وائس آف امریکا یا آوازِ امریکا (انگریزی: Voice of America) ریاستہائے متحدہ امریکا کا سب سے بڑا بین الاقوامی کثیرالذرائع خبروں کا ادارہ ہے، جو پینتالیس سے زیادہ زبانوں میں ان لوگوں کے لیے نشریات پیش کرتا ہے جہاں آزاد صحافت پر جزوی یا مکمل پابندی ہے۔ آوازِامریکا کی نشریات کا آغاز 1942ء میں ہوا اور اس کا عزم جامع، غیر جانبدار وسعت اور اپنے سننے، دیکھنے اور پڑھنے والوں تک سچ پہنچانا ہے۔ امریکی ایجنسی فار گلوبل میڈیا کا حصہ ہونے کی وجہ سے آوازِامریکا کا سالانہ خرچ امریکی محصول دہندگان اٹھاتے ہیں۔ آوازِامریکا کے مقصد اور ادارتی آزادی کی ضمانت کے لیے ایسے قوانین موجود ہیں جو اس کے صحافیوں کو بیرونی اثر، دباؤ اور حکومتی اہل کاروں یا سیاست دانوں کی انتقامی کار روائی سے بچاتے ہیں۔[1]وائس آف امریکا ریاست ہائے متحدہ امریکا کا سرکاری بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ہے، جس کاصدر دفتر واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے۔ اس کا قیام یکم فروری 1942ءکو ایسے وقت عمل میں لایا گیا، جب دنیا دوسری جنگ عظیم کی لپیٹ میں تھی اور دنیا بھر میں بسنے والے کروڑوں سامعین ریڈیو پر جنگی سرگرمیاں جاننے کے لیے بے چین تھے۔ ایسے میں ’وائس آف امریکا‘ نے انھیں باخبر رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ وائس آف امریکا ایک انتہائی فعال بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ہے، جس کی خدمات کا دائرہ دنیا بھر میں بولی جانے والی 40 سے زائد زبانوں تک پھیلا ہوا ہے؛ اور ایک محتاط اندازے کے مطابق، اس کے ہفتہ وار سامعین کی تعداد 164ملین سے زائد ہے۔ وائس آف امریکا اپنے سامعین کو انٹرنیٹ، موبائل ،سوشل میڈیا ،ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے خبریں ،اطلاعات ،معلومات اورثقافت سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ وائس آف امریکہکے مالی معاملات براڈ کاسٹنگ بورڈ آف گورنرزکی ذمے داری ہے جو براہ راست امریکی حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

افتتاحی دن، وائس آف امریکا کے ثاقب الاسلام اور عاصم اظہر کے ساتھ
واشنگٹن ڈی سی میں آوازِ امریکا کا صدر مقام۔

تاریخی پس منظر

ترمیم
شہر واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرے پرتشدد ہو گئے افتتاح 2017۔

یکم فروری 1942ءکو ایک آواز فضا میں گونجی:”ہم آپ کو وائس آف امریکا میں خوش آمدید کہتے ہیں“۔ یہ آواز ولیم ہارلین ہیل کی تھی،جس کے نشر ہوتے ہی بین الاقوامی میڈیا کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ یہ جملہ جرمن زبان میں ادا کیا گیاتھا۔ جرمن زبان بولنے والے صحافیوں کے ایک مختصر گروہ نے امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کے محض 56روز بعد، اس خبررساں ادارے کاآغاز کیا۔ وائس آف امریکا جرمن سروس کے ابتدائی اناوٴنسرز میں رابرٹ بائر بھی شامل تھے، جنھوں نے 1944ءمیں سب سے پہلے سامعین کو نارمنڈی پر تسلط کی خبر دی تھی۔

دوسری جنگ عظیم میں پرل ہاربر پر جاپان کے حملے سے قبل اگرچہ امریکی حکومت کی وزارت برائے اطلاعات و رابطہ کاری بھی رضاکارانہ طور پر خبریں فراہم کرتی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ عظیم دوئم سے قبل تمام امریکی ریڈیو اسٹیشنز کی باگ ڈور نجی ہاتھوں میں تھی۔ اس سے قبل، نیشنل براڈ کاسٹنگ کمپنی اور وہائٹ نیٹ ورک خبررساں ادارے کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن، اس کے باوجود، ایک سرکاری ترجمان کی حیثیت سے امریکی نشریاتی ادارے کی قیام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ اوریکم فروری وہ تاریخی دن تھا جب اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے ایک باقاعدہ سرکاری نشریاتی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا، جسے آج دنیا بھر کے سامعین ’وائس آف امریکا‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

یہ واشنگٹن کے انتہائی ہائی سیکیورٹی ایونٹ صدارتی تقریب حلف برداری ختم ہونے کے...

