العنود الشرخ ( عربی: العنود الشارخ ) کویت میں خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں جو ابولیش 153 بانی رکن ہیں (جسے ابولیش آرٹیکل 153 بھی کہا جاتا ہے جو کویت میں غیرت کے نام پر قتل کو ختم کرنے کی ایک مہم ہے۔ انہیں آرڈر نیشنل ڈو میرائٹ سے نوازا گیا ہے اور انہیں 2019ء میں بی بی سی کی 100 خواتین میں شامل کیا گیا تھا۔

العنود الشارخ
معلومات شخصیت
پیدائش 20ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Kuwait.svg کویت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد الشارخ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فہد الشارخ  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس چاتہم ہاؤس
Ibtkar Strategic Consultancy
جامعہ کویت
گلف جاقعہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی
عرب اوپن یونیورسٹی
کیوت نیشنل سیکورٹی بیورو
مقالات Angry words softly spoken: a comparative study of English and Arab women novelists
مادر علمی اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ اکیڈمک  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نوکریاں جامعہ کویت  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

العنود کی پیدائش کویت میں ہوئی۔[2] انھوں نے البیان بولینگوئل اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور 1992ء میں گریجویشن کر لیتیں لیکن کویت پر حملے کی وجہ سے ان کی تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔[3] کنگز کالج لندن میں انھوں نے انگریزی ادب کا مضمون رکھا۔[4] اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن میں عملی لسانیات میں جانے سے قبل، [5] 1996ہ میں انھوں نے بیچلر کر لیا۔[3]

اعزازاتترميم

  • غیر ملکی جریدے میں بہترین اشاعت کے لیے 2013ء دوحہ انسٹی ٹیوٹ برائے گریجویٹ اسٹڈیز عرب انعام برائے سوشل سائنس اور ہیومینٹیز ریسرچ
  • 2015ء انسانی حقوق کے لیے یورپی یونین کا چالوٹ انعام [6]
  • 2016ء آرڈر نیشل ڈو مورائٹ [7]
  • 2019ء نمایاں عرب عورت [8]
  • 2019ء بی بی سی 100 خواتین [9]

حوالہ جاتترميم

  1. BBC 100 Women 2019
  2. "Al Sharekh". UNESCO (بزبان انگریزی). 2015-11-26. اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 
  3. ^ ا ب "Alumni Highlight: جولائی 2015" (PDF). BBS. اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 
  4. "Dr. Alanoud Alsharekh". WiDS @ PAAET (بزبان انگریزی). 09 اپریل 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 
  5. "Founding Members". Abolish Article 153. 13 مئی 2018. اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2020. 
  6. AlYagout، Nejoud (7 Nov 2017). "Abolish Article 153 group fights for women's empowerment". Kuwait Times. اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 
  7. "The Kuwaiti French Embassy Celebrates Dr Alanoud Alsharekh's Top Honour". Harper's BAZAAR Arabia (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 
  8. Webneoo. "Takreem | A better image of the Arab world". www.takreem.net (بزبان انگریزی). 07 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 
  9. StepFeed (2019-10-17). "All the Arab women who made it to BBC's '100 Women List'". StepFeed (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 19 اکتوبر 2019. 

بیرونی روابطترميم