مرکزی مینیو کھولیں
عالمی سطح پر ناموسی قتل کے معاملوں کا جائزہ لیتی ایک کتاب

ہرسال دنیا کے 31 سے زائد ممالک میں ہزاروں عورتوں کو ان ہی کے عزیز و اقارب کی جانب سے خاندان کی عزت و آبرو کے تحفظ کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ قاتلوں کا ایقان ہوتا ہے کہ ان کی شناخت خاندان کے نام و شہرت سے جڑی ہے۔ اس کی وجہ سے جب بھی خاندان کو بدنامی کا اندیشہ ہوتا ہے، رشتے دار قاتل بنتے ہیں۔ وہ قتل ہی کو صورت حال کا واحد حل تصور کرتے ہیں۔ یہ رسم بھارت، پاکستان اور عرب ممالک میں بہت حد تک پھیلی ہوئی ہے۔

فہرست

قتل کے وجوہترميم

خاندان کے قتل پر آمادہ ہونے کی وجہ دراصل کسی لڑکی کی کسی لڑکے سے بڑھنے والی قربت ہے۔ یہ معاملہ صرف ملاقاتوں تک محدود ہو سکتا ہے، جسمانی تعلقات تک آگے بڑھ سکتا ہے یا جیساکہ اکثر ترقی پزیر ممالک "خانہ آبادی" کے نام سے شادی کو موسوم کیا گیا ہے، اسی منطقی حد تک پہنچ سکتا ہے۔ کئی جگہوں پر لڑکیوں کو اپنے شریک حیات کے انتخاب کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اگر لڑکی کبھی ذات، برادری یا مذہب سے باہر کے لڑکے کو چنتی ہے، تو یہ اور بھی فتنہ و فساد اور قتل وخون کی نوعیت لے سکتا ہے۔

بھارت میں عزت و آبرو سے جڑے قتل کے معاملےترميم

حالانکہ عزت و آبرو سے جڑے قتل کے معاملے بھارت کے کئی شہری اور دیہی علاقوں میں رونما ہوئے ہیں، تاہم ان واقعات کی کثرت گاؤں کے علاقوں میں زیادہ ہے۔

ان واقعات کے پس پردہ جو وجوہ ہیں وہ اس طرح ہیں:

  • معاشقہ
  • ذات برادری کے باہر شادی
  • ناجائز تعلقات

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

بیرونی ربطترميم