اس خبررساں ادارے کے باقاعدہ قیام سے قبل، امریکی صدر فرینکلن ڈیلا نوروز ویلٹ نے 14جولائی 1941ءکو فارن انفارمیشن سروس کی بنیاد رکھ دی تھی؛ اور اُس کے اگلے ہی برس، وائس آف امریکا، فارن انفارمیشن سروس کا حصہ بن گیا۔ بعد ازاں، امریکی صدر فرینکلن ڈیلا نوروز ویلٹ نے ایک نشریاتی ادارے کے قیام کی منظوری دی جس کے روح رواں کرنل ولیم ڈونووین اور رابرٹ شیرووڈ تھے۔ شیرووڈ امریکی صدر کی تقریر لکھنے پر بھی مامور تھے اور صدر کے مشیر اطلاعات بھی تھے۔ انھوں نے ہی اس کے قیام کا مشورہ دیاتھا؛ اورشیرووڈ ہی وہ شخص تھے جنھوں نے سب سے پہلے وائس آف امریکا کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

سنہ 1976میں امریکی صدرجیرالڈ فورڈ نے ایک قانون کی منظوری دی، جِس کے تحت، وائس آف امریکا کو مستقل طور پر معتبر اور مستند خبروں کے ذرائع کا درجہ حاصل ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد وائس آف امریکا کے لیے اگلا چیلنج امریکا اور سوویت یونین کے مابین سرد جنگ کا زمانہ تھا؛ اور اس کے بعد سے اب تک، اس نے ایک فعال نشریاتی ادارے کا کام سر انجام دیا ہے ۔

وائس آف امریکا کے چارٹر کے مطابق وائس آف امریکا کی خبریں جامع ،مکمل اور مستند ہوتی ہیں، جنہیں باوثوق ذرائع سے تصدیق کے بعد نشر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سامعین اسے ایک قابل بھروسا نشریاتی ادارہ سمجھتے ہیں۔

انتظامی امور

ترمیم

سنہ 1942سے 1945ءتک، وائس آف امریکا بعض ایجنسیز کا بھی حصہ رہی ہے؛ اور 1945ءسے 1953ءکے دوران اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت بھی کام کرتا رہا۔1953ءکے بعد یہ امریکی انفارمیشن ایجنسی کے ماتحت اور 1999ءکے بعد براڈ کاسٹنگ بورڈ آف گورنرز کے ماتحت آگئی، جو حکومت امریکا کے تحت کام کرتے ہیں۔ بعد ازاں، بورڈ فور انٹرنیشنل براڈ کاسٹنگ کے ماتحت آگئی۔ وائس آف امریکا ہزاروں صحافیوں اور نمائندگان پر مشتمل ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ امریکا سے باہر بھی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور امریکی حکومت کے تحت کنٹریکٹ پر دنیا بھر میں اپنے پیشہ وارانہ امور سر انجام دے رہے ہیں۔

صدر دفتر

ترمیم
نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے روز واشنگٹن ڈی سی کی صبح کیسی...

