الطاف فاطمہ

پاکستانی ناول نگار

الطاف فاطمہ (1927ء-2018ء) کا شمار پاکستان کی نامور ناول نگار، افسانہ نگار، مترجم اور معلم خواتین میں ہوتا ہے۔ [3]

الطاف فاطمہ

معلومات شخصیت
پیدائش 10 جون 1927ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ، برطانوی ہندوستان
وفات 29 نومبر 2018ء (91 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند [2]
پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عرفیت الطاف فاطمہ
مذہب اسلام
عملی زندگی
صنف ناول نگاری ، ترجمہ نگاری ، افسانہ نگاری
مادر علمی پنجاب یونیورسٹی
پیشہ ادب، تدریس
باب ادب

ابتدائی زندگی

الطاف فاطمہ کا تعلق ریاست پٹیالہ سے ہے۔ ان کے والد کا نام فضل امین تھا۔ الطاف فاطمہ لکھنوء میں 1927 میں پیدا ہوئیں۔ اسی جگہ انھوں نے ہوش سنبھالا اور لکھنؤ کی تہذیبی روایات کا اثران کی شخصیت پر پڑا۔ تقسیم ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آگئیں۔ یہاں لیڈی میکلیگن کالج سے بی ایڈ کیا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کرنے کے بعد اسلامیہ کالج برائے خواتین لاہور میں اردو کی استاد مقرر ہوئیں۔ اور اسی کالج سے شعبہِ اردو کی سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں۔

تخلیقی سفر

الطاف فاطمہ کا پہلا افسانہ انيس سو باسٹھ ميں لاہور کے موقر ادبي جريدے ’ادب لطيف‘ ميں شائع ہواتھا۔[4]الطاف فاطمہ کے افسانے ملک کے مشہور جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ چارناول (نشان محفل) (دستک نہ دو) (چلتا مسافر) (خواب گر) چھپ چکے ہیں۔ (اردو میں سوانح نگاری) ایک اچھی تنقیدی کتاب ہے۔ افسانوں کے چار مجموعہ وہ جسے چاہا گیا، تار عنکبوت، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، دید وادید، گواہی آخر شب کی بھی شائع ہو چکے ہیں۔ الطاف فاطمہ نے ہمیشہ ناول اور افسانے اس قدر فن کی گہرائی میں ڈوب کر لکھے کہ بقول ان کے سقوط ڈھاکہ پر انھوں نے اپنا ناول چلتا مسافر دس برس ميں مکمل کيا تھا۔ الطاف فاطمہ 29نومبر 2018 کو وفات پا گئیں۔ [5]

ناول

  1. دستک نہ دو (ناول) 1964ء [6]
  2. نشان ِ محفل (ناول) 1975ء [7]
  3. چلتا مسافر (ناول) 1980ء
  4. خواب گر (ناول)2008ء

افسانوی مجموعے

  1. تار ِ عنکبوت (افسانے) 1990ء [8]
  2. جب دیواریں گریۂ کرتی ہیں (افسانے) 1988ء
  3. وہ جسے چاہا گیا (افسانے) مکتبۂ اُردو ڈائجسٹ۔ لاہور 1969ء
  4. دید وادید (افسانے) جمہوری پبلیکیشنز لاہور 2017ء انفاق فاؤنڈیشن، کراچی لٹریچر فیسٹیول کی جانب سے انعام یافتہ [9]
  5. گواہی آخر شب کی (افسانے) جمہوری پبلیکیشنز لاہور 2018 [10]

تنقید

  1. اُردو میں فن ِ سوانح نگاری اور اس کا ارتقا (تحقیق و تنقید ) کراچی،اُردو اکیڈمی سندھ۔ اپریل 1961ء [11]

متفرق

  1. روزمرہ آداب (1963ء)

تراجم

  1. جاپانی افسانہ نگار خواتین (ترجمہ) نوریکو مینرو ٹالپٹ،کیو کواربے سیلڈن،الطاف فاطمہ،مترجم،لاہور،گورا پبلشرز، 1994ء
  2. سچ کہانیاں : بنگالی، گجراتی،مراٹھی،تامل اور ہندی افسانے لاہور۔ 2000ء [12]
  3. بڑے آدمی اور ان کے نظریات،سیاسی مضامین
  4. نغمے کا قتل ، ہارپر لی [13]
  5. حویلی کے اندر، رما مہتہ
  6. میرے بچے میری دولت، ڈیبی ٹیلر [14]
  7. موتی، جان سٹین بیک
  8. زیتون کے جھنڈ، ایلسا مارسٹن، (2016)
  9. لاطینی امریکی خواتین کے افسانے

حوالہ جات