العزیز محمد بن غازی

العزیز محمد بن غازی (انگریزی: Al-Aziz Muhammad) ایوبی سلطنت میں حلب کے امیر تھے۔ وہ الظاہر غازی کے بیٹے اور صلاح الدین ایوبی کے پوتے تھے۔ ان کی والدہ ضیفہ خاتون صلاح الدین ایوبی کے بھائی ملک عادل کی بیٹی تھیں۔

العزیز محمد بن غازی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1213  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 26 نومبر 1236 (22–23 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Ayyubid Dynasty.svg ایوبی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد الظاہر غازی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ضیفہ خاتون  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان ایوبی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ مقتدر اعلیٰ،  حاکم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

الظاہر غازی کی 1216ء میں وفات کے وقت ان کی عمر صرف تین سال تھی۔ انہیں فوری طور پر حلب کا حکمران تسلیم کر لیا گیا۔ ایک انتظامی ریاستی کونسل تشکیل دی گئی جس نے شہاب الدین کو ان کا سرپرست، اتابک اور مدارالمہام مقرر کیا گیا۔

حکومتترميم

ملک العزیز کو 17 سال کی عمر میں ہی مکمل اقتدار حاصل ہوا جب انہوں نے شہاب الدین طغرل سے اختیارات لے کر انہیں خزانچی بنا دیا گیا۔ ملک العزیز اپنے دور حکومت میں ملکی جھگڑوں میں الجھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر طرف امن ہو اور ہر طرف امن ہو اور ہر کوئی خوش رہے اسی وجہ سے انہوں نے ان جنگوں میں شرکت نہیں کی جو ایوبیوں اور ترک سلجوقوں کے درمیان ہوئیں۔

شادیترميم

سلطان العزیز کی شادی "الکامل" کی بیٹی فاطمہ خاتون سے ہوئی۔ ان کی بیوی کو تعمیرات کا بے حد شوق تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کئی مدرسے تعمیر کیے۔

وفاتترميم

ان کی وفات 26 نومبر 1236 کو صرف تیئس سال کی عمر میں ہو گئی۔ انہوں نےدو بچے الناصر اور غازیہ خاتون چھوڑے۔ غازیہ خاتون کی شادی سلجوقی سلطان کیخسرو دوم سے ہوئی۔ وفات کے وقت بیٹے کی عمر صرف سات سال تھی اس لیے ان کی والدہ نے اقتدار سنبھال لیا۔

اخلاقی و دینی حالتترميم

وہ اپنے والد کی طرح نرم دل انسان تھے۔ ان کے والد خود حضرت محی الدین ابن العربی سے عقیدت رکھتے تھے[حوالہ درکار]۔ اس لیے یہ گھرانہ دین دار تھا۔

فکشن میںترميم

ارطغرل غازی نامی ڈرامے میں محمد امین اِنجی (ترکی: Mehmet Emin İnci) نامی ایک شخص بطور ملک العزیز ظاہر ہوا۔ اس میں کسی حد تک ان کا کردار منفی انداز میں دکھلایا گیا ہے۔

حوالہ جاتترميم