وائس آف امریکا نے ابتدائی طور پر اپنی نشریات یکم فروری 1942ءکو 270،میڈیسن ایونیو،نیو یارک سے پیش کیں۔ بعد ازاں، اس کا صدر دفتر امریکی دار الحکومت واشنگٹن ڈی سی منتقل ہو گیا۔ وائس آف امریکا کا موجودہ صدر دفتر330،انڈیپنڈنس ایونیو،مغربی واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے، جس کے تمام تر اخراجات امریکی حکومت کے ذمے ہیں۔ وائس آف امریکا کی 41زبانوں میں ویب سائٹس، سوشل میڈیا سائنس اور موبائل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔

اردو سروس کا آغاز

ترمیم

ٹیلی ویژن کے علاوہ آوازِامریکا کی ریڈیو خدمت بھی موجود ہے۔ یہ کئی زبانوں میں بہ شمول اردو میں دستیاب ہے۔[2]

قیام کے تھوڑے ہی عرصے بعد، وائس آف امریکا کا سلسلہ دیگر زبانوں تک وسیع ہونے لگااور آج نوبت یہ ہے کہ دنیا بھر میں بولی جانے والی 40 سے زائد زبانوں میں یہ اپنی خدمات پیش کر رہا ہے، جن میں اردو زبان بھی شامل ہے۔ وائس آف امریکا کی اردو سروس کا آغاز 1953ءمیں ہوا، جس کا مقصد برصغیر کی اردو سمجھنے والی آبادی تک پہنچنا تھا۔ کئی عشروں تک یہ سروس صرف ریڈیو تک محدود رہی۔ لیکن، 2005ءمیں ٹیلی ویژن اور اسی سال ویب سروس کا بھی آغاز کر دیا گیا۔ اِس وقت، وائس آف امریکا کی اردو سروس ویب گاہ کا شمار اردو کی چند مقبول ترین ویب سائٹس میں ہوتا ہے۔

ریڈیو سروس

ترمیم

وائس آف امریکا اردوکی ریڈیو سروس ’ریڈیو آپ کی دنیا‘ کہلاتی ہے، جس کے پروگرام میڈیم ویو 972 کلو ہرٹز پر پاکستانی وقت کے مطابق روزانہ شام 7 بجے شروع ہوتے ہیں اور صبح 7 بجے تک جاری رہتے ہیں۔ ان پروگراموں میں پاکستان، جنوبی ایشیا اور پوری دنیا کی تازہ ترین خبریں، حالاتِ حاضرہ، صحت، ادب و ثقافت، خواتین کے مسائل، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، امریکی زندگی اور عام دلچسپی کے دیگر موضوعات پر فیچرز سنوائے جاتے ہیں۔ پروگراموں کے دورا ن، مقبولِ عام پاکستانی اور بھارتی گیتوں کے ساتھ ساتھ مغربی موسیقی بھی پیش کی جاتی ہے۔ اس طرح، ’ریڈیو آپ کی دنیا ‘ایک ہی جگہ پر خبروں، معلومات اور تفریح کا ایک دلچسپ اور متوازن امتزاج پیش کرتاہے۔ جن سامعین کو خبروں اور حالاتِ حاضرہ سے خصوصی دلچسپی ہے، ان کے لیے وائس آف امریکا کی اردو سروس کے تحت ایک ایک گھنٹے کے دو خصوصی پروگرام ’ان دی نیوز‘ اور’راوٴنڈ ٹیبل‘ براہِ راست پیش کیے جاتے ہیں جو صرف خبروں اور حالاتِ حاضرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان پروگراموں میں ممتاز دانش ور اور مبصرین اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔

مقبول ریڈیو اور ٹی وی پروگرامز

ترمیم

وائس آف امریکہکی اردو سروس کے مقبول پروگرامز میں کہانی پاکستانی،زندگی 360، انڈپینڈنس ایونیو،کیفے ڈی سی اور واشنگٹن بیورو شامل ہیں ۔ ’ثنا، ایک پاکستانی‘ وائس آف امریکا اردو سروس کا مقبول ترین ٹیلی ویژن پروگرام تھا، جسے ہر جمعرات اور جمعے کو پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے ’آج‘ نیوز چینل پر پیش کیا جاتا تھا۔ نامور پریزینٹر، ثنامرزا کے برجستہ انداز اور پُراثر شخصیت کے ساتھ ساتھ اس پروگرام کے خصوصی فارمیٹ کوپاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے ناظرین کے ہر طبقے کی طرف سے نمایاں پزیرائی حاصل رہی، جسے ’ وائس آف امریکا کی ایک خصوصی پیش کش کا درجہ حاصل ہو چکا تھا۔ ’زندگی 360‘ میں زندگی کے ہر زاویہٴ نگاہ کو پیش کیا جاتا ہے۔ وائس آف امریکہکے ٹیلی ویژن پروگراموں میں یہ ایک ’خصوصی شو‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ ٹیلی ویژن شو، ہر جمعے کے روز پاکستان کے وقت کے مطابق شام سات بجے ’ہم‘ ٹیلی ویژن پرنشر ہوتا ہے۔ اِس شو نے بہت کم عرصے میں اپنے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی کاباعث شو کے پریزینٹرز، رضا نقوی اور شنالی سین کا انوکھا اور بے باک اندازِ بیاں ہے۔

