اسٹینلے، جزائر فاکلینڈ

 

اسٹینلے (سابق نام پورٹ اسٹینلے، Stanley) برطانیہ کے زیر انتظام جزائر فاکلینڈ کا دار الحکومت اور واحد قصبہ ہے۔ یہ جنوبی امریکا کے ساحلوں کے قریب بحر اوقیانوس میں واقع فاکلینڈ کے مشرقی جزیرے پر واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریبا 2 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ یہ دنیا کا جنوبی ترین انتظامی مرکز ہے، چونکہ فاکلینڈ خود مختار ریاست نہیں ہے اس لیے یہ دنیا کا جنوبی ترین دار الحکومت نہیں ہے، یہ اعزاز نیو زیلینڈ کے دار الحکومت ویلنگٹن کو حاصل ہے۔

اسٹینلے، جزائر فاکلینڈ
Street in Stanley, Falkland Islands.jpg
 

اسٹینلے، جزائر فاکلینڈ
نشان

Falkland Islands map from CIA World Factbook.png
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1][2]
دارالحکومت برائے
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 51°41′38″S 57°50′58″W / 51.693861°S 57.849556°W / -51.693861; -57.849556[3]  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 51 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 2121 (31 دسمبر 2012)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
وہیتبی  ویکی ڈیٹا پر (P190) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوقات متناسق عالمی وقت−04:00  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 3426691  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Location of Stanley on East Falkland

تاریخترميم

اسٹینلے کے مقام پر پہلی نو آبادی کے قیام پر کام 1843ء میں شروع ہوا اور جولائی 1845ء میں اسے دار الحکومت بنایا گیا۔ اس کا نام اس وقت کے وزیر جنگ و نو آبادیات ایڈورڈ اسمتھ اسٹینلے سے موسوم ہے۔ یہ نو آبادی جلد ہی جہازوں کی مرمت کے لحاظ سے ایک اہم مقام اختیار کر گئی۔ آبنائے میگلان کے علاقے میں شدید ترین موسم اور طوفانوں کے باعث یہ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان آمدورفت کرنے والے جہازوں کے لیے اہم قیام گاہ کا درجہ رکھتی تھی۔ نہر پاناما کی تعمیر سے قبل بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان آنے جانے والے جہاز آبنائے میگلان کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ جہازوں کی مرمت اس وقت جزیرے کی سب سے اہم صنعت تھی۔ بعد ازاں جنوبی بحر اوقیانوس اور انٹارکٹیکا کے قریب وھیل مچھلیوں اور اودبلاؤ کا شکار اس علاقے کی اہم صنعت بن گیا۔

بعد ازاں یہ برطانیہ کی شاہی بحریہ کے لیے ایندھن کے حصول کا اہم مقام بنا اور یہیں موجود جہازوں نے پہلی جنگ عظیم میں معرکہ جزائر فاکلینڈ اور دوسری جنگ عظیم میں معرکہ ریور پلیٹ میں حصہ لیا۔ یہاں کا ہوائی اڈا انٹارکٹیکا میں برطانیہ تجربہ گاہوں سے رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ اسے 1979ء میں کھولا گیا تھا۔

1982ء میں جنگ فاکلینڈز کے دوران 10 روز کے لیے اسٹینلے پر ارجنٹائن کی افواج کا قبضہ ہو گیا جنہوں نے اس کا نام بدل کر پورتو ارجنتینو رکھا تاہم اب برطانیہ کے دوبارہ قبضے کے بعد اس کا پرانا نام بحال کر دیا گیا۔

جنگ فاکلینڈز کے اثرات اب بھی علاقے میں موجود ہیں اور شہر کے قرب و جوار میں کئی علاقے بارودی سرنگوں سے اٹے پڑے ہیں۔

سانچہ:فہرست جنوب امریکی دار الحکومت

  1.    "صفحہ اسٹینلے، جزائر فاکلینڈ في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولا‎ئی 2020ء. 
  2.     "صفحہ اسٹینلے، جزائر فاکلینڈ في ميوزك برينز.". MusicBrainz area ID. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولا‎ئی 2020ء. 
  3. ^ ا ب https://monumentos.cultura.gob.ar/