہے[1] اور یہی حال ادارہ جاتی سوچ اور کام کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ادارہ جاتی نفسیات کے ایک دوسرے پہلو کا ذکر وائس آف امریکا گھر کے ذریعے کام کرنے اور دفتر پر ہی کام کرنے جیسی تقابلی مطالعے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ وائس آف امریکا کے مطابق گھر ہی سے کام کرنے والے لوگ اپنے محدود سے حلقے میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جب کہ آفس جانے کی صورت میں ان کا بہت سے مختلف محکموں میں لوگوں سے ملنا جلنا ہوتا ہے، مختلف خیالات، زاویوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور ایسے میں ملازمین کی تخلیقی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور وہ نئے خیالات پیدا کر سکتے ہیں۔[2] اس طرح ادارہ جاتی نفسیات کئی اہم پہلوؤں کا مطالعہ بھی ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم