بادشاہ بیگم ملکہ الزمانی

مغل شہنشاہ محمد شاہ کی بیوی اور مغل ملکہ۔

بادشاہ بیگم ملکہ الزمانی (پیدائش: 1703ء– وفات: 14 دسمبر 1789ء) سلطنت مغلیہ کی ملکہ اور مغل شہنشاہ محمد شاہ کی زوجہ تھیں۔ بحیثیت مغل ملکہ ہندوستان انھوں نے 26 سال حکومت کی اور اِس مدت میں ہندوستان کی تاریخ کے نشیب و فراز دیکھے۔ اُن کی کوششوں کے سبب سے اُن کا سوتیلا بیٹا احمد شاہ بہادر تخت نشین ہو سکا۔

بادشاہ بیگم ملکہ الزمانی
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1703ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 دسمبر 1789ء (85–86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مغلیہ سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات محمد شاہ (8 دسمبر 1721–26 اپریل 1748)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد فرخ سیر   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان تیموری خاندان   ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ہمسر ملکہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
9 دسمبر 1721  – 26 اپریل 1748 
در مغلیہ سلطنت  

ابتدائی زندگی

ترمیم

بادشاہ بیگم کی پیدائش 1114ھ مطابق 1703ء میں بنگال صوبہ میں ہوئی۔ اُس وقت ہندوستان پر مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی حکومت قائم تھی۔ بادشاہ بیگم کے والد فرخ سیر تھے جو بعد ازاں مغل شہنشاہ بنے۔ بادشاہ بیگم کی والدہ گوہرالنساء بیگم فرخ سیر کی پہلی بیوی تھیں۔ بادشاہ بیگم کو تعلیم کا اعلیٰ موقع میسر آیا اور وہ تعلیم یافتہ مغل شہزادیوں میں شمار کی جاتی تھیں۔ فطرتاً ذہین اور عالی دماغ تھیں اور اپنے شوہر محمد شاہ کی حکومت کے دوران اور بعد میں بھی سیاسی و خارجی معاملات میں شریک رہیں۔

مغل شہنشاہ سے عقد

ترمیم

1133ھ مطابق 1721ء میں بادشاہ بیگم کا عقد مغل شہنشاہ محمد شاہ سے ہوا۔ محمد شاہ کے والد خجستہ اختر جہاں شاہ اور بادشاہ بیگم کے دادا عظیم الشان بھائی تھے جبکہ خجستہ اختر جہاں شاہ مغل شہنشاہ بہادر شاہ اول کے بیٹے اور اورنگزیب عالمگیر کے پوتے تھے۔ نکاح کے بعد بادشاہ بیگم کو ملکہ الزمانی کا خطاب دیا گیا مگر جلد ہی انھیں پادشاہ بیگم کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔

بحیثیت والدہ

ترمیم
 
بادشاہ بیگم ملکہ الزمانی درشن جھروکہ میں۔

بادشاہ بیگم کے ایک فرزند شہریار شاہ بہادر متولد ہوا مگر وہ کم سنی میں انتقال کرگیا جس کے بعد کوئی اولاد نہ ہوئی۔ جب مغل شہنشاہ محمد شاہ نے حرم کی ایک کنیز ادھم بائی المعروف قدسیہ بیگم سے روابط بڑھائے تو بادشاہ بیگم ایک حد تک اِس رشتہ سے الگ تھلگ رہیں لیکن بادشاہ بیگم شہنشاہ کی منظور نظر رہیں۔ 23 دسمبر 1725ء کو قدسیہ بیگم سے ایک بیٹا احمد شاہ بہادر پیدا ہوا۔ یہ لڑکا پرورش اور نگرانی کے لیے بادشاہ بیگم کے زیر سایہ رہا۔ بادشاہ بیگم اِس سے بہت محبت کیا کرتی تھیں اور محمد شاہ کی وفات کے بعد 26 اپریل 1748ء کو احمد شاہ بہادر کو تخت نشیں کروایا۔ یہ سیاسی طور پر ایک منظم حکمت عملی تھی جسے بادشاہ بیگم نے فوراً نبھایا۔

سیاسی حالات

ترمیم

بادشاہ بیگم سلطنت مغلیہ کے زوال کے دور میں وہ آخری ملکہ تھیں جنہیں مکملاً اختیار و اقتدار میسر رہا۔ دربارِ شاہی، عدالتی نظام اور سیاسی معاملات میں بااقتدار ملکہ تھیں جن کی رائے واجب الاحترام سمجھی جاتی تھی۔ محمد شاہ کے ابتدائی دورِ حکومت میں ہی وہ نظام سلطنت سے وابستہ ہو گئی تھیں اور معاملات و انتظامات میں اُن کی رائے تسلیم کی جاتی تھی۔ بادشاہ بیگم کے خطاب سے سرفراز ہوئیں تو محمد شاہ کے بعد اُن کا سیاسی اقتدار بہت بڑھ چکا تھا۔ انتظامِ سلطنت میں وہ دربارِ شاہی کی وزیر کی حیثیت سے سمجھی جاتی تھیں۔ محمد شاہ کی وفات کے بعد احمد شاہ بہادر کو جس طرح سرعت انگیزی سے تخت نشیں کروایا، یہ اُن کی سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا کہ سلطنت مغلیہ میں بگاڑ کا خطرہ موجود تھا اور دوسری جانب نطامِ سلطنت بکھر رہا تھا۔ اِن حالات میں اُن کا عالی و سیاسی دماغ سلطنت کے معاملات کو نپٹانے میں مصروف عمل رہا۔ 1748ء سے 1789ء تک وہ مغل دربار کی معزز ترین بزرگ ملکہ تھیں اور باقاعدہ اُن سے نظامِ سلطنت کی بحالی و برقراری اور تہواروں کے مواقع پر دعا کروائی جاتی تھی۔ 1788ء میں جب غلام قادر روہیلہ نے دہلی اور مغل دربار پر قبضہ کر لیا تو وہ مغل خاندان کی سربرآوردہ بزرگ خاتون تھیں جن کے زیر عاطفت کئی شہزادے اور متعدد شہزادیاں تھیں۔ 1788 میں شاہ عالم ثانی کے نابینا کیے جانے کا واقعہ اُن کے سامنے پیش آیا اور اِس واقعہ کے قلیل مدت کے بعد انتقال کرگئیں۔ بادشاہ بیگم تقریباً 9 دہائیوں تک ہندوستان کی تاریخ کی عینی شاہد تھیں۔

وفات و تدفین

ترمیم

بروز پیر 26 ربیع الاول 1204ھ مطابق 14 دسمبر 1789ء کو لال قلعہ، دہلی میں وفات پائی۔ اُس وقت عمر شمسی اعتبار سے 86 سال اور قمری اعتبار سے 90 سال تھی۔ تدفین پرانی دہلی کے تیس ہزاری باغ میں کی گئی۔ اُس وقت شاہ عالم ثانی کا دورِ حکومت تھا۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم