ایکتا (فلم)

سندھی سنیما کی پہلی سندھی فلم

ایکتا (انگریزی: Ekta)، پہلی سندھی فلم تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار ھومی واڈیا اور پروڈیوسر رام پنجوانی تھے۔ فلم بنانے کی شروعات 1934 میں ہوئی اور 6 سال بعد 1940 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ واڈیا مووی ٹون اسٹوڈیو، ممبئی سے بننے والے اس فلم کے اداکار کریم بخش نظامانی اور اداکارہ کوشیلایا بیگ تھیں۔[1][2] فلم کا موضوع ہندو مسلم اتحاد تھا۔[3] اس پہلے سندھی فلم کا دورانیہ اپنے ہمعصر فلموں سے کم تھا۔[4]

ایکتا
ہدایت کارھومی واڈیا
پروڈیوسررام پنجوانی
تحریرکھیئلداس فانی
ستارےکریم بخش نظامانی
کوشیلایا بیگ
مایا دیوی
ہری شو داسانی
چانڈو شو داسانی
گلشن صوفی
موسیقیگلشن صوفی
پروڈکشن
کمپنی
واڈیا مووی ٹون اسٹوڈیو، ممبئی
تاریخ نمائش
1940
ملکبرطانوی ہندوستان
زبانسندھی


نمائشترميم

ایکتا کی نمائش کراچی کے اس وقت کے مشہور سینیما تاج محل میں دہل شرنایوں سے ہوا۔ تقریب نمائش میں وزیر اعلیٰ سندھ اللہ بخش سومرو، جمشید نسروانجی، جمشید واڈیا اور فلم پروڈیوسر رام پنجوانی شامل ہوئے۔[2]

گانےترميم

اس فلم میں دو گانے شامل تھے اور شاعری کھیئلداس فانی کی تھی۔

ترتیب گانا شاعری آواز
1 مونکھی ننڈڑی بھیں کپھی (اردو: مجھے چھوٹی سے بہن چاہیے) کھیئلداس فانی گلشن صوفی اور کوشیلایا بیگ
2 بھلو آھی سارے جہاں کھان (اردو: اچھا ہے سارے جہاں سے) کھیئلداس فانی گلشن صوفی اور کوشیلایا بیگ

حوالہ جاتترميم

  1. مغيري، عبدالمجيد (22 April 2018). "سنڌي فلمن جي سار ڪير لهندو!؟". روزاني عوامي آواز. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 جولا‎ئی 2018. 
  2. ^ ا ب "ايڪتا". encyclopediasindhiana.org. Encyclopedia Sindhiana. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 جولا‎ئی 2018. 
  3. Firoze Rangoonwalla (1975). 75 years of Indian cinema. Indian Book Co. صفحہ 130. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018. 
  4. Roshni، Nair (5 April 2015). "Will the lights go out on Sindhi cinema?". DNA India. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018.