کسی لہر ( یا موج ) کا رفتار کی تبدیلی کی وجہ سے مڑ جانا انحراف (refraction) کہلاتا ہے۔ ایسا عموماً تب ہوتا ہے جب ایک موج ایک واسطہ (medium) سے دوسرے واسطہ میں داخل ہوتی ہے۔ چونکہ مختلف واسطوں میں موج کی رفتار مختلف ہوتی ہے اس لیے موج کے بڑھنے کی سمت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ زیادہ تر روشنی کے انحراف (انحراف نور ) کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے مگر انحراف ہر طرح کی موجوں میں ہوتا ہے خواہ وہ روشنی کی ہوں یا آواز کی یا پانی کی۔ قوس قزح یا دھنک، سراب اور Fata Morgana کی وجہ انحراف نور ہی ہے۔

روشنی کا ہوا سے کسی کثیف واسطے میں داخل ہونے پر عمود (normal) کی طرف مڑ جانا انعطاف نور کی وجہ سے ہوتا ہے

یہاں θ1 روشنی کا عمود (normal) کے ساتھ انحراف سے پہلے کا زاویہ ہے اور θ2 انحراف کے بعد کا زاویہ۔ v1 اور v2 لطیف اور کثیف واسطوں میں روشنی کی رفتار ہے۔ n1 اورn2 لطیف اور کثیف واسطوں کے انحراف نما (refractive index) ہیں۔ اگر پانی یا شیشے کا انحراف نما معلوم ہو ( جو با آسانی معلوم کیا جا سکتا ہے ) تو پانی اور شیشے میں روشنی کی رفتار معلوم کی جا سکتی ہے۔
شیشے میں روشنی کی رفتار روشنی کے تعدد (frequency) پر منحصر ہوتی ہے یعنی شیشے میں لال رنگ کی رفتار زیادہ ہوتی ہے اور نیلے نگ کی کم۔ اسی وجہ سے روشنی منشور میں سے گذر کر اپنے رنگوں میں بکھر جاتی ہے جسے انتشار نور dispersion کہتے ہیں۔

منشور میں سے روشنی گذر کر اپنے رنگوں میں بکھر جاتی ہے کیونکہ شیشے میں مختلف رنگوں کی رفتار مختلف ہوتی ہے
انحراف نور کی وجہ سے پانی کی گہرائی کم نظر آتی ہے

تاریخ

ترمیم

اس مظاہرہ کے متعلق مباحثہ پہلی بار عرب ریاضی دان اور طیبیعیات دان ابن سہل نے 984ء اپنے مقالہ میں کیا۔[1]

 
انحراف نور کی وجہ سے پانی میں پڑی ہوئی نلکی ٹوٹی ہوئی نظر آتی ہے

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Jeremy Norman's HistoryofInformation.com"۔ First Discovery of the Law of Refraction 984 

مزید دیکھیے

ترمیم