ویب گاہ کا قیام

ترمیم

وائس آف امریکا کی اردو ویب کا باقاعدہ افتتاح 2006ءمیں ہوا، جِس نے گذشتہ سات برسوں کے دوران، ہراعتبار سے، اردو زبان کے ایک مقبول ترین عالمی ویب گاہ کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ ویب گاہ کا مطالعہ کرنے والے ہر طبقے کے لیے، حالاتِ حاضرہ، تجزیے، سیاست، سائنس، فنون، ایجادات، خواتین و نوجوانان سمیت اہمیت کے حامل تمام متعلقہ موضوعات پرتازہ ترین، جدید اور سیر حاصل مواد دستیاب ہے۔ ویب سائٹ پر نظر ڈالی جائے تو اِس کے مندرجات میں خبریں، پاکستان، امریکا، دنیا، سائنس و صحت، فلم و آرٹ، تعلیم و نوجوان، کھیل،موسم، خواتین، جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، مذہب و معیشت شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، ریڈیو، ٹیلی ویڑن اوربلاگز کے لیے علاحدہ صفحات کے علاوہ فوٹو گیلریز، آڈیو اور وڈیو، سٹیزن جرنلسٹس اورخصوصی رپورٹس کا مفصل و معیاری مواد موجود رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیو، ٹی وی، ویب پروڈیوسرز، ایڈیٹرز اور نامہ نگاروں کے اپنے انفرادی ویب پیج بھی موجود ہیں، جہاں اُن کی قابل رشک صحافتی کاوشیں قارئین، سامعین و ناظرین کا دھیان اپنی جانب مبذول کرانے کی بھرپور کشش رکھتی ہیں۔ اگر معیار، تصاویر اور اپ لوڈ اسپیڈ کو ہی مدنظر رکھا جائے، تو معلوم ہوگا کہ سات برس قبل اپ لوڈ، کونٹینٹ اور ملٹی میڈیا مینجمنٹ پلیٹ فارم کے لحاظ سے ’کامن اسپاٹ‘ اور ’کلک ایبلیٹی‘ کے بعد 2012ءمیں ’پینجیا ملٹی میڈیا پلیٹ فارم‘کی سہولت میسر آنے کے بعد، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ، ہر لحاظ سے، ویب گاہ ایک مثالی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ مزید یہ کہ ویب گاہ پر خبر اور رپورٹ کے چھپتے ہی وہ صرف ’ فیس بک‘ اور ’ٹوئٹر‘ کے مقبول ِ عام سماجی میڈیا کی زینت ہی نہیں بنتی، بلکہ روزانہ لاکھوں شائقین تک رسائی کے چیلنج کو بھی کامیاب کرکے دکھایا ہے، جسے اعداد و شمار کے پیمانے پر بخوبی پرکھا جا سکتا ہے۔’انٹر ایکٹیو‘ صحافت کے میدان میں پیش رفت کو دیکھنا ہو، تو ایک لمحے کے لیے ’آمنے سامنے‘کے عنوان سے ہر جمعرات کو’فیس بک ویکلی لائیو چیٹ‘ پر نظر ڈالیے ،جس کا بے لاگ انداز شائقین و شرکا کی دلچسپی کا منتظر ہے۔ وائس آف امریکہکی اردو ویب گاہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم اپنے سامعین کو انٹرویوز ،ٹویٹس اور تصاویرکے ذریعے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھتی ہے۔

