امیر اسماعیل غزنوی 387ھ بمطابق 997ء کو بمقام بلغ تخت نشین ہوا۔ اس کو جانشین خود والد امیر ناصر الدین سبکتگین نے کیا تھا۔ سلطنت کے سلسلے میں امیر اسمعیل اور سلطان محمود غزنوی کے درمیان جنگ ہوئی جس میں محمود کامیاب رہا۔ جس وجہ سے امیر اسمعیل کو باقی زندگی قلعہ میں قید ہو کر گزارنی پڑی۔

اسمعیل غزنوی
معلومات شخصیت
پیدائش غزنی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام وفات میمنہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت غزنویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد سبکتگین  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
997  – 998 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سبکتگین 
محمود غزنوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

تخت نشینیترميم

جب امیر ناصر الدین سبکتگین نے دنیا سے رحلت کی تو اس وقت سیف الدولہ سلطان محمود نیشا پور میں مقیم تھا۔ اس وقت امیر سبکتگین کا چھوٹا بیٹا امیر اسمعیل اپنے باپ کی نصیحت کے مطابق بلغ میں اس کا جانشین ہوا۔ امیر اسمعیل نے لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے کی بہت کوشش کی۔ باپ کے جمع کردہ خزانے کو اہل لشکر میں فراخ دلی سے تقسیم کیا۔ لشکریوں کی دل جوئی اور خاطر داری پوری پوری طرح کی لیکن باوجود ان عنایتوں اور مہربانیوں کے اہل لشکر میں خود غرضوں کی طمع روز بروز بڑھتی چلی جاتی تھی۔ وہ ہر دن طرح طرح کے مطالبات کرتے رہتے اور کسی طرح بھی امیر اسمعیل کے قابو میں نہ آتے تھے۔

محمود غزنوی کا خطترميم

سلطان محمود کو نیشا پور میں جب امیر اسمعیل اور امرا کے درمیان ہونے والے معاملات کا علم ہوا تو اس نے اپنے بھائی کو اس بارے میں افسوس کا ایک خط لکھا۔ محمود نے وہ خط ابو الحسن حموی کے ہاتھ روانہ کیا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا کہ امیر ناصر الدین سبکتگین جو ہم سب کے پشت پناہ تھے وہ اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور ان کے بعد تم سے زیادہ مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ تم میری آنکھیں ہو اور جو بھی تمہاری خواہش ہو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن سلطنت کے قیام اور حکومت کے انتظامات کے لیے سن رسیدہ اور پختہ کار ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ اچھا معاملہ فہم ہو۔ اگر تم میں یہ صفات ہوتیں تو میں تم سے زیادہ کسی کی اطاعت کو ترجیح نہ دیتا۔ والد صاحب نے جو تم کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا تو اس کا سبب صرف مصلحت وقت اور سلطنت کی حفاظت تھا۔ میری دوری کی وجہ سے یہ امر ناگزیر تھا۔ اب وقت کی مصلحت یہ ہے کہ تم اچھائی اور برائی کے فرق کو سمجھو اور اس معاملے پر ٹھنڈے دل سے غور کرو۔ انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور جو کچھ باپ کا متروکہ ہے اسے شریعت کے مطابق تقسیم کرو۔ غزنی جو ہماری حکومت اور رعب داب کا سرچشمہ ہے مجھے دے دو تا کہ بلغ و خراسان کو دشمنوں سے پاک و صاف کر کے تمہارے حوالے کر دوں۔ امیر اسماعیل نے اپنے بھائی کے کہنے کی کوئی پروا نہ کی اور مخالفت پر ڈٹا رہا۔

فیصلہ کن جنگترميم

سلطان محمود نے جب یہ دیکھا کہ زبانی نصحیت سے کوئی کام نہیں چلتا تو اس نے اس مثل پر عمل کیا کہ آخری تنبیہ مار ہے۔ اپنے چچا معز الحق اور اپنے چھوٹے بھائی نصیر الدین کو ساتھ لے کر نیشاپور سے غزنی کی طرف روانہ ہوا۔ امیر اسمعیل بھی اپنے لشکر لے کر بلغ سے آگے بڑھا۔ جب دونوں بھائیوں کے لشکر آمنے سامنے آئے محمود نے آخری بار یہ کوشش کی کہ امیر اسمعیل جنگ سے باز رہے اور دونوں بھائیوں میں صلح ہو جائے لیکن اس کوشش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور اسمعیل اپنی ضد پر اڑا رہا۔ سلطان محمود نے ناچار اپنے لشکر کی صف آرائی کی اور اسمعیل بھی اپنے سرداروں کے ساتھ میدان جنگ میں آیا۔ اس نے اپنی فوج کا ہر پہلو پوری طرح درست کر لیا تھا اور کوہ پیکر ہاتھی اس کے ساتھ تھے۔ دونوں بھائیوں کی افواج میں معرکہ آرائی ہوئی اور میدان جنگ میں خون کی ندیاں بہ گئیں۔ آخر سلطان محمود نے اپنے قلب لشکر سے نکل کر دشمن پر ایک زبردست حملہ کیا۔ اس حملے سے فریق مخالف کے چھکے چھوٹ گئے۔ امیر اسماعیل کی فوج سرپر پاؤں رکھ کر بھاگی اور غزنی میں قلعہ بند ہو گئی۔ سلطان محمود نے ان لوگوں کو عہد و پیمان کے بعد قلعہ سے باہر نکالا اور ملک کے خزانے وغیرہ پر قبضہ کیا اور چند قابل اعتبار لوگوں کو وہاں کا عامل مقرر کر کے خود بلخ کی طرف روانہ ہو گیا۔

نظر بندیترميم

لڑائی کے چند روز بعد ایک دن امیر اسمعیل اور سلطان محمود دونوں بھائی آپس میں بیٹھے ہوئے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے۔ سلطان محمود نے کسی بہانے سے اس لڑائی کا ذکر چھیڑا اور اسمعیل سے پوچھا۔ اگر تمہاری قسمت یاوری کرتی اور تم جیت جاتے تو پھر میرے ساتھ کیا سلوک کرتے۔ اسمعیل نے جواب دیا میں نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ اگر مجھے فتح نصیب ہوتی تو تمھیں ایک قلعہ میں نظر بند کر دوں گا اور وہاں تمھیں راحت و آرام کا تمام سامان بہم پہنچاؤں گا۔ سلطان محمود کو جب اپنے بھائی کے دل کی بات معلوم ہو گئی تو اس نے لڑائی کے اس تذکرے کو ختم کیا اور خاموش ہو گیا۔ چند دنوں کے بعد سلطان محمود نے امیر اسمعیل کو جرجان کے قلعے میں نظر بند کر دیا اور اس کے لیے راحت و آرام کا تمام سامان بہم پہنچایا اور اس طرح امیر اسمعیل کا اپنے بھائی کے لیے جو خیال تھا وہ خود اس کی اپنی حالت پر صادق آیا۔ [1] یہ اسیری کا واقعہ 389ھ بمطابق 999ء کا ہے۔ امیر اسمعیل غزنوی 387ھ بمطابق 997ء سے 388ھ بمطابق 998ء تک تخت نشین رہا۔ اس کی مدت سلطنت ایک سال اور چند ماہ تھی۔ امیر اسمعیل نے حالت قید میں وفات پائی۔ [2]

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 57 ، 58
  2. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 34