باب:کورونا وائرس مرض 2019ء


باب کورونا وائرس
مرکزی صفحہ   اشاریہ   منصوبے

کورونا وائرس مرض 2019ء کا تعارف

کورونا وائرس کا ویراون ہیئت

کورونا وائرس مرض 2019ء (COVID-19) ایک متعدی بیماری ہے جو انتہائی مہلک تنفسی سینڈروم کورونا وائرس 2 (SARS-CoV-2) سے ہوتی ہے۔ یہ مرض دنیا بھر میں 2019ء سے پھیلا اور جلد ہی عالمگیر وبا کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کی عمومی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس میں گھٹن شامل ہیں۔ پٹھوں کا درد، تھوک کا آنا اور گلے کی سوزش ذرا نادر علامتیں ہیں۔ اکثر کیسوں میں کم علامتیں دیکھی گئیں، کچھ معاملات میں مریض نمونیا اور متعدد اعضا کے ناکارہ پن کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ تشخیص شدہ معاملات میں اموات کا تناسب 1 فیصد اور 5 فیصد کے درمیان میں ہے لیکن عمر اور صحت کی دوسری نوعیتوں کے لحاظ سے تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔

کورونا وائرس کا مرض 2019ء کے متعلق مزید پڑھیں۔۔۔

منتخب مضمون

وبا کی وجہ سے لوگوں نے کثیر مقدار اشائے خوردونوش کی خریدار کر لی تھی۔
کورونا وائرس کی عالمی وبا، 2019ء - 2020ء ایک عالمگیر وبا ہے جو کورونا وائرس مرض کے پھیلنے سے دنیا بھر میں پھوٹ پڑی ہے۔ اس وبا کا باعث سارس کووی 2 نامی وائرس ہے جس کی بنا پر انسانوں کا نظام تنفس شدید خرابی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ دسمبر 2019ء میں چینی صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان میں وبا کا ظہور ہوا اور اس برق رفتاری سے پھیلا کہ چند ہی مہینوں کے بعد 11 مارچ 2020ء کو عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا۔ مارچ تک 200 ملکوں کے مختلف خطوں میں اس وبا کے 549,000 سے زائد متاثرین کی اطلاع آچکی ہے جن میں سے 24,800 افراد اس مرض سے جانبر نہ ہو سکے اور لقمہ اجل بن گئے، جبکہ 128,000 متاثرین کے صحت یاب ہونے کی اطلاع ہے۔ کووڈ-19 کا یہ وائرس خصوصاً کھانسی یا چھینک کے دوران میں ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ عموماً کسی شخص کو یہ وائرس اس وقت لاحق ہوتا ہے جب وہ کسی متاثرہ شخص کے انتہائی قریب رہے لیکن اگر مریض کسی چیز کو چھوتا ہے اور بعد ازاں کسی شخص نے اسے چھو کر اپنے چہرے کو ہاتھ لگا لیا تو یہ وائرس اس کے اندر بھی منتقل ہو جائے گا۔ اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب کسی شخص میں اس کی علامتیں ظاہر ہو جائیں۔ کسی متاثرہ شخص میں اس مرض کی علامتیں ظاہر ہونے کے لیے دو سے چودہ دن لگتے ہیں۔ عمومی علامتوں میں بخار، کھانسی اور نظام تنفس کی تکلیف قابل ذکر ہیں۔ مرض شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیا اور سانس لینے میں خطرناک حد تک دشواری جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ اب تک اس مرض کی کوئی ویکسین ایجاد ہوئی ہے اور نہ وائرس کش علاج دریافت ہو سکا ہے۔ اطبا مریض میں ظاہر ہونے والی علامتوں کو دیکھ کر ابتدائی علاج تجویز کرتے ہیں۔ وبا سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کو بار بار دھونے، کھانستے وقت منہ کو ڈھانپنے، دوسروں سے فاصلہ رکھنے اور مکمل علاحدہ رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نیز جو افراد مشکوک ہیں انہیں 14 دن تک گھریلو قرنطینہ میں رکھنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

منتخب سوانح

Fatemeh Rahbar.jpg
فاطمہ رہبر (فارسی: فاطمہ رهبر‎ (1964ء - 7 مارچ 2020ء) ایک ایرانی سیاست دان اور مصنفہ تھیں جو مجلس ایران کی 2004ء سے 2016ء کے دوران میں تین مرتبہ ساتویں، آثھویں، نویں مدت کے لیے تہران، رے، شمیرانات اور اسلامشہر انتخابی حلقے سے رکن ایرانی پارلیمار رئیں۔ فاطمہ نے بصری مواصلات میں ای ماے کیا اور پھر انتظامی حکمت عملی میں پی ایچ ڈی کی۔ وہ انٹرنیٹ نیٹ ورک کی پروڈکشن منیجر اور انٹرنیٹ حکمت عملی سے متعلق سپریم کونسل کی سکریٹری کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ چوتھی بار بھی رکن پارلیمان منتخب ہوئیں، لیکن آخری بار منتحب ہونے کے بعد، ابھی خدمات شروع نہیں کیں تھیں، کہ کرونا وائرس کی وجہ سے 5 مارچ کو کوما میں چلی گئیں اور اسی وبا سے 7 مارچ کو وفات ہوئی۔ مکمل مضمون پڑھیں۔۔۔

منتخب تصویر

COVID-19 Health care limit-ur.svg
تصویر ساز: صارف:Yethrosh

کورونا وائرس کی وبا کے متاثرین کو طبی سہولت کی فراہمی کی محدودیت


موضوعات