اردو سروس کے سربراہ، فیض رحمان

ترمیم

دنیا کے ممتاز بین الاقوامی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی اردو سروس کے سربراہ فیض رحمان بین الاقوامی میڈیاکی انتہائی نامور اور قابل احترام شخصیت ہیں۔ امریکہمیں اعلیٰ پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے، فیض رحمن گذشتہ 20برس سے زائد عرصے پر محیط اپنے شاندار پیشہ وارانہ کریئر کے دوران، صحافت اورتحریر وتقریر کے شعبوں میں اپنی بھرپور صلاحیتو ں کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ لاس اینجلس سے شائع ہونے والے انگریزی ہفت روزہ ’پاکستان لنک/اردو لنک‘ کے بانی اوراس کے سابق مدیراعلیٰ بھی ہیں، ہفتہ وارمقبول ٹیلی ویژن شو ’کیفے ڈی سی‘ کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں اور ان کی تحریریں مقامی وبین الاقوامی سطح کے اخبارات وجرائد میں باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں، جن میں ڈیلی ڈان اور لاس اینجلس ٹائمزبھی شامل ہیں۔ یہ امریکی پاکستان فاوٴنڈیشن کی اسٹیرنگ کمیٹی کے بھی فعال رکن ہیں جس کا قیام امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ، ہیلری کلنٹن کی ایماٴپر عمل میں لایا گیاتھا۔

فیض رحمان نے اپنے پیشہ وارانہ کریئر کے دوران، عالمی سطح پر معروف کئی اہم رہنماوٴں کے انٹرویوز کیے جن میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف،فاروق لغاری، پاکستان کے وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو،میاں نواز شریف، شوکت عزیز، میرظفراللہ خان جمالی، بوسنیا کے وزیر اعظم حارث سلیجک،سابق امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ کونڈولیزا رائس، ڈپٹی سکریٹری آف اسٹیٹ جون نیگرو پونٹے،انڈر سکریٹری آف اسٹیٹ نکولس برنس، اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ رچرڈ باوٴچر،سابق بھارتی وزیر اعظم اندر کمار گجرال، امریکی سینیٹرز اور کانگریس کے اراکین شامل ہیں۔

فیض رحمان، سی این این، فوکس نیوز، اے بی سی نیوز، این پی آر، بی بی سی، ایم ایس این بی سی،پاکستان ٹیلی ویژن ،جیوٹیلی ویژن، اے آروائی اور دنیا ٹی وی جیسے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ٹی وی شوز اور این پی آر،بی بی سی اور کے ایف آئی لاس اینجلس کے ریڈیو پروگرامز میں بطور تجزیہ نگار مدعو کیے جاتے رہے ہیں؛ جبکہ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ ،لاس اینجلس ٹائمز ،یوایس ٹوڈے، دی بوسٹن گلوب،دی ٹائمز آف لندن، سینٹ پیٹرز برگ ٹائمز، فارورڈ،ڈان ،دی نیوز ،دی نیشن لاہور،اے پی ،اے ایف پی اورروئٹرز سمیت کئی بین الاقوامی شہرت یافتہ اخبارات اور نیوز ایجنسیز نے اِن کے انٹرویوز شائع کیے ہیں۔ 1996ءمیں فیض رحمان نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور امریکی خاتون اول ہیلری کلنٹن سے وائٹ ہاوٴس میں ملاقات کی اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور وائٹ ہاوٴس میں منعقدہ پریس بریفنگز میں مستقل بنیادوں پر شرکت کرتے ہیں۔

فیض رحمان نے صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات پرکانگریس مین، جے کم کی جانب سے کونگریشنل سرٹیفیکٹ سمیت بے شماراعزازات حاصل کیے ہیں، جن میں فالکن ایوارڈاورایل اے میڈیا ایسوی ایشن ایوارڈشامل ہیں، جبکہ انسانی حقوق اور کمیونٹی کے لیے اعلیٰ خدمات پر ہیومن ڈویلپمنٹ فاوٴنڈیشن سرٹیفیکٹ، ایم پی اے سی ایوارڈ،اور جامعہ کراچی کی جانب سے کمیونٹی سروس ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. وائس آف امریکا
  2. "وائس آف امریکا - VOA Urdu"۔ 29 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اپریل 2020