استلام کا مطلب ہے ہاتھ سے مس کرنا۔

رکن یمانی کے استلام کے مسائلترميم

رکن یمانی کا استلام مستحبات طواف میں سے ہے۔ بغیر بوسہ دینے اور پیشانی لگانے کے رکن یمانی کا استلام کرنا (یعنی ہاتھ سے مس کرنا) ہر جگہ میں ایسا کرنا مستحب ہے۔ اور استلام سے مراد یہاں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے یا صرف دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے رکن یمانی کو مس کرے ‘ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے مس نہ کرے ‘ اس کو بوسہ بھی نہ دے اور نہ اس پر سجدہ کرے “ یہ ظاہر الروایة ہے اور یہی صحیح ہے۔ اور جب ہجوم کی وجہ سے اس کو مس کرنے سے عاجز ہو تو اشارہ سے اس کا استلام کرنا اس کا قائم مقام نہیں ہے۔ ہجوم نہ ہونے کی صورت میں اور جبکہ وہ مس کرنے سے عاجز نہ ہو اشارہ سے استلام کرنا بدرجہ اولیٰ غیر معتبر ہے ‘ پس بعض جاہل ومتکبر لوگ جو ایسا کرتے ہیں ان کے فعل سے دھوکا نہیں کھا نا چاہیے۔[1]

رکن یمانی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرنا (مکروہ ہے) لیکن امام محمد کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔[2] حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور جگہ استلام کرنا مکروہ ہے ،پس دوسرے رکن یعنی رکن عراقی اور رکن شامی کا استلام اور ان کی طرف اشارہ کرنا مشروع نہیں ہے ‘ بلکہ باتفاق ائمہ اربعہ دونوں امر بدعت مکروہہ ہیں اور یہ کراہت تنزیہی ہے۔ اور یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ رکن حجر اسود اور رکن یمانی کی طرف اشارہ بھی عجز وہجوم کے بغیر غیر معتبر ہے ‘ یعنی عجز وہجوم کے وقت حجر اسود کی طرف اشارہ سے استلام کرنا بالاتفاق جائز بلکہ سنت ہے اور رکن یمانی کی طرف امام محمد کی روایت کے مطابق جائز ہے۔[2]


حوالہ جاتترميم

  1. عمدة الفقہ ،ج:4‘ ص:184‘ مستحبات طواف
  2. ^ ا ب عمدة الفقہ ،ج:4‘ ص:191 مکروہات طواف