اشرفی سونے کا سکّہ ہوتا تھا جو پندرھویں صدی میں مصر میں برجی مملوک حکمرانوں نے جاری کیا تھا۔ پہلی اشرفی غالباً 1407ء میں بنائ گئی۔ اشرفی کا نام سلطان ال اشرف سیف الدین بارسبی (1438-1422 عیسوی) کے نام پر پڑ گیا جو مصر کا نواں برجی مملوک سلطان تھا۔ شروع میں اشرفی کا وزن 3.45 گرام ہوتا تھا مگر وقت بدلنے کے ساتھ اس کا وزن تبدیل ہوتا رہا۔ اشرفی کا سکہ اطالوی سونے کے سکے Ducat کی طرز پر بنایا گیا تھا جو اس زمانے میں بہت مقبول تھا۔
ایران میں جہانشاہ قراقویونلو (1438-1467) کے زمانے میں اشرفی کا وزن 3.9 گرام تھا۔ آق قویونلو کے زمانے میں اشرفی 3.4گرام کی تھی۔ شاہ اسماعیل صفوی کے دور حکومت میں اس کا وزن 3.52 گرام مقرر تھا۔ نادر شاہ افشار نے "مہر اشرفی" کے نام سے سونے کا سکہ جاری کیا جو ہندوستان کے مغل حکمرانوں کے معیار کے عین مطابق تھا۔ 1768ء میں مہر اشرفی کا وزن 11.01 گرام تھا۔

برٹش میوزیم میں موجود سلطان ال اشرف سیف الدین بارسبی (1438-1422 عیسوی) کے زمانے کی سونے کی اشرفی۔
1841ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا جاری کردہ گولڈ مہر۔ اس پر فارسی میں ایک اشرفی لکھا ہے۔

سلیمان اعظم کے زمانے میں اشرفی بنانے کے لیے 20 سے زیادہ ٹکسال سلطنت عثمانیہ میں موجود تھیں۔[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالے

ترمیم